گیس نرخوں میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونگیں:پیاف

گیس نرخوں میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونگیں:پیاف

  



لاہور (آن لائن)چیئرمین پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنزفرنٹ (پیاف) میاں نعمان کبیرنے سوئی گیس کمپنیوں کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں مجوزہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونگی، حکومت گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے سے قبل تاجر برادری کا خیال رکھے ملکی معیشت کو مشکلات سے نکالنے کے لئے صنعتی سر گرمیوں اور برآمدات کا فروغ ضروری ہے لیکن گیس مہنگی ہونے سے نہ صرف صنعتی سرگرمیاں متاثر ہونگی بلکی برآمدات کے فروغ کا حکومتی ویژن شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا اسکے ساتھ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کو پورے پریشر سے گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے، مہنگی گیس کے ساتھ گیس کی عدم دستیابی مسائل میں مزید اضافے کا باعث ہے کم پریشر کے ساتھ بھاری مشینری چلنے سے قاصر ہے، جب صنعتیں پوری کیپسٹی کے ساتھ نہیں چلیں گی تو صنعتوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ان خیالات کا اظہار میاں نعمان کبیر نے وائس چیئرمین پیاف ناصر حمید خان اور جاوید اقبال صدیقی کے صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام کے علاوہ صنعتی شعبہ پر زیادہ بوجھ پڑے گا پیداوار مہنگی اور اشیاء مہنگی ہونے سے اس کا اثر برآمدات کی کمی کی صورت میں نکلے گا اس لیے حکومت گیس کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ کو مسترد کرے اور گیس مہنگی کرنے کی بجائے اس کی چوری روکے تاکہ گیس کمپنیوں کے خسارہ میں کمی آسکے انہوں نے کہا کہ گیس پاکستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہورہی ہے اس لیے اس کی قیمتوں میں اضافہ بلاجواز ہوگا۔جاوید اقبال صدیقی نے کہا کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت پہلے ہی بہت زیادہ ہے گیس کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ سے پیداوار مزید مہنگی اور برآمدات بڑھانے کا خواب ادھورا رہ جائے گا جبکہ ماہ روان کے اختتام پر شرح سود اور مہنگائی میں میں معمولی کمی کی توقع کی امیدیں خاک میں مل جائیں گی اس لئے حکومت اوگرا کی طرف سے گیس کی قیمتیں بڑھانے کی درخواست کویکسر مسترد کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوئی ناردن اور سوئی سدرن کے مطابق سالانہ 45 ارب کی گیس چوری، لیک اور ضائع ہو رہی ہے۔ان کمپنیوں کے نقصانات مسلسل بڑھ رہے ہیں جس کا خمیازہ ایماندار صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ گیس چوری کے خلاف آپریشن سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گیس کے شعبے کے گردشی قرضہ اور بار بار قیمتوں میں اضافے کے رجحان کا خاتمہ کیا جا سکے۔

مزید : کامرس