نئی برآمدی پالیسی  اور  ٹیکسٹائل انڈسٹری پر چھائے کالے بادل

نئی برآمدی پالیسی  اور  ٹیکسٹائل انڈسٹری پر چھائے کالے بادل

  



وزیر اعظم کے مشیر برائے سرمایہ کاری و تجارت عبدالرزاق داؤد کے ایک حالیہ بیان ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کو انٹرویومیں انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہمیں ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی طرح اپنی برآمدات کو 100 ارب ڈالرز یا 200 ارب ڈالرز تک لے جانا ہے تو یہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری سے ممکن نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ گارمینٹس کی شپ منٹس میں 36 فیصد اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کسی کا مارکیٹ شیئر حاصل کررہے ہیں۔وفاقی وزیر نے یہ کہہ کر کہ اگر ایکسپورٹس کو بڑھانا ہے تو ٹیکسٹائل کا منترا ترک کرنا ہوگا۔ 

پاکستان نے آئندہ ماہ 20سیکٹرز کیلئے نئی برآمدی پالیسی لانے کا اعلان کردیا ہے۔ رزاق داؤد کا کہنا تھا کہ پاکستان برآمداتی صلاحیت کے حامل کئی شعبوں میں ٹیکس رعایت دینے پر غور کررہا ہے تاکہ تجارت کو فروغ دیاجاسکے، انجینئرنگ، کیمیکلز، ٹیکنالوجی اور فٹ ویئر ان 20سیکٹرز میں شامل ہیں جن کو رعایت دینے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں آئندہ ماہ نئی برآمدی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا، پاکستان برآمدات کے سالانہ موجودہ حجم کو 20ارب ڈالرز اضافی بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ فارن ایکسچینج میں اضافہ کیا جاسکے اورگرم بازاری اور کساد بازاری کے دیرینہ سائیکل سے نکلا جاسکے۔

عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ وہ ایک وقت کیلئے اس ٹیکس رعایت کے حق میں ہیں جو کہ 3سے 4سال کے عرصے کیلئے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے رعایت کی مخالفت کی۔اس وقت پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 60 فیصد ٹیکسٹائل انڈسٹری سے ملتا ہے۔ 

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جون میں ختم ہونے والے رواں مالی سال میں برآمدی شپ منٹس 24.5 ارب سے 25 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہیں جو کہ گزشتہ مالی سال 23 ارب ڈالرز تھی۔

رزاق داؤد کا کہناہے کہ وہ ان چینی کمپنیوں کی جانب سے دلچسپی دیکھ رہے ہیں جو پاکستان میں فیکٹریاں قائم کرکے اسے برآمدی حب کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ وفا قی حکومت نے ٹیکسٹائل ڈویژن کو ختم کر دیا ہے۔تجارت و ٹیکسٹائل ڈویژنز کو ضم کر دیا گیا ہے۔وزارت تجارت و ٹیکسٹائل کا صرف ایک کامرس ڈویژن ہو گا۔وفاقی وزارتوں کی تعداد 33، ڈویژنز کی تعداد کم ہو کر 41رہ گئی ہے۔

اس پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا چلنا ممکن نہیں رہا، وزیرِ اعظم عمران خان صورتِ حال کا نوٹس لیں۔اپٹما رہنماوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے آتے ہی گیس اور بجلی ٹیرف کم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک پورا نہیں کیا گیا۔انہوں نے شکوہ کیا کہ گیس اور بجلی ٹیرف کم ہونے کی امید پر نئی سرمایہ کاری ہوئی تھی، لیکن حکومت وعدہ پورا نہیں کر رہی، اب جولائی سے بلوں میں بقایا جات بھی شامل کر دیئے گئے ہیں۔

پیٹرن انچیف اپٹما گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ برآمدات بڑھائے بغیر معاشی استحکام کا تصور نہیں کیا جا سکتا، پنجاب کی صنعت کو گیس اور بجلی کے متوازن ریٹ دیئے جائیں، اس ضمن میں پیر کو وزارتِ توانائی کے حکام سے ملاقات کریں گے۔اپٹما رہنماوں نے واضح کیا کہ بند انڈسٹری کو چلانا چاہتے تھے لیکن سستی توانائی کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہے، حکومت اپنے منشور کے برعکس فیصلے نہ کرے ورنہ بے روزگاری اور مہنگائی مزید بڑھے گی۔

آئی ایم ایف سے قرضے کی شرائط کے تحت حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر سے بجلی اور گیس کے نرخوں میں دی گئی مراعات واپس لے رہی ہے جس کے نتیجے میں بجلی گیس کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اس کے علاوہ بجٹ میں ٹیکسٹائل سمیت 5ایکسپورٹ سیکٹرز سے سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹنگ مراعات ختم کرنے سے اس سیکٹر کی ایکسپورٹ مزید کم ہوں گی۔

حکومت نے آئی ایم ایف قرضے کی شرائط کے تحت آئندہ بجٹ میں ایکسپورٹس کے 5سیکٹرز ٹیکسٹائل، لیدر، کارپٹ، اسپورٹس اور سرجیکل گڈز سے زیرو ریٹنگ کی مراعات ختم کرنے کا اعلان کرچکی ہے جس سے ملکی ایکسپورٹس پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کی مجموعی 25ارب ڈالر ایکسپورٹس میں سے 13ارب ڈالر ٹیکسٹائل سیکٹر کی ہیں جو 55فیصد سے زائد ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر مینوفیکچرنگ میں 38فیصد ملازمتیں فراہم کرتا ہے اور جی ڈی پی گروتھ میں اس کا حصہ 8سے 9فیصد ہے۔ پاکستان دنیا میں کاٹن پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر اصلاحات نہ کئے جانے کی وجہ سے فروغ نہ پاسکا۔ ہماری کاٹن کی پیداوار 13ملین بیلز سالانہ سے آگے نہیں بڑھ سکی جبکہ انڈیا نے بی ٹی کاٹن کے استعمال سے گزشتہ چند سالوں میں اپنی کاٹن کی پیداوار 18ملین بیلز سے بڑھا کر 36ملین بیلز کرلی ہے اور آج پاکستان انڈیا سے کاٹن امپورٹ کررہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے ٹیکسٹائل کی حیثیت سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے پاکستان کی پہلی ٹیکسٹائل پالیسی 2009-14میں کئی اصلاحات اور مراعات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن 5سالہ پالیسی میں صرف پہلے دو سال وزارت خزانہ نے اصلاحات کیلئے فنڈز جاری کئے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل پالیسی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کئے جاسکے۔ ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹس گزشتہ کئی سالوں سے 13بلین ڈالر سے زیادہ نہیں بڑھ سکیں جبکہ بنگلا دیش جو کاٹن یارن اور فیبرک دوسرے ممالک سے امپورٹ کرتا ہے، کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس ہم سے 3گنا زیادہ ہو چکی ہے جس کی وجہ ہماری پیداواری لاگت میں اضافہ اور ٹیکسٹائل مصنوعات کا عالمی منڈی میں غیر مقابلاتی ہونا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے، بینکوں کے قرضوں کی شرح سود اور سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹڈ مراعات ختم کرنے سے ہماری پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔

زیرو ریٹنگ مراعات ختم کرنے سے ملکی ایکسپورٹس پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ حکومت سیلز ٹیکس وصول کرکے ایکسپورٹرز کو ریفنڈ کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اس وقت بھی ایکسپورٹرز کے گزشتہ کئی سالوں کے 400ارب روپے سے زائد ریفنڈز ایف بی آر نے ادا نہیں کئے جس سے ایکسپوٹرز کی مالی حالت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ 12.25فیصد کرنے سے بینکوں کے قرضوں کی شرح سود 15فیصد سے زائد ہوگئی ہے جو ایکسپورٹرز پر ناقابل برداشت اضافی مالی لاگت ڈال رہی ہے۔ یہ سب عوامل پیداواری لاگت میں مزید اضافے کا سبب بنیں گے جس سے ہماری ایکسپورٹس مزید گریں گی۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ گزشتہ ایک سال میں 35فیصد اور موجودہ حکومت کے 9ماہ میں 20فیصد روپے کی قدر

 میں کمی کرنے کے باوجود ہماری ایکسپورٹس بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہیں۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ وہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کے ذریعے 5550ارب روپے وصول کرے گی۔ اس سے پہلے یہ ہدف 4150ارب روپے تھا۔ اس مقصد کیلئے حکومت کو35فیصد اضافی ٹیکس جمع کرنا پڑے گا جو موجودہ معاشی صورتحال میں ممکن نہیں۔ ہمارا ٹیکسٹائل کا شعبہ 23سے 24ارب ڈالر مالیت کا ہے جس میں 12سے 13ارب ڈالر کی ایکسپورٹس ہیں جبکہ 8سے 10ارب ڈالر ٹیکسٹائل کی مقامی مارکیٹ ہے۔ اس طرح پورا ٹیکسٹائل سیکٹر 3.5کھرب روپے کا ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کا کہنا ہے کہ کاٹن سے بننے والی ٹیکسٹائل مصنوعات گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل، ہوزری، تولیہ، ڈینم زیادہ تر ایکسپورٹ کردی جاتی ہیں اور مقامی مارکیٹ میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی فروخت بہت کم ہے لہٰذاان مصنوعات پر 17فیصد کی شرح سے 700ارب روپے کا سیلز ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے۔ بنگلا دیش میں سیلز ٹیکس ریفنڈ کا طریقہ کار نہایت سادہ ہے جہاں برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی بینکوں میں وصول ہونے کے بعد ایکسپورٹرز کو فوری طور پر ریفنڈ کردیئے جاتے ہیں۔

ٹیکسٹائل سیکٹر کے مطابق 700ارب روپے کا اضافی بوجھ ٹیکسٹائل کی صنعت کی کمر توڑ دے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نے پیپلزپارٹی دورِ حکومت میں ان 5ایکسپورٹ سیکٹرز کی سیلز ٹیکس چھوٹ کی سہولت بحال کرائی تھی اور اب پی ٹی آئی حکومت اس سہولت کو دوبارہ ختم کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت کا یہ تجربہ ملکی برآمدات جو گزشتہ 6سالوں میں بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہیں، کو مزید نقصان پہنچائے گا۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت کسی ایسے فیصلے سے گریز کرے جو ہمارے کماؤ پوت سیکٹر کو نقصان پہنچائے۔

2005-06میں ہمارے ٹیکسوں کی وصولی کی شرح 500سے 600ارب تھی جو ہر سال بڑھ کر گزشتہ سال 4ہزار ارب روپے ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود جی ڈی پی میں ہماری ٹیکسوں کی شرح وہی 9فیصد ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کررہے بلکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر ہی نئے ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں جو ان کی مقابلاتی سکت ختم کررہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی ٹیکس وصولی کی یہ حکمت عملی غلط ہے۔ ایف بی آر کو نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لاکر ٹیکس کی جی ڈی پی میں شرح کو 9فیصد سے بڑھاکر 16فیصد تک لے کر جانا ہوگا۔ پاکستان کا زرعی سیکٹر (20فیصد) اور صنعتی سیکٹر سکڑ کر 20فیصد جبکہ سروس سیکٹر پھیل کر 60فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صنعتی مقابلاتی سکت ختم ہونے کی وجہ سے پاکستان ایک ٹریڈنگ اسٹیٹ بنتا جارہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے کہ بیرونِ ملک سے اشیا امپورٹ کرکے فراہم کرنا ہمارا مقدر نہیں۔ بابائے قوم نے تو زرعی و صنعتی پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔

پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنی افادیت کھوچکی ہے، صورت حال کا اندازہ اس سے لگایاجا سکتا ہے کہ چین کی طرف سے کئی یونٹ پاکستان شفٹ کرنے کی باتیں ہوتی رہی تھیں اور اس مقصد کے لئے شیخوپورہ کے نزدیک موٹر وے پر قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا تھا جہاں پر چینی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے یونٹس کو شفٹ ہونا تھا، اس کے علاوہ وہاں پر ٹیکسٹائل یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں آنا تھاتاکہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن دی جا سکے لیکن یہ سب باتیں محض باتیں ہی رہ گئیں اور اب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی یعنی ٹیوٹا ہی کے ذمے یہ کام لگادیا گیا ہے۔ 

گزشتہ چھے سات برسوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دی جانے والی مراعات کا بتدریج خاتمہ کیا گیا ہے، یہی نہیں بلکہ بجلی اور گیس پر سبسڈیاں بھی ختم کردی گئی تھیں، بینکوں نے بھی سستے قرضے فراہم کرنا بند کردیئے تھے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اگر کچھ ملا تھا تو جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں قرضوں کی معافی تک محدود رہا، اس کے بعد سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو خاطر خواہ حکومتی مدد نہیں ملی ہے جس وجہ سے سینکڑوں ملیں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں۔ 

موجودہ حکومت نے بھی آغاز میں تو مراعاتی پیکج دیا تھا لیکن پھر سال گزرنے کے باوجود ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ میں مطلوبہ اضافہ نہ ہوا، الٹا اسد عمر کو وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹادیا گیا اور پھر ایک ایک کرکے ہر رعائت واپس لے لی گئی اور اب رزاق داؤد ٹیکسٹائل انڈسٹری کے متعلق ایسے ہی خدشات کا اظہار کررہے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مستقبل پر کالے بادل چھانے والے ہیں۔ اس صورت حال پر شاکر شجاع آبادی کا ایک شعر ہی پڑھا جاسکتا ہے کہ

توں  شاکر  آپ  سیانا  ایں !

ساڈی شکلاں ویکھ، حالات نہ پُچھ

سرخیاں 

پاکستان نے آئندہ ماہ 20سیکٹرز کیلئے نئی برآمدی پالیسی لانے کا اعلان کردیا 

100 ارب ڈالرزایکسپورٹ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری سے ممکن نہیں 

ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دی جانے والی مراعات کا بتدریج خاتمہ کیا گیا ہے 

تصاویر

رزاق داؤد

گوہر اعجاز

جنرل پرویز مشرف

ٹیکسٹائل انڈسٹری

مزید : ایڈیشن 1


loading...