اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام جشن قائد اعظم کی تقریب کا انعقاد

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام جشن قائد اعظم کی تقریب کا انعقاد

  



کراچی (پ ر)اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”چار روزہ جشن قائد اعظم محمد علی جناحؒکے دوسرے روز کی تقریب کی صدارت امریکا میں مقیم معروف دانشور شاعر رفیع الدین رازنے کی جبکہ مہمانانِ خاص ممتاز شعراء شاعر علی شاعر، گلشن سندھو، سید آصف رضا رضوی تھے۔ اس موقع پر رفیع الدین راز نے صدارتی خطاب میں کہا کہ جب مسلمانان ہند قائد اعظم محمدعلی جناحؒ کی قیادت میں ا یک آزادا ور خود مختیار مسلم ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد میں مصروف تھے تو ان کے ذہن میں یہ واضع تصور تھا کہ ایک ایسا ملک قائم کیا جائے جہاں مسلمان اپنے عقائد اور نظریات کو عملی صورت میں جلوہ گردیکھ سکیں۔ قائدا عظم محمدعلی جناحؒ ایک ایسی آزاد مسلم ریاست کے قیام اور حصول کی جنگ لڑرہے تھے جہاں جمہوریت، مساوات اور رواداری کا دوردورہ ہو۔ جہاں لوگ اسلامی تصورات کے مطابق زندگی گزارنے اور اسے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے میں آزاد ہوں۔معروف شاعرنصیر سومرو نے کہا کہ پاکستان کا قیا م برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تصور کیا جاتاہے۔ اس کی یہ اہمیت اس وجہ سے ہیں ہے کہ مسلمانوں نے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرلی اور دنیا کے نقشے پر ایک نئے اور آزاد ملک کا اضافہ ہوا۔ ایسی آزادی تو کئی دوسری قوموں نے بھی حاصل کی ہے۔ دنیا کے نقشے پر نئے ملکوں کا ظہور بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کی اصل اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے نظریات بنیادوں پر اس ملک کو قائم کیا۔ پاکستان جدید دور میں مذہب کے نام پرقائم ہونے والی اولین ریاست ہے۔ اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ جب ہم قائدا عظم محمدعلی جناحؒکی زندگی، شخصیت، ان کی تقاریر اور ربیانات کا جائزہ لیتے ہیں توہمیں یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی کہ ان کے ذہن میں کس قسم کے پاکستان کا تصور تھا۔ ۱۹۴۰؁ء کی قرارداد لاہور کی منظوری کے موقع پر اپنے تاریخی خطبے میں قائد اعظم نے ایک جگہ کہا تھا ”قومیت کی ہر تعریف کی رد سے مسلمان ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ انکا اپنا ا یک قومی وطن ہو، ان کا اپنا ملک ہوا ور اپنی ریاست و مملکت ہو۔

مزید : صفحہ آخر


loading...