حوالات میں بن قیدیوں کی اموات پر خصوصی اقدامات اٹھائے گئے،سی سی پی او

  حوالات میں بن قیدیوں کی اموات پر خصوصی اقدامات اٹھائے گئے،سی سی پی او

  



پشاور(کرائمز رپورٹر) کپیٹل سٹی پولیس کی جانب سے حوالات میں قیدیوں کی اموات پر خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کے تحت تمام تھانوں میں جان بچانے والی ادویات رکھی گئی ہیں، اسی طرح حوالاتوں کو سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی مانیٹرنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران قیدیوں /ملزمان کی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے، اب تک مختلف تھانوں میں ہونے والی اموات کی یا تو ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں اور یا جوڈیشل مجسٹریٹ کی سربراہی میں دفعہ 176 کے تحت جوڈیشل انکوائری کرائی گئی ہے، مستقبل میں حوالاتیوں کے ساتھ ہونے والے حادثات کی روک تھام کو یقینی بنانے کی خاطر پشاور پولیس کی جانب خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کے تحت پولیس اہلکاروں کو ڈاکٹروں کی جانب سے خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے، حوالات میں اموات پر زیرو ٹالرینس پالیسی پر سختی سے عمل در آمد کیا جا رہا ہے، سی سی پی او محمد علی گنڈا پور تفصیلات کے مطابق کپیٹل سٹی پولیس پشاور نے مختلف واقعات جس کے دوران تھانہ ٹاون، آغا میر جانی شاہ، شہید گلفت حسین اور خان رازق شہید میں پولیس حراست میں ملزمان فوت ہوئے تھے کے بعد فوری ایکشن لیتے ہوئے تھانہ آغا میر جانی شاہ میں متعلقہ اہلکاروں جبکہ تھانہ شہید گلفت حسین میں متوفی کے بھائی کی مدعیت میں مخالف فریق کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی، جبکہ اسی طرح تھانہ ٹاؤن اور تھانہ خان رازق شہید میں طبی اموات کے باوجود پولیس نے زیر دفعہ 176 ضابطہ فوجداری کے تحت واقعات کی شفاف انکوائری کی خاطر عدالت سے رجوع کیا اسی طرح دوسری جانب خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ملزمان کے ساتھ کسی بھی حادثہ کی روک تھام اور ان کے قیمتی جانوں کو بچانے کی خاطر خصوصی اقدامات اٹھاتے ہوئے تمام تھانوں کو فرسٹ ایڈ کٹ فراہم کئے گئے ہیں جن میں دیگر ضروری ادویات کے ساتھ ساتھ جان بچانے والی ادویات بھی رکھی گئی ہیں، اسی طرح سروسز ہسپتال کے ماہر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی پولیس اہلکاروں کو مختلف جان لیوا امراض اور ان کے اٹیک کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کے بچاؤ اور ان کی طبی اصولوں کے عین مطابق ان کی بروقت قریبی ہسپتال منتقلی کی تربیت دی گئی ہے، اس کے برعکس تمام تھانوں کے حوالات کے آگے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کر کے انکی مانیٹرنگ شروع کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے سی سی پی او محمد علی گنڈا پور نے ایک مرتبہ پھر عزم دہرایا ہے کہ پشاور پولیس دیگر شہریوں کی طرح ملزمان کی جان و مال کی حفاظت کے لئے بھی پوری طرح مستعد ہے، انہوں نے کہا ہے کہ حوالات میں بند ملزمان کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دیگر شہریوں کو بھی بروقت طبی امداد اور ان کی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال ایل آر ایچ میں سٹی پٹرولنگ فورس کے جوانوں کو خصوصی تربیت دینے کا عمل جاری ہے انہوں نے مزید کہا کہ حوالات میں بند قیدیوں کی اموات کی صورت میں پشاور پولیس کی جانب سے زیرو ٹالرینس پالیسی اختیار کی گئی ہے جس پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...