پروین شاکر۔۔خوشبو بکھیرتی شاعرہ

پروین شاکر۔۔خوشبو بکھیرتی شاعرہ

  



26دسمبر،پروین شاکر کی 25ویں برسی

ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@ygmail.com

کُو بکُوپھیل گئی بات شناسائی کی

اُس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی

پروین شاکر جس کے شعررنگ وخوشبوبکھیرتے ہیں ان کو بھلا کوئی کیسے بھول سکتاہے۔بیسوی صدی میں اردو کی ممتاز ترین شاعرہ پروین شاکر24نومبر 1952کراچی میں سید ثاقب حسین کے گھر میں پیدا ہوئیں،اُن کے والد خود بھی شاعر تھے اورشاکر تخلص کرتے تھے اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھی۔برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئے۔پروین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی،بعد میں رضیہ گرلز ہائی سکول کراچی میں داخلہ لیا،جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اور پھر سرسید گرلز کالج کراچی سے آئی۔اے اور انگلش لٹریچر کے ساتھ بی۔اے آنرز کیا۔ پروین شاکر نے گریجویٹ ڈگری پہلے انگریزی لٹریچر میں اورپھر Linguistic میں حاصل کی،جامعہ کراچی سے M.Aکی ڈگری اسی عنوان کے تحت حاصل کی،پھر انہوں نے Ph.Dکی ڈگری بھی حاصل کی،پروین شاکر نے M.Aکی ایک ڈگری ہارورڈیونیورسٹی امریکہ سے بھی حاصل کر رکھی تھی،نوجوانی ہی سے شعر کہنے کا ہنر انہیں آگیاتھااس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نو سال تک استاد کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دیے۔اس کے بعد شعبہ کسٹم،گورنمنٹ آف پاکستان میں اپنے فرائضِ منصبی بھی ادا کرتی رہیں۔ 1986میں وہ سیکنڈسیکریٹری،سی بی آر(موجودہ ایف بی آر)اور ڈپٹی کلکٹر کسٹم بھی مقررکی گئیں۔راقم عرصہ دراز سے پاکستان کسٹمز اور FBRسے منسلک ہے۔اکثر اوقات FBR،پاکستان کسٹمز اور دیگر ادروں کے ساتھ میٹنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اسی وجہ سے راقم کی مرحومہ پروین شاکر سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اُن کے مشاہروں میں شرکت اور اُن کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔وہ لطیف جذبات کو لفظوں کا پرہن دینے والی خوشبوؤں کی شاعرہ تھی۔اللہ تعالیٰ انہیں بطورِشاعرہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔پروین شاکر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی کتاب ”خوشبو“پر آدم جی ایوارڈ اور پھر پاکستان کا سب سے اعلیٰ اعزاز پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا،موسم آتے جاتے رہے،ماہ وسال گزرتے رہے مگر ان کے چاہنے والے آج بھی ان کی شاعری سے دل لگائے بیٹھے ہیں۔پروین شاکر نے کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیے تھے مگر وقت کی پنکھڑیاں چنتے چنتے،آئینہ درآئینہ خود کو ڈھونڈتی،شہرِذات کے تمام دروازوں کو پھلانگتی،شاعرہ کی منزل تک پہنچی۔بات پروین شاکر کی نظم کی کی جائے یا غزل کی،کتابوں کا ایک بہترین گلدستہ تیار کیا جاسکتا ہے مگر جہاں ہر ہر لفظ ان کی پذیرائی کے گن گانے میں محوہو وہاں میرے چند الفاظ قارئین کو کہاں مطمئن کر پائیں گے۔انسان کے کردار اور اس کی مجموعی شخصیت کی تعمیر میں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے لیکن ایک اور اہم شے جو کسی بھی انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور کبھی کبھی انسان کو اس کی شخصیت مکمل ہونے کے بعد بھی کسی نئے ماحول میں کھینچ لاتی ہے اور اس کی زندگی کا دھاراہی بدل دیتی ہے،اس کا نام ہے کتاب!چونکہ کتاب کا ذکر چل پڑا ہے تو پروین شاکر کی چند خوبصورت کتابوں کا تذکرہ نہ کرنا اردو ادب اور شاعری سے سراسر زیادتی کے مترادف ہوگا۔اس لئے ان کی وہ کتابیں جو شائع شدہ ہیں اور لوگوں میں کافی مقبول بھی رہی ہے ان میں خوشبو(1976)، صدر برگ (1980)، خودکلامی (1990)،انکار(1990)ماہِ تمام(1994)اور کفِ آئینہ سرِفہرست ہیں۔جب یہ کتابیں شائع ہوئیں تو پروین شاکر ایک پختہ کار شاعرہ کے روپ میں نظر آئیں لیکن ان کی شاعری خوشبوکی طرح دنیائے ادب کو معطر رکھے گی۔

؎ وہ خوشبو ہے ہواؤں میں بکھرجائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

وہ خوش فکر شاعرہ تو تھی لیکن خوش شکل ہونا بھی ان کی شخصیت کو چار چاند لگا گیا۔پروین شاکر اپنے ساتھ بے شمار یادیں لے گئیں، پی ٹی وی کے پروگراموں،مشاعروں اور ادبی جرائد، اخبارات میں کسی شاعرہ کو زیادہ اہمیت ملی تو وہ پروین شاکر تھیں۔شاعری میں نئی نسل کا رول ماڈل تھیں، انہوں نے دلوں پر حکمرانی کی،ایک طرح سے وہ سخن کی شہزادی تھیں،جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار اعزازار پائے۔ خوبرو شاعرہ نے ایک پاکستانی ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی،ان کا ایک بیٹا سید مراد علی بھی ہے،لیکن ان کی شادی کا یہ سفر زیادہ طویل المدت نہیں تھا اور معاملہ طلاق پر جا کر اختتام پایا۔پروین شاکر کی شاعری میں لذتِ انتظارکی کیفیت بھی ملتی ہے۔وفات کی بعد اُن کی دوست پروین قادر آغانے پروین شاکر ٹرسٹ قائم کیا۔پروین شاکر اپنے علاوہ جعفری کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی شاعری پسند کرتی تھیں اور ان کیلئے تحسین کے جذبات رکھتی تھیں۔وہ امریکہ میں بھی رہیں ان کا کہنا تھا کہ عام امریکی بہت فراخ دل اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ہر تہذیب کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جن کو ایک خاص تناظر میں رکھ کر ہی دیکھا جاسکتا ہے۔پروین شاکر نے نسانی جذبوں کا سچ لکھا اور اس محبت کو عورت کی زبان سے ادا کرنا آسان کردیا۔ پروین شاکر تنہائی، جدائی ہجر وصال، محبوب کے تصور میں گم، چاہنے اور چاہنے جانے کی آرزو اور زندگی سے آنکھ ملانے والی شاعرہ تھیں۔ پروین شاکر نے بحیثیت ایک عورت ایسے ہی محبوب کا پیکر اپنی شاعری میں تراشا جو ذہن و گمان سے ماورا نہیں۔ ایک زندہ وجود ہے اور حسیات کے امکان میں موجود رہتا ہے۔شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے کالم نگاری بھی کی اور راقم کا اس حوالے سے بھی ان سے رابطہ رہا۔ ان کی شاعری کا بنیادی وصف جرات اظہار تھا۔ ان کے شعروں میں اعتماد نمایاں تھا۔ ان کی چمکتی آنکھیں ایک نئی صبح کا خواب دیکھتی تھیں۔ان کے احساسات و جذبات کی ترجمان ان کی شاعری حسن محبت، غم و خوشی، سچائی اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے۔ جس طرح وہ خود خوبصورت و حسین تھی، اسی طرح ان کی شاعری دلکش اور خوبصورت ہے۔وہ خوبصورتی کی باتیں کرتی، رنگ و خوشبو کا پیغام دیتی نظر آتی ہیں،اپنے تمام تر صادق جذبوں سمیت ان کی مقبولیت پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کے باہر جہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے ہیں۔ان کی شاعری نوجوان نسل کا کریز بن گئی۔ نوجوان نسل کے رومانی جذبات کو گہرے فنکارانہ شعور اور کلاسی رچاؤ کے ساتھ پیش کرنا پروین شاکر کے اسلوب کی پہچان قرار پایا۔جذبے کی جس سچائی سے پروین شاکر نے اردو شاعری کے قارئین کے دل و دماغ کو اُن گہرائیوں کو آخر حد تک متاثر کیا ہے وہ سچائی تو ”خوشبو“میں ان کے ذاتی کرب کی ٹیس تھی۔

؎ میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

پروین شاکر 26دسمبر 1994 کو اسلام آباد اپنے دفتر جانے کے لیے نکلی تو قریب ہی ایک موڑپر بس کے ایک حادثہ میں شدید زخمی ہونے کے صورت میں ہم سے روٹھ کر عدم کو سدھا ر گئیں۔اللہ رب العزت اُن کے درجات بلند فرمائیں۔جس سڑک پر حادثہ ہوا اُس کا نام پروین شاکر کے نام سے منسوب کر دیا گیاہے۔

؎ مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلاہی دیں گے

لفظ میرے،مرے ہونے کی گواہی دیں گے

مزید : کلچر