جناب شیخ کا نقشِ قدم……!

جناب شیخ کا نقشِ قدم……!
جناب شیخ کا نقشِ قدم……!

  



بات تو پرانی ہے، مگر یاد اب آ رہی ہے۔ہوا یوں کہ جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی درسگاہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے سربراہ اور ڈین آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفےٰ چودھری مرحوم کی اپنے وائس چانسلر کے ساتھ بگڑ گئی۔ وہ سنیارٹی کے حساب سے اگلے وائس چانسلر سمجھے جا رہے تھے۔ وائس چانسلر نے غصے میں آکر انہیں شعبے کی سربراہی سے ہی ہٹا دیا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ پہنچ گئے، انہیں حکم امتناعی مل گیا اور انہوں نے پھر سے سربراہ شعبہ کے طور پر کام شروع کر دیا۔ وائس چانسلر (غالباً پروفیسر عاشق درانی صاحب)چند ماہ بعد ریٹائر ہو گئے، ان کی جگہ حسبِ توقع ڈاکٹر غلام مصطفےٰ چودھری وائس چانسلر بنا دیئے گئے۔ عدالت میں مقدمہ ابھی چل رہا تھا جو اپنے وقت کے چیئرمین شعبہ نے اس وقت کے وائس چانسلر کے خلاف کیا ہوا تھا۔ اس طرح چیئرمین مدعی اور وائس چانسلر مدعا الیہ تھے۔ وقت نے پلٹا کھایا تو مدعی چیئرمین مدعا الیہ وائس چانسلر بن گئے، پھر ہوا یوں کہ مدعی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفےٰ چودھری نے مدعا الیہ نے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر غلام مصطفٰے چودھری کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا۔ یوں قصہ تمام ہوا اور چودھری صاحب نے چین سکون سے اپنی تین سالہ مدت پوری کی۔ یہ بات اب یاد آنے کی وجہ خصوصی عدالت کے دھواں دھار فیصلے کے بعد کی صورت حال ہے۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ وفاقی حکومت نے بنایا اور اس کی سماعت کے لئے اعلیٰ عدلیہ کے اعلیٰ ترین ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت بنا دی گئی،جس کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں ہو سکتی ہے۔ وفاقی حکومت نے جو مقدمہ بنایا، وہ مدعی فریق کے حق میں اور مدعا الیہ کے خلاف آ گیا۔ دیکھاجائے تو وفاقی حکومت کو متذکرہ فیصلہ اپنی قانونی فتح سمجھ کر خوشی کے شادیانے بجانے چاہئیں، مگر ہوا یہ کہ مقدمے کی سماعت کے دوران حکومت بدل گئی۔

یہ بھی بظاہر اس لئے اہم بات نہیں تھی کہ بندے بدلے تھے، حکومت تو بطور ادارہ اور بطور مدعی موجود تھی، اس پر مستزادیہ کہ حکومت کے سربراہ محترم عمران خان اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کا مقدمہ دائر کرنے اور انہیں آئین شکنی کی سزا دینے کا مطالبہ کرتے رہے تھے، پھر یہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب گزشتہ حکومت نے یہ مقدمہ قائم کیا تو انہوں نے اپوزیشن پارٹی کے قائد کے طور پر اس کا خیر مقدم کیا۔ اس سے یہی منطقی نتیجہ سوچا گیا کہ وزیراعظم عمران خان اپنا دیرینہ مطالبہ مانے جانے پر شاداں ہوں گے، مگر ان کو حصار میں لینے والی ٹیم کی اکثریت وہی ہے جو جنرل (ر) پرویز مشرف کو اپنا مربی و محسن جانتی ہے۔ یہی ٹیم جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت میں بھی حکمران ٹیم کا حصہ تھی۔ وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل بھی رہے، چنانچہ ان سب نے متذکرہ فیصلے کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ان کا موقف درست ہے یا غلط، اس پر بحث مباحثہ جاری ہے اور ابھی چلتا رہے گا، بالکل اسی طرح جس طرح ہر چھوٹے بڑے ایشو پر دلائل اور ردِ دلائل کے انبار لگتے ہیں۔ یہ سب تو معمول ہے، مگر خلافِ معمول بات یہ ہوئی (اسے لطیفہ بھی سمجھا جا سکتا ہے) کہ مدعی وفاقی حکومت نے مقدمہ جیتنے کے بعد اپنے حق میں آنے والے فیصلے کے ہی پرخچے اڑانے شروع کر دیئے اور اس کو ختم کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں خود اپیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب اپیل میں درخواست دہندہ بھی وفاقی حکومت ہو گی اور ازروئے روایت اس فیصلے کا دفاع بھی حکومتی مشینری کے ذمے ہوگا۔ حکومت کی قانونی مشینری کی سربراہی اٹارنی جنرل کے پاس ہوتی ہے، مگر موجودہ اٹارنی جنرل وہ ہیں جو مجرم کے وکیل رہے۔ وہ نہ صرف فیصلے کو پریس کانفرنس کرکے ہدف تنقید بنا چکے ہیں، بلکہ انہوں نے سابق چیف جسٹس مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فل کورٹ ریفرنس میں جس رویے کا مظاہرہ کیا، اس سے ان کے آئندہ کے رویے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب انہوں نے اپنے ممدوح سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی بچانا ہے اور قانون میں دیئے گئے کردار کے مطابق اپیل کی مخالفت بھی کرنا ہے۔ جناب شیخ کا نقشِِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی……!

محاورتاً تو وکٹ کے دونوں جانب کھیلنا سنتے آئے تھے، اب اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملے گا۔ کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ جس طرح وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے خصوصی عدالت میں پیش ہونے کے لئے عارضی طور پر استعفیٰ دے دیا تھا اور وہاں اپنا موقف پیش کرنے کے بعد اگلے ہی دن واپس وزیر بن گئے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے ایوان صدر میں حلف لے لیا۔ ابھی صدر مملکت ”اپنے“ ہی ہیں، جنہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا ورثہ (یا وراثت) موجودہ حکومت کو منتقل کیا، وہ بھی ماشاء اللہ قائم دائم ہیں اور ان شاء اللہ قائم دائم ہی رہیں گے، اس لئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی طرح اٹارنی جنرل بیرسٹر انور منصور بھی سرکاری عہدہ عارضی طور پر چھوڑ کر اپنے سابق باس کی باضابطہ وکالت(پھر سے) کرتے ہوئے اپیل دائر کریں۔ اس وقت تو وہ وفاق پاکستان کے تنخواہ دار ملازم ہیں، اس منصب پر ہوتے ہوئے تو انہیں اپیل کی مخالفت کرنی چاہیے، اگر وہ منصب سے چند دن کے لئے الگ ہو کر من مرضی کر لیں تو اعلیٰ مناصب کا کچھ نہ کچھ بھرم رہ جائے گا۔ اپیل کی سماعت کے بعد وہ واپس پورے کروفر کے ساتھ اٹارنی جنرل آف پاکستان بن سکتے ہیں۔ موجودہ ہیئت حاکمہ کے ہوتے ہوئے اس واپسی میں کچھ مشکل نہیں ہوگی، ان کا کِلّہ مضبوط ہے۔ یوں بھی حالات بتا رہے ہیں کہ اعلیٰ ترین عدلیہ پر اتنا پریشر بڑھ چکا ہے کہ وہ کامیاب و کامران لوٹیں گے۔ تب آسانی سے کہا جا سکے گا کہ ”کامیاب اٹارنی جنرل اسے ہی بننا چاہئے، جو خود کو کامیاب وکیل ثابت کر چکا ہو“…… تازہ کامیابی ان کی آئندہ کامرانی کی بنیاد بن سکے گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...