اسرائیلی عدالت نے مزاحمت کی علامت سولہ سالہ نہتی لڑکی ’’عہد تمیمی‘‘ کی گرفتاری جائز قرار دی تو اس کا باپ بھی سامنے آ گیا،ایسی بات کہہ دی کہ نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پریشان ہو جائیں گے

اسرائیلی عدالت نے مزاحمت کی علامت سولہ سالہ نہتی لڑکی ’’عہد تمیمی‘‘ کی ...
اسرائیلی عدالت نے مزاحمت کی علامت سولہ سالہ نہتی لڑکی ’’عہد تمیمی‘‘ کی گرفتاری جائز قرار دی تو اس کا باپ بھی سامنے آ گیا،ایسی بات کہہ دی کہ نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پریشان ہو جائیں گے

  


یروشلم (ڈیلی پاکستان آن لائن)نہتے فلسطینیوں کی جدید اسلحہ سے لیس قابض اسرائیلی فوج کے خلاف سالہا سال سے’’ تحریک مزاحمت ‘‘ پوری دنیا میں ایک مثال بن چکی ہے جبکہ غیر معمولی جرات و بہادری اوردشمن فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھرپور مزاحمت کرنے والی سولہ سالہ ’’ نہتی لڑکی ‘‘عہد تمیمی تو اس وقت فلسطینیوں کی آنکھ کا تارا بن چکی ہے جسے قابض فوج نے گذشتہ ہفتے حراست میں لیا تھااور آج اسرائیلی عدالت نے بھی اس کی گرفتاری کو جائز قرار دیتے ہوئے جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔دوسری طرف عہد تمیمی کے والد باسم تمیمی کا اپنی بیٹی ی گرفتاری اور جیل بھیجنے کے عدالتی احکامات کے بعد ایسا جرآت مندانہ بیان سامنے آیا ہے جس نے پورے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کی جرآت او ربہادی کی مثال بن جانے والی 16سالہ لڑکی عہد تمیمی کے والد باسم تمیمی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی مزاحمت کار ہے اور وہ خود کوآزادی کی خاطر لڑنے والی جنگجوقراردیتی ہے،لہذا اسے کسی رحم، شفقت اور ہمدردی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا پیغام دنیاکو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ فلسطینی قوم اپنی اراضی کبھی نہیں چھوڑیں گے۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک سولہ سالہ نہتی فلسطینی لڑکی اسلحہ سے لیس قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے النبی الصالح بستی کے محاصرے کے دوران انتہائی دلیری کے ساتھ2فوجی اہلکاروں کو تھپڑ رسید کرتی ہے اور انہیں بستی کا محاصرہ ختم کرنے اور علاقے سے نکلنے پر مجبور کر دیتی ہے ، اگرچہ قابض فوج نے اس وقت تو عہد تمیمی کوگرفتار نہیں کیا مگر بعد ازاں وسطی شہر رام اللہ میں باسم تمیمی کے گھر اسرائیلی فوج نے چھاپہ مار کارروائی کی اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے نہتی لڑکی عہد تمیمی کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ قابض فوج نے عہد تمیمی کے 15سالہ کزن محمد تمیمی اور والدہ کو بھی حراست میں لے لیا تھا ، اسرائیلی عدالت نے آج عہد تمیمی کی گرفتاری کو جائز قرار دیتے ہوئے اسے جیل بھیجنے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔اس سے قبل اسرائیلی فوجیوں کو طمانچے مارنے کے واقعے پر اسرائیلی وزیر تعلیم نے کہا تھاکہ اس لڑکی کو اب پوری زندگی جیل میں گذارنی چاہیے جب کہ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ فوجیوں پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

اسرائیلی عدالت کی جانب سے عہد تمیمی کی گرفتاری جائز قرار دینے کے بعد اس کے والد باسم التمیمی نے پوری دنیا میں مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ اس کی بیٹی اسرائیل کے خلاف مزاحت کی علامت بن چکی ہے،نئی آنے والی نسل بھی اب اپنے کاندھوں پر سر زمین مقدس کی آزادی کی ذمہ داری لے کر نکلے گی ۔باسم التمیمی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی گرفتار بیٹی کے دل میں کسی قسم کا خوف اور تشویش پیدا نہیں کرنا چاہتے ،ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت مزاحمت کو بنیاد بنا کر کریں ،میری بیٹی کسی رحم ،شفقت اور ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قابض فوج اور حکومت نے انکی بیٹی پر کئی ایسے الزامات عائد کئے ہیں جن میں سے اکثر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں ۔باسم التمیمی کا کہنا تھاکہ انہیں اپنی بیٹی انتہائی عزیز ہے تاہم اگر انکے اپنی بیٹی سے بھی زیادہ عزیز اور کوئی قیمتی چیز ہوتی تو وہ اسے بھی فلسطین کی آزادی کے لئے پیش کر دیتے ،میری بیٹی شہرت یا میڈیا میں آنے کی خواہش مند نہیں وہ اپنی سر زمین ،اپنی آزادی اور عزت نفس کی متلاشی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی


loading...