قائداعظمؒ سے پیار، یاد گار لمحہ!

قائداعظمؒ سے پیار، یاد گار لمحہ!
قائداعظمؒ سے پیار، یاد گار لمحہ!

  



اسلامیہ کالج ریلوے روڈ تاریخ ساز تعلیمی ادارہ ہے،یہاں سے بڑے بڑے اہم اور قومی لیڈر بھی پیدا ہوئے اور اسی کالج نے کھیلوں میں نمایاں مقام حاصل کیا، اسلامیہ کالج کی گراؤنڈ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں بانی ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے خطاب کیا، اور یہی وہ جلسہ تھا جہاں ہم جیسے ننھے طالب علم کو سلیوٹ کرنے اور بابائے ملت سے ہاتھ ملانے کا بھی اعزاز حاصل ہوا،جبکہ محترم علامہ المشرقی نے بے وقت اذان دے کر جلسہ خراب کرنے کی بھی کوشش کی،یہ واقعہ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے کا ہے،ہمارے والد محترم مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار تھے اور لاہور میں ہونے والے بڑے جلسوں کے انتظامات میں شریک ہوتے اور حفاظتی دستوں کی بھی قیادت کرتے تھے،وہ ایک ایسا دور تھا، جب ہم جیسے پرائمری کے طالب علم بھی ”بن کے رہے گا پاکستان“ کے نعرے لگاتے اور موچی دروازہ سے اسمبلی ہال تک سول نافرمانی کے جلوس میں بھی شامل ہو جاتے تھے،والد ِ محترم کو شوق تھا،اِس لئے وہ ہمارے بھی مختلف سوٹ سلواتے،ان میں نیوی اور ایئر فورس کی وردی نما والے سفاری تھے تو مسلم لیگ نیشنل گارڈ کی وردی بھی تھی، ہمیں اتنا یاد ہے کہ قائداعظم کی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ آمد کا سنا تو ہم نے بھی ضد کی کہ جلسے میں جائیں گے اور اپنے قائد کو سلامی دیں گے، والد صاحب ضد کے آگے مان گئے اور اس روز ہم نے نیشنل گارڈ والی یونیفارم پہنی اور ساتھ گئے،ہمارے ابا جان کی ڈیوٹی سٹیج پر تھی،اِس لئے ہمیں بھی ساتھ لے گئے، اسلامیہ کالج کی گراؤنڈ ہماری دیکھی بھالی تھی کہ ہم طالب علم دوست مل کر اسی گراؤنڈ میں آ کر کرکٹ کھیل لیتے تھے،ہم سٹیج پر اِدھر سے اُدھر گھومتے پھرتے تو وہاں موجود لیڈر حضرات ہمیں پیار کرتے تھے، حضرت قائداعظمؒ کی آمد ایک ایسا دِل افروز نظارہ تھا کہ 72،73 سال کے بعد بھی ہمیں نہبں بھولتا، وہ سلام اور سلامی کا جواب دیتے ہوئے سٹیج پر تشریف لائے۔ نعرے گونج رہے تھے اور وہ کرسی ئ صدارت کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ ہلاتے اور چاروں طرف گھوم کر نعروں کا جواب دیتے تھے۔یہیں ہم نے ان کو سلیوٹ کیا،انہوں نے پیار سے ہمارے گال تھپتھپائے اور ہم نے ان سے ہاتھ بھی ملایا، یہ ہماری زندگی بھر کا یادگار لمحہ ہے اور یہیں ہم اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔

معمول کے مطابق جلسے کی کارروائی تلاوتِ کلام پاک سے ہوئی، خطبہ استقبالیہ ہوا، اور پھر بانی ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے،جونہی انہوں نے پہلے الفاظ کہے تو ان کے دائیں اور مرکزی دروازے کے بائیں طرف سے اللہ ہو اکبر کی صدا بلند ہوئی، اس طرف گراؤنڈ کی دیوار کے ساتھ اندر کی طرف اہلحدیث کی جامع مسجد ہے، جو آج بھی موجود ہے،جونہی اذان کی آواز بلند ہوئی،قائداعظمؒ بیٹھ گئے،ہمیں یاد ہے کہ انہوں نے ساتھ بیٹھے حضرات سے اپنی گھڑی دیکھ کر پوچھا کہ یہ کس وقت کی اذان ہے، کیونکہ جلسہ پہلے وقت میں ہوا اور ظہر میں بہت وقت تھا،اسی اثناء میں کچھ رضا کار مسجد سے ایک شخص کو گھیرے میں لئے ہوئے آئے اور کالج کے ہال کی طرف لے گئے۔ہمارے والد صاحب جو پہلے بابائے ملت کے قریب چوکس تھے۔ یہ دیکھ کر نیچے اترے اور اس طرف چلے گئے،وہاں مطلوبہ شخص کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا،ہمارے والد صاحب نے سٹیج پر آ کر سب اچھا کی رپورٹ دی تو قائداعظمؒ نے اپنی تقریر مکمل کی،جو انگریزی میں تھی،اور حاضرین میں ہمارے علاقے کے اَن پڑھ شیدائی بھی تھے۔ جلسہ ختم ہوا،قائداعظمؒ رخصت ہو گئے تو ہمارے والد صاحب نے کالج کے ہال میں جا کر اذان دینے والی شخصیت کو بحفاظت نکال کر روانہ کر دیا،ورنہ رضا کار اور لوگ بھی مشتعل تھے، یہیں معلوم ہوا کہ یہ علامہ المشرقی تھے۔

یہ واقعہ خود اپنی ذات کے حوالے سے تحریر کیا کہ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہوا تھا اور ہم آج بھی فخر کرتے اور اس مرحلے کا لحظہ لحظہ یاد ہے، تاہم بتانا یہ مقصود تھا کہ بانی ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ اُردو واجبی سی جانتے اور ہمیشہ انگریزی میں تقریر کرتے تھے، دوسرا واقعہ ہمیں یہ یاد ہے کہ قائداعظمؒ محترم نے پنجاب یونیورسٹی گراؤنڈ میں بھی جلسہ عام سے خطاب کیا۔پورا لاہور شہر امڈ آیا تھا، ہم ساتھی طالب علم بھی گئے اور جلسہ سنا، یقین مانیئے یہاں بھی تقریر انگریزی میں تھی،لیکن مجمع انتہائی سکون سے سنتا رہا، اور نعروں کا جواب دیتا رہا۔ یہ در حقیقت حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی شخصیت کا سحر تھا کہ ان کی انگریزی تقریر عام لوگ بھی غور سے سنتے تھے اور جلسے کا نظم و نسق بھی برقرار رہتا تھا،اس دور سے آج کا تقابل کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ آج جتنا بڑا لیڈر ہو اتنے زیادہ لوگ آتے اور لائے جاتے ہیں،ان کی تقریر مجمع غور سے نہیں سنتا اور ہر کوئی اپنے اپنے حوالے سے جلسہ میں موجودگی ظاہرکرتا رہتا ہے،یہ شخصیت کا سحر تھا کہ لوگ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی سر دھنتے تھے اور یہی قیادت کا کمال تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے ان پر اعتماد کیا اور قیام پاکستان کے حصول کو ممکن بنایا۔

آج جب یہ تحریر لکھ رہے ہیں تو یہ سب یاد آیا کہ آج کے دور میں جو جلسے ہوتے ہیں،ان میں سننے والے تو ہوتے ہیں،لیکن خود کو نمایاں کرنے والے سننے کی بجائے اپنی حاضری لگوانا ضروری سمجھتے ہیں،ایسا تمام رہنماؤں کے جلسوں میں ہوتا ہے،ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت بھی سحر انگیز تھیں،لیکن ان کی تقریروں کے دوران بھی نعرے بازی ہوتی رہی، محمد نواز شریف کے پیرو کار اور چاہنے والے بھی بے شمار اور مریم نواز نے بھی رنگ جمایا،لیکن ایسی کیفیت ان کے جلسوں میں بھی نہیں ہوتی تھی، حالانکہ آج کے دور میں اس کی ضرورت ہے کہ تقریر بہترین، برمحل اور بامعنی ہو تو لوگ توجہ بھی دیں، محترم وزیراعظم عمران خان کے جلسوں کی تو بات ہی اور ہے، ان کے جلسے میلہ نظر آتے رہے ہیں۔ البتہ دینی اکابرین مجمع کو مجبور کر دیتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن کے دھرنے والے جلسے بہت ہی منظم تھے۔

مزید : رائے /کالم


loading...