پاکستان روز ِ اول سے چیلنجز کی زد میں

پاکستان روز ِ اول سے چیلنجز کی زد میں
پاکستان روز ِ اول سے چیلنجز کی زد میں

  



تاریخ کے صفحات پلٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کو اپنے معرض وجود میں آنے کے بعد، پہلے دن سے ہی ہر روز ایک سے بڑھ کر ایک چیلنج کا سامنا رہا۔ درپیش مسائل کے باوجود ہمیشہ پامردی اور زیرک پساندی سے اس کا سامنا کیا۔ بہادری سے اپنے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نبرد آزما رہا۔ بدقسمتی سے سانحہ16دسمبر1971ء ہماری تاریخ کا ایسا سیاہ باب ہے جس کا شاید اب کبھی ازالہ ممکن نہیں۔ دشمن کی بسائی ہوئی بساط نہ سمجھ سکے اور بری طرح ناکام رہے۔ بروقت ادراک نہ ہونے کے باعث داخلی، خارجی اور دفاعی محاذ پر ناکام رہے جس کا سبب ہماری سیاسی بصیرت سے عاری داخلی حکمت عملی تھی۔ داخلی کشمکش اور انتقال اقتدار کی اس جنگ میں اپنا ایک بازو گنوا دیا۔ قائد کی نشان عظمت کے استارہ کو چکنا چور کر دیا۔ ریاست ہار گئی۔ حوص اقتدار جیت گی۔ پلٹن میدان نے چڑیوں اور جنوروں کو روتے دیکھا۔ تاریخ کا سبق ہے کہ تاریخ سے نہ سیکھنے والوں کو تاریخ سبق سکھاتی ہے۔ بقول مرزا غالب

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

سانحوں سے نبرد آزما قوم نے حوصلہ نہیں ہارا پھر سے اپنے قدموں پے کھڑے ہونے کی لگن میں جت گئی۔ اجتماعی بصیرت غالب آئی ریاست کے تمام ستون دوبارہ سے متحد ہوئے اور 1973ء میں وفاقی جمہوری، پارلیمانی دستور پر متفق ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعدق وم کی صحیح معنوں میں یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ وفاقی، جمہوری، پارلیمانی دستور کا نفاذ العمل کسی معجزہ سے کم نہیں۔ مختصر عرصے میں صدیوں کا سفر لمحوں میں طے کرنے کے مترادف تھا۔ پہلی بار وفاق کی تمام اکائیاں متحد اور متفق ہوئیں۔ قوم شکست و ریخت کے عمل سے نکل گئی۔ نئے ولولے اور نئے عزم سے منزل کی طرف اک شاندار سفرکا آغاز تھا۔ کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں سمیٹیں۔ جمہوری راستے سے کئی دفعہ بھٹکے۔ واپس لوٹے تو سفروہیں سے شروع کیا جہاں سے دھاگہ ٹوٹا۔ قوم کی ارتقا کا یہ سفر جاری اور ساری ہے۔ کبھی صدارتی، کبھی پارلیمانی، کبھی جمہوری، کبھی غیر جمہوری، عدالتی فعالیت سے لیکر تعزویراتی گہرائی تک کے تمام تجربات اس تجربات کی آما جگاہ میں اچھی طرح سے آزما لئے۔ یقین محکم کہ سیکھنے کا عمل اب قرب القریب ہو گا۔

سائنسی علوم میں مہارت رکھنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔

تاریخ کے آج اس نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں پھر سے خدشات جڑ پکڑ رہے ہیں کہیں راستے سے بھٹک نہ جائیں، کہیں منزل کھو نہ دیں۔ دست و گریبان کی اس جنگ میں نقصان ہمیشہ ریاست کے حصے میں آتا ہے۔16دسمبر1971ء اس کی زندہ و جاوید اور واضح مثال ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف باعمل تھے تو ریاست کے آدھے حصے سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر جب آپ تاریخ سے نہیں سیکھتے۔ ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہو گا۔ 17دسمبر 2019اپنے پیچھے ان گنت نشان چھوڑ گیا۔ ریاست کے مضبوط ترین حکمران سمجھے جانے والے شخص اور فوج کے سابق سپہ سالار کوایسی سزا کا سامنا ہے جس کا ذکر بھی شاید مناسب نہیں۔ قوم ایک عجیب ہیجان اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ تقسیم در تقسیم کا عمل مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ہم کس راستے پر گامزن ہیں؟افواج پاکستان قوم کا فخر اور سرمایہ ہے۔ ریاست کی آزادی اور سالمیت کی ضامن ہے۔ سابق سپہ سالار کی سزا لمحہ فکریہ ہے۔ اس موقع کو غنیمت جانیے اور سوچیے کہ دست و گریبان کی اس جنگ میں کون جیتا اور کون ہارا اور کیا پایا۔

خدارا غصہ تھوک دیجیے۔ ٹھنڈے دل و دماغ سے اور تحمل سے سوچیے کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔

ہمیں اس باریک فرق کو سمجھنا ہو گا۔ افراد کی جنگ سے نکلنا ہو گا چونکہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔ شاید اس سائنسی اصول کی اب نفی ممکن نہیں۔ اس جنگ میں کچھ تو اصول و ضوابط اپنانا ہوں گے۔ ریاست کے طاقتور ترین عہدوں پر براجمان اشخاص کی ذمہ داری افراد سے زیادہ ہوتی ہے۔ اپنی ذات کی انجمن سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا کہ کیا ہم ایسے ہی رہیں گے۔اس طرح ہم اور کتنی دیر چل پائیں گے۔ ہمیں سوچنا ہو گا۔ وردی میں جو ہیں وہ ہم میں سے ہیں اور باقی ان میں سے ہیں۔ سیاست اورریاست ایک دورسے سے ملزوم، عدل اس سے جدا نہیں۔ ان کے بغیر ریاست کا تصور ایک مردہ معاشرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ ریاست کا استحکام ریاستی اداروں کی مضبوطی کے بغیر ممکن نہیں۔ اپنے دائرہ اختیار کا پھر سے تعین کرنا ہو گا۔(ڈاکٹر ائن آف سیپریشن آف پاور) پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہو گا۔ اختیارات میں علیحدگی کا تصور آئین میں وضع کردہ اصول کے مطابق اپنانا ہو گا۔ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو پھر سے سرحد کا تعین کرنا ہو گا۔ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔ تاریخ کے جھرنکوں میں جھانکا ہو گا۔ بہرحال فیصلہ تو کرنا ہو گا آج نہیں تو کل کرنا ہو گا۔بقائے ہاشمی کا اصول ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ عمل مشکل مگر ناممکن نہیں۔

مزید : رائے /کالم