سوشل میڈیا، ٹویٹر، واٹس ایپ: فوائد و مضمرات

سوشل میڈیا، ٹویٹر، واٹس ایپ: فوائد و مضمرات
سوشل میڈیا، ٹویٹر، واٹس ایپ: فوائد و مضمرات

  



پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں ایک ماہ قبل ڈاکٹروں اور وکلاء میں جھگڑا ہوا،بعد میں پتا چلا کہ تین خاکروبوں اور ایک گارڈ نے کچھ وکلاء کی پٹائی کی ہے،چنانچہ انکوائری ہوئی،تینوں خاکروبوں اور گارڈ کو گرفتار کر لیاگیا،ڈاکٹروں نے وکلاء سے معافی مانگ لی، معاملہ رفع دفع ہوگیا۔پی آئی سی میں ڈاکٹروں نے اپنا کام جاری رکھااور وکلاء حسب معمول عدالتوں میں مصروف ہو گئے، پھر اچانک وکلاء بپھر گئے،بپھرنے کا جواز امراض قلب کے ہسپتال کے ایک ڈاکٹرکی وائرل ویڈیو کو بنایا جا رہا ہے۔ڈاکٹر قصوروارہیں یا وکیل؟معاملہ اب عدالتوں کے پاس ہے۔ انتظامیہ کی نااہلی سے حالات خراب ہوئے۔ کیا نقصان کوکسی حد تک روکاجاسکتاتھا؟اس سوال کا جواب بھی عدالتی کارروائی میں مل جائے گا۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دورسے پہلے عوامی غیظ وغضب کی لہر کا اندازہ ہفتوں یا مہینوں بعد ہی ہوتا تھا۔ سوشل میڈیا نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیاہے۔ سوشل میڈیاعوامی رد عمل کو بڑھانے اور پھیلانے میں ایک تیز رفتار میڈیم کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سوشل میڈیانے عام آدمی کوایک طاقت مہیا کردی ہے اور عام آدمی اپنا غصہ نکانے کے لئے اس طاقت کو حملے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔سوشل میڈیاپر ہونے والے سرو ے،اٹھائے گئے ایشوزکوعوام کی رائے کا نام دیا جاتا ہے،لیکن سوشل میڈیاپر عوام کامطلب وہ نہیں جو عام سیاسی حالات میں استعمال ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پرعوام کا مطلب ہے، لوگوں کا ایک گروہ جو کسی خاص ایشو میں اس قدر دلچسپی رکھتا ہے کہ اسے دوسروں تک پھیلانے میں سرگرم کردار ادا کرتاہے، اس طرح سیاست میں استعمال ہونے والی عوام کی اصطلاح سوشل میڈیانے بدل کر رکھ دی ہے۔ سوشل میڈیادنیا بھر کے مختلف ایشوز میں چیخ وپکار کرنے والاایسا طبقہ ہے، جسے کسی نہ کسی سے شکایت رہتی ہے اورشکایت پر وہ چپ بیٹھنے یاعقلی دلائل تلاش کرنے کی بجائے شور مچاتا ہے۔اس شور میں سوشل میڈیاپرموجود سنجیدہ اکثریت کی آوازنقار خانے میں طوطی جیسی ہے۔ اس شور مچانے والے طبقے میں اکثریت ان کی ہے جوذاتی زندگی سے مطمئن نہیں اور توجہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے عوام کونہ صرف بااختیار کیا ہے، بلکہ ان کے حوصلے بھی اس قدر بلند کردیئے ہیں کہ وہ روایتی میڈیا کو خاطر میں نہیں لاتے،بلکہ غیر مصدقہ اطلاعات اور خبروں کو پھیلاکرروایتی میڈیا کو بے حسی کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے۔ ان غیر مصدقہ اطلاعات اور خبروں کوبنیاد بناکر ٹویٹراور فیس بک پرمظاہرے اور احتجاج منظم کئے جاتے ہیں۔سوشل میڈیا اب دوستوں، خاندانوں اور بہت قریبی رشتہ داروں کو گالی دینے، خاص طور پربھڑاس نکالنے کے لئے استعمال ہورہا ہے۔اس کے علاوہ سیاست اور سیاست دانوں کو گالی دینے،نظام کو جڑ سے اکھاڑنے، سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنے اور حکومتوں کا تختہ الٹنے،اداروں کی ساکھ بگاڑنے کے لئے استعمال ہورہا ہے۔سوشل میڈیاپر ہر حقیقت سے انکار کا رویہ انتشار پھیلانے کا سبب بن رہاہے۔ سوشل میڈیاکا ایک اور خوفناک پہلوجتھوں کو پروان چڑھانا ہے، بلکہ سوشل میڈیاایک طرح سے جتھوں کے استعمال ہی کی شے بن گئی ہے۔ فیس بک پر فرینڈز اور ٹویٹر پر فالوورزایک طرح کا جتھہ ہیں۔یہ جتھے خاندانوں میں بھی ہیں اور دوستو ں میں بھی،ایک تصویر یاکہانی ایک بٹن پریس کرتے ہی سینکڑوں، بلکہ لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ واٹس ایپ کے سٹیٹس جھگڑوں کی وجہ بن رہے ہیں۔ منفی سوچ سے بنائے گئے اکاؤنٹ اور جعلی تصویروں کی وجہ سے خود کشی کا رجحان بڑھ گیا ہے اور ہر کوئی اپنے آپ کوہی ٹھیک سمجھ رہا ہے۔کوئی تصویریا خبر شیئر کرنامسئلہ نہیں،بلکہ مسئلہ جعلی خبروں اور فوٹو شاپ تصویروں کو ایک منظم طریقے سے پھیلاناہے،کسی جعلی خبر یا فوٹو شاپ تصویر کوکوئی مشہور شخصیت یاکوئی ٹویٹر پربنا جتھا ٹویٹ کرتا ہے تو اس کا سیکنڈز میں لاکھوں لوگوں تک پہنچنا یقینی ہوجاتا ہے۔پی آئی سی ہسپتال کے ڈاکٹر عرفان کی ویڈیو کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ینگ ڈاکٹروں کے جتھے نے اس ویڈیو کو پھیلایا۔

ڈاکٹروں کے مطابق یہ ویڈیو وکلاء کے ساتھ صلح سے پہلے کی ہے، لیکن اس کے وائرل ہونے کا جو وقت تھا، اس نے معاملے کو الجھا دیا۔وکلاء نے ڈاکٹر عرفان کی گفتگو کوتوہین اور اپنی کمزوری سمجھااور طاقت دکھانے چل پڑے۔وکلاء نے طاقت دکھانے کے لئے سوشل میڈیا پر اپنے جتھے کا سہارا لیا۔ایک رات پہلے ہی وکلاء نے امراض قلب کے ہسپتال پردھاوے کا پلان شیئرکر دیا تھا۔سوشل میڈیا نے کام آسان بنایا اورپھر جتھے کی روانگی کے مناظرسوشل میڈیاپر لائیو شیئر ہوئے توجو جتھے کی روانگی میں پیچھے رہ گئے تھے، انہیں بھی وہاں پہنچنے میں تقویت ملی۔ لاہور میں ڈاکٹروں اور وکیلوں کے جھگڑے کی کہانی نے سوشل میڈیاکے ذریعے باقی شہروں کے ڈاکٹروں اوروکلاء کو بھی مشتعل کر دیا۔ اصل کہانی جو تھی وہ ڈوب گئی اور سوشل میڈیا پر جتھوں نے معاملے کو طاقت اور کمزوری، برتری اوربالا دستی کا مسئلہ بنا دیا۔اس سارے معاملے میں سوشل میڈیا نے فریقین کو ہی منفی بنادیااور جتھے نے اپنے تئیں انصاف کیا۔سوشل میڈیاکسی بھی جتھے کو کم سے کم وقت میں اکٹھا ہونے اور ٹارگٹ پر حملہ آور ہونے کے لئے سہولت فراہم کرتا ہے، یوں سوشل میڈیاجلتی پر تیل کاکام کرتا ہے۔ان تمام منفی باتوں کا ذکر کرنے کا مقصد سوشل میڈیاکی برائی کرنامقصود نہیں۔سوشل میڈیاکوتہذیب اور اصولوں کے اندر رہتے ہوئے بھی استعمال کیا جا سکتاہے۔ لوگوں کوبات کہنے سے روکنامقصد نہیں، بلکہ کہنا یہ ہے کہ کچھ بھی کہنے یا کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ اثرات کو جانچ لینا چاہئے، سوشل میڈیارابطوں کا بہت زبردست ذریعہ ہے، لیکن آزادیء اظہارکے کچھ معیاراور پیمانے بھی ہونے چاہئیں۔ سوشل میڈیاپر جتھوں کی ذہنیت ختم کرنا ہوگی۔پوسٹ کرنے سے پہلے دیکھ لیں کہ چند لمحوں کی خوشی کے لئے کی گئی شرارت ایک ایسی چنگاری بن سکتی ہے جو سب کچھ جلاکر رکھ دے، جیسا کہ پی آئی سی والے سانحہ میں ہوا۔اس کے لئے سوشل میڈیا پر صارفین کی نامعلوم رہنے والی ”فیک آئی ڈی“ سہولت کو ختم کرنا ہوگا۔سوشل میڈیا پرشناخت کاایک ایسا نظام وضع ہونا چاہئے جو آپ کی ٹھیک شناخت ظاہر کرے۔ڈاکٹر اور وکیل دونوں ہی پڑھے لکھے اور معزز شہری ہیں۔ ایک جان کا رکھوالا اور دوسراقانون کا۔ مَیں نہیں مانتا کہ ڈاکٹر یاوکیل بدمعاش ہو سکتے ہیں۔یہ دونوں ہی شعبے بہت محترم ہیں، لیکن چند پرائیو یٹ کالج کم نمبر لینے والوں کو بھی داخلہ دے دیتے ہیں،جن کا کام اس مقدس پیشے کواختیارکرنانہیں، بلکہ اس کی آڑ میں بدمعاشی کرنا ہوتاہے۔

مزید : رائے /کالم