خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کا آج25واں یوم وفات، مختلف شہروں میں تقریبات، سیمینار ز کا ا ہتمام

      خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کا آج25واں یوم وفات، مختلف شہروں میں ...

  



رحیم یارخان کہروڑ پکا (بیورو رپورٹ، سٹی رپورٹر) ساحرانہ ترنم، پھولوں اور خوشبوؤں کی شاعرہ، لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے (بقیہ نمبر15صفحہ12پر)

والی پروین شاکر کا 25واں یوم وفات آج (جمعرات کو) ملک بھر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جائیگا۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار، ماہ تمام سمیت درجنوں شعری مجموعہ کلام کی مصنفہ پروین شاکر خواتین کی انتہائی ہر دلعزیز شاعرہ تھیں۔ پروین شاکر 24نومبر1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد پہلے وہ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوئیں پھر انہوں نے کسٹمز ڈیپارٹمنٹ میں اعلیٰ افسر کی حیثیت سے کئی سال تک اپنے پیشہ وارانہ فرائض سر انجام دیئے۔ پروین شاکر نے اپنی لا زوال شاعری میں محبت، حسن اور عورت کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان کی شاعری مختلف نشیب و فراز کا شکار رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں کہیں کرب اورکبھی شگفتگی پر اظہار خیال کیا۔ان کی شاندر خدمات پر انہیں آدم جی ایوارڈ، پرایئڈ آف پرفارمنس اور دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ پروین شاکر کی ازدواجی زندگی بھی مختلف اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ انہوں نے ایک ماہر طب ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی تاہم بعد ازاں ان میں علیحدگی ہو گئی۔ پروین شاکر ایک بیٹے مراد علی کی ماں بھی تھیں۔ لطیف جذبات کو الفاظ کا پیر ہن دینے والی خوشبوؤں کی نفیس شاعرہ پروین شاکر 26دسمبر 1994ء کو 42سال کی عمر میں ٹریفک کے ایک حادثہ میں اپنا سفر زیست تمام کرتے ہوئے مالک حقیقی سے جا ملیں۔ مرحومہ کے 25ویں یوم وفات پررحیم یارخان سمیت مختلف شہروں میں خصوصی تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز، مشاعروں کا اہتمام کیا جائے گا جس میں پروین شاکر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیاجائیگا۔

اہتمام

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...