A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

’’یہ ایک شہید کا فرزند ہے ،جانتے ہو میں اسے تعلیم کیوں نہیں دلانا چاہتا‘‘ پنکچر لگانے والے کی بات نے اشفاق احمد کو دنگ کردیا،اس نے ایسا کیوں کہا،جان کر آپ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے

’’یہ ایک شہید کا فرزند ہے ،جانتے ہو میں اسے تعلیم کیوں نہیں دلانا چاہتا‘‘ پنکچر لگانے والے کی بات نے اشفاق احمد کو دنگ کردیا،اس نے ایسا کیوں کہا،جان کر آپ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے

Dec 26, 2017 | 19:37:PM

لاہور (ایس چودھری)یہ سوال ہمیشہ اٹھایاجاتا ہے کہ اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان کس نے پہنچایا ہے،ان پڑھوں نے یا پڑھے لکھوں نے ؟اس پربہت سی بحثیں ہوتی ہیں ،اردو ادب کے کوہ گراں بابا اشفاق نے اپنے صوفیانہ انداز میں اس پہلو کو کئی جگہ بحث کے لئے اٹھایا اور لوگوں کے اندر تعلیم اور حب الوطنی کے تعلق کو واضح کرنے کے اس واقعہ کو بیان کیا ہے کہ ایک ان پڑھ اپنے ملک کے لئے کیا سوچتا ہے اوروہ تعلیم سے کیوں بھاگتا ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز لاہور جاتے ہوئے گوجرانوالہ کے قریب اُن کی کار کاٹائر پنکچر ہو گیا اور وہ سڑک کے کنارے بیٹھے ایک بوڑھے پنکچر لگانے والے سے ٹائر ٹھیک کرانے کیلئے بیٹھ گئے ‘ جس کی معاونت ایک نو عمر لڑکا کر رہا تھا۔ اشفاق احمد نے بچے کے بارے میں پوچھا تو اس بابا نے بتایا کہ وہ اُس کا پوتا ہے اور اُس بچے کا والد پاکستان کیلئے جنگ لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ہے ۔

اشفاق صاحب نے بچے کے سر پر پیار دیا اور سر اہا کہ یہ ایک بڑے باپ یعنی شہید کا بیٹا ہے ۔ پھر بچے سے دریافت کیا ’’ بیٹا ! تم کس کلاس میں پڑھتے ہو ؟‘‘ اس بات پر بابا ناراض ہو گیا اور اُس نے ٹائر ایک طرف پھینکتے ہوئے کہا ’’ خبردار ! ٹائر اُٹھاؤ اور جاؤ میں پنکچر نہیں لگاتا ‘ کیونکہ تم میرے پوتے کو ورغلا رہے ہو‘‘

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اشفاق صاحب نے حیران ہوتے ہوئے کہا ’’ میں ورغلا نے کی تو کوئی بات نہیں کی میں نے تو علم کی بات کی ہے جو روشنی ہے ‘ نور ہے ‘ شعور ہے اور یہ ایک بڑے باپ کا بیٹا ہے لہٰذا اس تک ضرور یہ نور اور شعور پہنچنا چاہئے‘‘

بابا نے ناراض ہوتے ہوئے وضاحت کی ’’ مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ یہ ایک شہید کا فرزند ہے اسی لئے میں اسے تعلیم نہیں دلانا چاہتا کیونکہ تم بتاؤ کہ کیا آج تک کسی ان پڑھ شخص نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے؟ وطن عزیز کو نصف صدی تک لوٹنے گھسوٹنے اور طر ح طرح کا نقصان پہنچانے والا صرف اور صرف تعلیم یافتہ طبقہ ہے اور میں اس بچے کو تعلیم دلا کر اُن میں شامل نہیں کرنا چاہتا جو پاکستان کے لئے نقصان کا باعث ہیں‘‘

اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ میں ہکا بکا رہ گیا اور ایک سوال میرے ذہن میں مسلسل گونجنے لگا کہ ’’پڑھا لکھا کون ہے اوران پڑھ کون؟ ‘‘وہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا بھر کے دانشوروں ، علما ، محققین سے پوچھا ہے لیکن کوئی اس کا مناسب جواب نہیں دے سکا۔

مزیدخبریں