بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، غیر مستحق فارغ!

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، غیر مستحق فارغ!

  



اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے8لاکھ سے زائد افراد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے8لاکھ20 ہزار162 افراد کو لسٹ سے نکالنے کی سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے،فہرست سے نکالے جانے والے افراد میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے وہ سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں،جو 12،12ایکڑ سے زائد اراضی رکھتے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سہ ماہی معاوضہ5500 سے بڑھا کر 6ہزار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق نادرا نے گزشتہ آٹھ سال میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے افراد کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ان میں سے 25ہزار افراد ایک یا ایک سے زائد مرتبہ بیرون ملک سفر کر چکے ہیں،44ہزار افراد کے پاس ایک یا ایک سے زائد گاڑی یا موٹر سائیکل ہے،36ہزار افراد نے ایگزیکٹو فیس ادا کر کے شناختی کارڈ بنوائے۔اسی طرح یہ بات سامنے آئی کہ ایک ہزار246 افراد نے ایگزیکٹو سینٹر سے پاسپورٹ کے لئے اپلائی کیا۔نادرا کی رپورٹ کے مطابق30ہزار افراد ماہانہ ایک ہزار روپے موبائل فون کا بل ادا کرتے ہیں،جبکہ اوسطاً ایک ہزار روپے بل ادا کرنے والوں کی تعداد 19686 ہے۔

موجودہ حالات کو مدنظر رکھا جائے تو حکومت کے اکثر اقدامات پر مخالفین شک کا اظہار کرتے ہیں، اور اقدامات کی شفافیت ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کے رہ گئی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے8 لاکھ سے زائد افراد کو نکالنے کا یقینا ان خاندانوں پر اچھا اثر نہیں پڑے گا،تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں ایسے پروگراموں کے ذریعے حکومتوں کی جانب سے اپنے کارکنوں کو نوازا جاتا رہا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بے شمار مستحقین تک وہ امداد نہ پہنچ سکی،جس کی انہیں دوسروں سے زیادہ ضرورت تھی،پھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے،جو درحقیقت اس کے مستحق ہی نہ تھے۔یہ بات خاصی دلچسپ ہے کہ امداد حاصل کرنے والوں میں ایسے افراد بھی ہیں جو نہ صرف بیرون ملک آتے جاتے رہے،بلکہ 44ہزار سے زائد کے پاس ایک یا ایک زائد گاڑیاں بھی موجود ہیں۔ اگر ایسے افراد مستحقین ٹھہریں گے تو پھر باقیوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہم پہلے ہی ملک میں اقربا پروری اور اپنے اپنوں کو ریوڑیاں بانٹنے کے خلاف ہیں۔یہ تو سرا سر ظلم ہے کہ ملک کے طول وعرض میں بکھرے ہوئے یہ غریب افراد زندگی کی بھیک مانگتے پھریں اور طاقتور طبقہ ان کا حصہ اپنے منظور نظر کو دیتا رہے۔یہ تو ایسا ہی ہے کہ دْکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں۔حکومت کا اس طرف متوجہ ہونا بہترین اقدام ہے،اسی طرح امدادی رقم ساڑھے پانچ ہزار سے بڑھا کر6ہزار کرنا بھی قابل ِ تعریف ہے،چاہے پانچ سو روپے کا اضافہ ہے،لیکن جن گھروں میں دو دو روپے حیثیت رکھتے ہوں وہاں پانچ سو کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔

نادرا کی رپورٹ وفاقی کابینہ کو موصول ہو چکی اور اطلاعات یہی ہیں کہ آنے والے چند روز میں اس حوالے سے فیصلہ سامنے آ جائے گا۔یہاں اگر کچھ باتوں کا ایک بار ٹھنڈے دِل سے جائزہ لے لیا جائے تو بہتر ہے۔ مثلاً بیرون ملک جانے والے افراد کے حوالے سے یہ جائزہ لیا جانا از حد ضروری ہے کہ وہ کس سلسلے میں باہر گئے،ہو سکتا ہے ان افراد کو ان کے کسی عزیز رشتہ دار نے بلوایا ہو اور ان کا تمام خرچ بھی اٹھایا ہو۔اس طرح یہ بات دیکھتے میں آئی ہے کہ اکثر مخیر حضرات حج اور عمرے پر ایسے افراد کو اپنے ذاتی خرچے پر بھجوا دیتے ہیں، جو یہ سعادت حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور پھر ان افراد کو جلدی کے سبب ایگزیکٹو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے پڑتے ہیں۔اگر ہم تصویر کے دوسرے رْخ پر نظر رکھ لیں تو قباحت نہیں،لیکن ایسا نہ ہو کہ اس رگڑے میں ضرورت مند اور مستحقین آ جائیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت چلنے والی یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔ مہنگائی تاریخ کی بلند سطح پر ہے، بے روزگاری عروج پر ہے۔اشیائے صرف عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہو چکی ہیں تاہم ان حالات میں بھی یہ امدادی رقم ڈوبتے کے ہاتھ میں تنکا آنے والی بات ہے۔ایسا نہ ہو کہ سچ میں کوئی ضرورت مند اِس رپورٹ اور فیصلے کی نظر ہو جائے۔یہ بہت حساس معاملہ ہے اور اس میں احتیاط کے ساتھ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ہم تو حکومت کو یہی مشورہ دیں گے کہ وہ ایک بار اس معاملے کا جائزہ لے۔ان اعداد و شمار کی حیثیت سے انکار ممکن نہیں تاہم اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کسی اور ادارے کی مدد سے اس رپورٹ کی زد میں آنے والے افراد سے براہِ راست تحقیق کرا لی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔یہ ایک بہتر اقدام ہو گا۔یہ بھی اطلاع ہے کہ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اب اس پروگرام کا نام ”احساس کفالت پروگرام“ ہو گا، یہ نام پہلے بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی جس پر سخت احتجاج ہوا اور ایسا نہ کیا گیا، بہتر یہی تھا کہ نام کی حد تک یہ فیصلہ نہ کیا جاتا، حکومت کے لیئے غیر ضروری تنازعات میں الجھنا کسی بھی طرح فائدہ مند نہیں۔

مزید : رائے /اداریہ