قائد اعظمؒ کی حقیقت پسندانہ سوچ

قائد اعظمؒ کی حقیقت پسندانہ سوچ
قائد اعظمؒ کی حقیقت پسندانہ سوچ

  



وقت نے،قائد اعظم محمد علی جناح کی حقیقت پسندانہ سوچ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ ہندووں کی طرف سے بھارت کے مسلمانوں اور اقلیتوں پر مظالم جبکہ کشمیر میں جبر مسلسل نے 1947ء میں مولانا ابوالکلام آزاد، جمعیت العلماء ہند اور احراروں کے موقف کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ احراروں کے پیشواہ عطا اللہ شاہ بخاری کے بارے میں اسی لئے تحریک پاکستان کے دوران یہ نعرہ گونجتا تھا کہ پھنس گئی احرار کی لاری یا پیر بخاری۔ میرے قائد جناح نے یہ بھانپ لیا تھا کہ آخر کار ہندووں کا ایجنڈا کیا ہو گا۔اب وقت نے یہ بتا دیا ہے،31دسمبر 2021ء تک بھارت کو مسلمانوں اور عیسائیوں سے پاک کر دیا جائے گا،یہ ہے ایجنڈا جس کا اعلان بی جے پی نے پانچ سال پہلے کر دیا تھا،اسی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور وزیر داخلہ امیت شا کو دیا گیا ہے جس کی سرپرستی وزیر اعظم بھارت نریندر مودی کر رہے ہیں۔یہ ڈیزائن 1947 کے فوری بعد ترتیب دے لیا گیا تھا،مگر عملدارآمد بتدریج تھا،اس حوالے سے سب سے بڑا وار سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل پر حملہ تھا،جس کے ذریعے خالصتان کی تحریک کو دبانا تھا،وقتی طور پر بھارت کو اس سے یہ فائدہ ہواء کہ خالصتان کے مرکزی رہنماء بھنڈرانوالہ سمیت تمام قیادت اور کارکنوں کو مار دیا گیا اور باقیماندہ نے بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کر لی،”را“اور مودی اپنے ایجنڈے پر کام کرتے رہے، مگر قدرت اپنے ایجنڈے پر کارفرما رہی نتیجے میں گولڈن ٹیمپل کے بعد امریکہ و یورپ میں پناہ حاصل کرنے والے سکھوں کو نہ صرف مالی اور معاشی طور پر مستحکم کر دیا بلکہ اندرون خانہ خالصتان کی تحریک کی بنیادیں بھی مضبوط کر دی گئیں اور آج بھارتی پنجاب عملی طور پر بھارت کی انتہا پسند سوچ سے الگ تھلگ اور مرکزی حکومت کے عمل دخل سے آزاد ہے،کرتار پور راہداری کھلنے کے بعد سکھ تنظیموں نے واضح طور پر اعلان کر دیا کہ بھارتی پنجاب کی طرف سے بھارت کو پاکستان پر حملہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سکھوں کے بعد دوسرا وار مسلمانوں پر گجرات میں قتل عام کے ذریعے کیا گیا،یہ اندوہناک واقعہ تب پیش آیا جب مودی گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا،اس واقعہ کے بعد عالمی برادری نے مودی کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کے امریکہ اور یورپ کے متعدد ممالک میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی،سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ،آتشزدگی اور درجنوں پاکستانیوں کی ہلاکت تیسرا حملہ تھا،یہ حملہ اگر چہ بھارتی مسلمانوں کے بجائے پاکستانیوں پر کیا گیا تھا مگر یہ دراصل بی جے پی کے ایجنڈے کا ہی حصہ تھا،اس واقعہ میں جاں بحق افراد کو انصاف آج تک نہ مل سکا مگر انتہا پسند ہندؤں کے حوصلے بڑھ گئے اور مسلمان دشمنی بابری مسجد کی شہادت تک جا پہنچی،سالوں بعد بھارتی سپریم کورٹ نے اس حوالے سے متنازع فیصلہ جاری کیا ہے جسے مسلمانوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے،اس کے علاوہ بھی بھارت کے مختلف علاقوں میں گاؤ کشی کے الزام کے تحت مسلمانوں کے خلاف انتہاپسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں،اسی دوران مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد آزادی کی لہر میں تیزی آئی اور قابض بھارتی فوج نے ظلم،جبر اور تشدد کی انتہا کر دی جس کے نتیجے میں عالمی برادری کو ہوش آیا اور ایک طویل عرصہ کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور وزارت خارجہ کی کوششوں سے عالمی برادری کی توجہ کشمیریوں کی حالت زار کی طرف ہوئی،مگر نتیجے میں بھارتی مظالم کم ہونے کے بجائے بڑھتے چلے گئے،اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ گولہ باری کر کے آبادی کو نشانہ بنا کر سرحدی خلاف ورزی شروع کر دی۔

مودی حکومت کا آخری اقدام متنازع شہریت بل متعارف کرانا ہے،اس بل کے تحت مسلمانوں کے سوا جو بھی بھارت کی شہریت حاصل کرنا چاہے گا اسے شہریت دے دی جائیگی،اس قانون کا نفاذ ہوتے ہی پورے بھارت میں مظاہروں کی آگ بھڑک اٹھی،بھارت میں مقیم ہر اقلیت سے وابستہ افراد نے خود کو غیر محفوظ سمجھنا شروع کر دیا،بھارت نے آسام کے 20لاکھ مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر دی نتیجے میں آسام میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا،منٰی پور،مغربی بنگال، کرناٹک، ممبئی، کولکتہ، پٹنہ، وارنسی، بہار اور مسلمان اکثریتی علاقوں میں کروڑوں بھارتی شہری سڑکوں پر نکل آئے،لاٹھی چارج، فائرنگ، شیلنگ سے 26افراد ہلاک ہو چکے ہیں سیکڑوں زخمی ہیں اور اتنے ہی گرفتار،مگربھارتی حکومت اس کے باوجود مظاہرین کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے،مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی مظاہروں میں پیش پیش ہیں،وہ احتجاجی جلسوں میں اردو کے وہ اشعار دہرا رہی ہیں جو صرف مسلمان استعمال کرتے تھے،ادھر بھارتی پنجاب کے سکھ بھی مشتعل ہیں،مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تو عرصہ سے خراب ہے،35بھارتی ریاستوں میں پرتشدد احتجاج جاری ہے،سات ریاستوں نے بھارت سے علیٰحدگی کا مطالبہ کر دیا ہے،یہ وہ صورتحال ہے جس کی نشاندہی قائد اعظم نے 75سال قبل کر دی تھی۔

قیام پاکستان کی مخالف مسلمان قوتوں کاموقف تھا کہ مسلمانوں کی الگ ریاست کے قیام سے بھارت میں مسلمانوں کی تعداد کم ہو جائے گی جس سے باقی ماندہ مسلمانوں پر بھارت میں زندگی اجیرن ہو جائیگی،ان کے موقف کو اگر سامنے رکھا جائے تو 22کروڑ پاکستانی، 25کروڑ بنگلہ دیشی اور 20کروڑ بھارتی مسلمانو ں کو ملا کر یہ تعداد 67کروڑ بنتی ہے،اور بھارت میں ہندؤں کی تعداد اب بھی ایک کروڑ کے نزدیک ہے اور ان میں شدت پسند چند کروڑ ہیں مگر یہ چند کروڑ اعتدال پسند بھاری اکثریت کے حامل ہندؤں پر بھی بھاری ہیں،مسلمان اور دیگر اقلیتیں ان کے نزدیک کیا حیثیت رکھتی ہیں،معاشی طور پر بھی ان کا پلڑا بھاری ہے،ایسے میں اگر پاکستان وجود میں نہ آتا تو آج 20کروڑ مسلمان مصیبت میں ہیں تو تقسیم نہ ہونے کی صورت میں 67کروڑ مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوتی،مگر ان قوتوں کی باقیات کی آنکھوں پر آج بھی جہالت کی پٹی بندھی ہے۔

دوسری طرف انتہا پسند ہندو ں کو اپنی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں خواہ وہ اپنا ہو یا غیر،اسی وجہ سے بھارت بڑی تیزی سے اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے،مقبوضہ کشمیر،بھارتی پنجاب،آسام،مغربی بنگال تو ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے کہ بنگالی ہندو مسلم سے زیادہ بنگالی ہو نے پر یقین رکھتے اور اس پر فخر کرتے ہیں،بنگلہ دیش مغربی بنگال میں حائل دیوار برلن آج گری کہ کل گری،جس روز بھارت نے پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی غلطی کی اسی روز مشرقی پنجاب بھی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا، کشمیر تو یوں ہی بھارتی کنٹرول سے باہر رہا ہے،آسام بھی پر تول چکا،لگتا ہے مودی کی انتہا پسندی سے پاکستان یا کسی دوسرے ملک کو کم نقصان ہو گامگر بھارت کو اس کی بہت قیمت چکانا ہو گی اور یہ قیمت بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونیکی بھی ہو سکتی ہے،ایسے میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی اور تزویراتی حکمت عملی کو تیز موثرمتحرک اور فعال کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...