چائے کی پیالی میں طوفان (آخری قسط)

چائے کی پیالی میں طوفان (آخری قسط)
چائے کی پیالی میں طوفان (آخری قسط)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بی بی سی کے مطابق ایک صحافی نے بتایا کہ تقریباً چھ سال قبل پشاور سے روزنامہ جنگ کا ایڈیشن نکالنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے یہاں پریس لگایا گیا اور درجنوں ملازمین کو بھرتی کیا گیا۔

پشاور سے اخبار نکالنے کی تمام تیاریاں دو سال پہلے مکمل کرلی گئی تھیں لیکن بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر اخبار باقاعدہ طور پر شروع نہیں کیا جاسکا تاہم اس دوران اخبار تجرباتی بنیاد پر نکلتا رہا اور ملازمین بھی کام کرتے رہے۔بی بی سی کے مطابق پشاور میں حالیہ دنوں میں روزنامہ جنگ اور دی نیوز سے تقریباً 90 کے قریب ملازمین کو برطرف کیا گیا جن میں رپورٹرز، سب ایڈیٹرز اور دیگر اخباری کارکن شامل ہیں۔

برطرف ہونے والے بیشتر ملازمین وہ تھے جن کی تنخواہیں نسبتاً کم تھیں۔کراچی یونین آف جرنلسٹس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ جنگ گروپ کی جانب سے ملازمین کو ان کی برطرفی کے خط ان کے گھروں کے پتوں پر بھیجے گئے جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘برطرفی کے لیٹرز میں ملازمین کو کہا گیا کہ ادارے کو ان کی ضرورت نہیں رہی لہذا وہ کل سے دفتر آنے کی زحمت نہ کریں’۔

ان کے مطابق یہ بھی پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ اخباری مالکان ‘تھرڈ پارٹی معاہدے’ کے تحت اخبارات چلا رہے تھے یعنی ملازمین کو ملنے والی برطرفی کے لیٹر کسی میڈیا گروپ کی جانب سے نہیں بلکہ ایک کمپنی کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اگر کوئی ملازم اپنی برطرفی عدالت میں چیلنج کرے گا تو انہیں اس اخبار کے مالک کو فریق نہیں بنانا پڑے گا بلکہ اس کمپنی کے خلاف کیس لڑے گا کیونکہ انہیں برطرفی کا لیٹر اس کمپنی کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔تاہم مذکورہ عہدے دار نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ عدالتیں بھی جانتی ہیں اور حکومت کو بھی علم ہے کہ ملازمین کس نے برطرف کیے ہیں۔
اس سے پہلے روزنامہ نوائے وقت کے ٹیلی ویڑن چینل ‘وقت نیوز’ کو بند کرکے صرف لاہور سے ڈھائی سو کے لگ بھگ کارکنوں کو برطرف کر دیا گیا تھا۔
بعض اخباری مالکان کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی بحران کا اثر پاکستانی میڈیا پر بھی پڑا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی بڑھ جانے اور آمدن کم ہونے کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کی صنعت پر شدید مالی دباؤ ہے۔

لیکن صحافیوں کی ایک تنظیم کے سیکرٹری جنرل، اخباری مالکان کا یہ موقف رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اخباری مالکان آئے روز ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو کے چینل کھولتے ہیں لیکن ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے رہے۔

انہوں نے حکومت پر بھی سخت تنقید کی کہ وہ ’لیبر قوانین پر عمل کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے’۔اس بارے میں جیو ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس کہتے ہیں کہ ٹی وی چینلز نے ایک دوسرے سے مقابلے میں آکر ملازمین کی جو، جوڑ توڑ شروع کی اس دوڑ میں بھاری تنخواہوں پر لوگ رکھ تو لیے لیکن اْسے برقرار نہیں رکھ سکے۔اظہر عباس کا کہنا ہے کہ میڈیا انڈسٹری کے لیے مالی اعتبار سے آنے والا سال اور بھی برا ثابت ہوگا کیونکہ مارکیٹ میں اتنے چینلز کو چلانے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

میں نے روزنامہ دن، نوائے وقت، ایکسپریس نیٹ ورک، جنگ، جیو گروپ اور بعض دیگر موقر اداروں کے ساتھ تقریباً 28 برس کلیدی انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں چنانچہ میری ذاتی رائے میں یہ برطرفیاں اور تنخواہوں میں کٹوتیاں مصنوعی بحران ہے کیونکہ ان کا مقصد سوائے حکومت وقت پر دباؤ ڈالنے اور دنیا میں حکومت کا امیج خراب کرنے کے کچھ نہیں۔میڈیا میں ہمارے دوستوں کی کوئی کمی نہیں اس لیے ممکن ہے کہ یہ مشورے انہیں گراں گزریں لیکن اگر کوئی ان حالات سے نہیں لڑ سکتا تو ہمارے پاس اس کا حل موجود ہے اور ہم بلا قیمت اسے اپنے دوستوں کے لیے بروئے کار لانے کو بھی تیار ہیں لیکن ان سے اتنی درخواست ضرور کریں گے کہ خدارا اپنی نااہلیوں کا بدلہ عام اور غریب محنت کشوں سے لینے کے بجائے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور نہایت ایمانداری سے فیصلہ کریں کہ وہ جن اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، کیا وہ ان اداروں اور ان کے مالکان سے مخلص ہیں یا نہیں،کیونکہ وفاداری بہ شرط استواری ہی اصل ایمان ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کی عمل داری، آئین و انصاف کی حکمرانی، بنیادی شہری حقوق کے تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے آواز بلند کی ہے۔ بانیان پاکستان کی امنگوں کے مطابق جدید اسلامی، جمہوری، فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لیے اقتدار کے ایوانوں کے اندر اور باہر کی جانے والی کاوشوں کا ساتھ دیا ہے اور ملکی وقار اور خودمختاری پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔

بے شک میڈیا کو بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران متعدد کٹھنائیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جمہوری اقدار کا گلا گھونٹ کر اپنے دائمی اقتدار کی خواہش رکھنے والے حکمرانوں نے اپنی من مانیوں کی خاطر میڈیا کا گلا دبانے کی بھی کوشش کی اور اسے اشتہاروں کی بندش، کاغذ کے کوٹے میں کمی، نیوز پرنٹ پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے سمیت متعدد آمرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے زیربار رکھنے کے اقدامات کیے مگر قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے صحافت اور اظہار رائے کی آزادی پر کبھی حرف نہیں آنے دیا۔

اس تناظر میں بالخصوص موجودہ دہائی کا آغاز میڈیا کی بقا کے حوالے سے انتہائی کٹھن ثابت ہوا ہے کیونکہ سابقہ حکمرانوں کی جانب سے اشتہارات کی مد میں میڈیا کو واجبات کی ادائیگی روک کر اسے مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ بالخصوص پرنٹ میڈیا کے لیے سوشل میڈیا کی فعالیت نے سرکولیشن کے مسائل بھی کھڑے کردیے۔

نتیجتاً پرنٹ میڈیا کی آمدنی کا اصل بڑا ذریعہ بہت تیزی سے محدود ہونے لگا تو اس کے پاس خود کو اپنے پاؤں پر کھڑا رکھنے کے لیے سرکاری اشتہاروں پر تکیہ کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔
جب سابقہ حکمرانوں کی جانب سے اشتہاروں کی فراہمی میں بھی ڈنڈی ماری جانے لگی اور ان کے واجبات بھی روک لیے گئے تو قومی میڈیا کو بے پناہ اقتصادی مسائل نے گھیر لیا اور اس کے لیے اپنے کارکنوں کو بروقت تنخواہیں ادا کرنا بھی مشکل ہوگیا۔ نتیجتاً میڈیا انڈسٹری ایک نئے بحران اور کٹھن حالات سے دوچار ہوگئی۔

اس پر مستزاد یہ کہ نیوز پرنٹ پر ٹیکس میں اضافہ کرکے میڈیا پر مزید اقتصادی بوجھ لاد دیا گیا چنانچہ ان حالات میں قومی میڈیا کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو جہاں قومی میڈیا کی آزادی اور خودمختاری عزیز ہے وہیں انہیں میڈیا کو درپیش مسائل کا بھی ادراک ہے چنانچہ میڈیا کے خیرخواہ کی حیثیت سے انہوں نے جہاں میڈیا کے واجبات کی ادائیگی کے احکامات دیے وہیں انہوں نے نیوز پرنٹ پر عائد پانچ فیصد ڈیوٹی بھی ختم کرنے کی نوید سنائی۔ ان کا یہ اعلان دم توڑتے قومی میڈیا کو یقیناً نئی زندگی دینے کے مترادف ہے بہ صورت دیگر اس کے لیے زندہ رہنا عملاً ناممکن ہوگیا تھا۔

اس لیے اگر حکومت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے مراعات کا اعلان کر چکی ہے تو چائے کی پیالی میں طوفان پیدا کرنے کی کوششیں نہ کی جائیں تو بہتر ہوگا۔ میڈیا ہاؤسز کے مالکان خود اس کا نوٹس لیں کہ ان کے اداروں کے کون سے خود ساختہ بہی خواہ ان جبری برطرفیوں کے ذریعے ان کے ساتھ ساتھ حکومت اور وطن عزیز کی ساکھ داؤ پر لگا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -