کیا یہ دیوار، دیوارِ چین ثابت ہوگی؟

کیا یہ دیوار، دیوارِ چین ثابت ہوگی؟
کیا یہ دیوار، دیوارِ چین ثابت ہوگی؟

  



2013ء کے انتخابات سے صوبہ پنجاب پاکستانی سیاست میں زلزلے کا مرکز بن چکا ہے، لاڑکانہ کی سیاست دم توڑ چکی ہے، اب لاہور کا غلغلہ ہے اور لاہور سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیت نواز شریف کے گرد ہی ساری سیاست گھوم رہی ہے، کبھی کہا جاتا تھا کہ بھٹو قبر سے بھی حکومت کررہا ہے، اب وہ دور لد گیا اور سب کچھ پنجاب کے شہر لاہور کے مضافاتی علاقے جاتی عمرہ میں جاسمٹا ہے، حتیٰ کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان جیسی کرشماتی شخصیت بھی نواز شریف کا سحر نہیں توڑ سکی ہے اور نہ صرف نون لیگ کے ووٹر بلکہ نون لیگ کی پارٹی بھی جم کر نواز شریف کے پیچھے کھڑے ہیں، پاکستان میں کہیں بھی کچھ بھی ہو، تاریں لاہور سے ہی کھڑکتی ہیں، کبھی پیپلز پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز بھٹو کے نام پر اس طرح جیلیں کاٹا کرتے تھے جس طرح ان دنوں نون لیگ کے ایم این ایز اور ایم پی ایز نواز شریف کے نام پر جیل کاٹتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے نواز شریف اپنے نظریئے سے نہیں پھرے گا۔ اس سے قبل نون لیگ کے ممبران قومی اسمبلی کو توہین عدالت کی کاروائیوں میں بھی گھسیٹا گیا مگر پاکستان کی سیاست میں لاہور کے عمل دخل کو کم نہیں کیا جاسکا ہے۔

ایک اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ 1970ء کے بعد سے پاکستانی عوام نے جمہوریت کے ساتھ اپنا ناطہ نہیں توڑا ہے اور جنرل ضیاء الحق کے بدترین مارشل لاء اور جنرل پرویز مشرف کے سب سے پہلے پاکستان کے نعرے باوجود سندھ سے لے کر پنجاب تک جمہوریت کے حق میں آوازے بلند ہوتے دکھائی دیئے ہیں۔ جو کچھ پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ساتھ 80کی دہائی میں ہوتا رہا ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اس طرح تباہ نہ ہوتی، جس طرح کرپشن کے الزامات کی زد میں اس سے جڑے ووٹر سپورٹر ایک ایک کرکے ٹوٹتے چلے گئے اور بالآخر 2018ء میں پی ٹی آئی کی صورت میں دوبارہ نمودار ہو گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نون لیگ کی قیادت کرپشن کے نام پر جس پراپیگنڈے کا سامنا کررہی ہے، اس سے جانبر ہوسکتی ہے یا نہیں! اگر نون لیگ بھی کرپشن کی بنا پر اپنے خلاف ہونے والے پراپیگنڈے کے سبب کِریا کرم کروا بیٹھی تو ملک میں قیادت کا بحران پیدا ہو جائے گا اور ملک بے یقینی اور انارکی کی گہرائیوں میں جا گرے گا۔

اس میں شک نہیں کہ اداروں میں ٹکراؤ رہتا ہے اور وہ اختیار و اقتدار کے نشے میں چور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں، لیکن یہاں پر بھی آخری فیصلہ عوام ہی کرتے ہیں، وہ جس کے ساتھ جا کھڑے ہوتے ہیں آخری جیت اسی کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سپریم کورٹ سے اپنی بے دخلی کے بعد جب نواز شریف نے مجھے کیوں نکالا کی ریلی نکالی تو جی ٹی روڈ پر جس طرح عوام ان کے ساتھ نظر آئے اسی کا نتیجہ تھا کہ 2018ء کے انتخابات میں نون لیگ دوبارہ سے پنجاب میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھری اور پاکستان تحریک انصاف اس طرح کا دم خم نہ دکھا سکی، جس کی انتخابات سے قبل، بلکہ عین انتخابات کے دن بھی توقع کی جا رہی تھی۔ اب بھی جب کہ انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے، بارہا ایسا لگتا ہے کہ ملک میں کوئی انتخابی مہم جاری ہے اور نون لیگ حزب اختلاف میں نہیں، بلکہ حزب اقتدار کی جماعت ہے جس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف اور دیگر آئینی ادارے کمر بستہ ہیں۔

متحدہ اپوزیشن کی جانب سے نئے انتخابات کا تسلسل سے اصرار اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ کہیں پر سارا معاملہ اسی بات پر اٹکا ہوا ہے اور اپوزیشن کچھ لو، کچھ دو کی بجائے اپن عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر حکومت کے خاتمے اور نئے انتخابات کی راہ سیدھی کررہی ہے۔ چونکہ معاملات طے نہیں پا رہے ہیں اس لئے ایک بے چینی، بے یقینی اور پریشانی کا عالم ہے۔ اس کے باوجود کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگیا ہے، اس کے باوجود کہ دنیا بھر سے پاکستان کو ڈالروں کی ترسیل ہوگئی ہے مگر ملک کے اندر ہُو کا عالم ہے، عوام سمجھنے سے قاصر ہے کہ پس پردہ کیا ہورہا ہے، حکومت ساری توجہ ملکی ترقی و خوشحالی پر لگانے کی بجائے اپوزیشن کا باجہ بجانے میں کیوں لگی ہوئی ہے اور اپوزیشن ایک کے بعد دوسری چال چلتے ہوئے صورت حال کو گھمبیر کیوں کرتی جا رہی ہے!

پاکستان کی سیاست لاڑکانہ میں اٹکی ہوئی تھی تو سندھو دیش کی باتیں ہوتی تھیں، لاہور پہنچی ہے تو پاکستان کی باتیں ہوتی ہیں، کیا خیبرپختونخوا کیا بلوچستان، وہاں سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن کی جماعتیں نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کے نعرے اور فلسفے کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہیں، کیا یہ دیوار، دیوارِ چین ثابت ہوگی؟.... اس کا فیصلہ آنے والے تین مہینوں میں ہو جائے گا!

مزید : رائے /کالم