” میں مصباح الحق سے بات کروں گا کہ نسیم شاہ۔۔“ انڈر19 کے ہیڈ کوچ اعجاز احمد نے بڑا بیان جاری کر دیا

” میں مصباح الحق سے بات کروں گا کہ نسیم شاہ۔۔“ انڈر19 کے ہیڈ کوچ اعجاز احمد نے ...

  



لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اعجاز احمد نے کہا ہے کہ نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ انڈر 19 ٹیم کے لیے بہت اہم ہے لہٰذا ان کے حوالے سے مصباح سے بات کروں گا۔دائیں ہاتھ کے 16 سالہ نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے دنیا میں اپنی شناخت بناچکے ہیں۔ پاکستان انڈر 19 ٹیم میں شامل نسیم شاہ نے پہلے قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا کا دورہ کیا وہاں ایک ٹیسٹ میچ کھیلا اور شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔وطن پہنچتے ہی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے تو پاکستان ٹیم کا اعلان ہوتا ہے تو نسیم شاہ کو اس ٹیم میں برقرار رکھا جاتا ہے اور پھر اگلے روز ہی جب سری لنکا کے خلاف تاریخی ہوم ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم کا اعلان کیا جاتا ہے تو نسیم شاہ اس ٹیم میں بھی شامل ہو تے ہیں۔

17جنوری سے جنوبی افریقا میں شروع ہونے والے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کا کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے تاہم نسیم شاہ کو قومی ٹیم منیجمنٹ نے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے جس کے باعث وہ قائد اعظم ٹرافی کے فائنل میں بھی حصہ نہیں لیں گے۔ قومی ٹیم منیجمنٹ اس وقت قطعی اس موڈ میں نہیں ہے کہ نسیم شاہ کو اب پاکستان انڈر 19 کی طرف سے کھیلنا چاہیے بلکہ منیجمنٹ انہیں بنگلادیش کے خلاف متوقع ٹیسٹ سیریز سے قبل آرام دینا چاہتی ہے۔منیجمنٹ کا ارادہ یہی ہے کہ اب نسیم شاہ تین ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں تو اب انہیں آگے کا سفر کرنا ہے اور قومی ٹیم کے ساتھ ہی رہنا چاہیے لیکن پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ہیڈ کوچ اعجاز احمدکا کہنا ہے کہ وہ نسیم شاہ کے حوالے سے ہیڈ کوچ مصباح الحق سے بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نسیم شاہ پاکستان انڈر19 ٹیم کے لیے بھی بہت اہم ہے، وہ ایک حصہ بن چکا ہے، اب اگر نسیم شاہ ٹیم میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے کھلاڑی متحرک ہوں گے، ان میں جوش و خروش بڑھے گا اور ا±س سے سیکھیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھی اس کا فائدہ ہوگا، سب کی نظریں اس پر ہوں گی، بلاشبہ نسیم شاہ پاکستان ٹیم کے ساتھ ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں لیکن ابھی اس میں تجربہ آنا ہے جو اس نے قومی ٹیم کے ساتھ رہ کر سیکھا ہے، اسے برقرار بھی تو رکھنا ہے تو اس کے لیے ورلڈ کپ سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں ہو سکتی۔

اعجازاحمد کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کا ایک الگ دبائو ہوتا ہے، اس دبائو میں رہ کر مزید نکھرنے کا موقع ملتا ہے لہٰذا مجھے امید ہے کہ میں مصباح الحق کو منا لوں گا۔ہیڈ کوچ کے مطابق انڈر19 ورلڈ کپ کی طرح آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ بھی بہت ضروری ہے، اگر بنگلا دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہو تی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ نسیم شاہ کو پھر پاکستان ٹیم میں ہونا چاہیے لیکن ٹیسٹ سیریز نہیں ہو تی اور ٹی ٹوئنٹی میچز ہوتے ہیں تو نسیم شاہ کو پاکستان انڈر19 ٹیم میں ہونا چاہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے لیے نسیم شاہ کے علاوہ بھی پاکستان کے پاس بہت آپشنز ہیں جن میں محمد عامر، وہاب ریاض، عثمان شنواری، شاہین شاہ آفریدی اور محمد موسیٰ شامل ہیں اس لیے منیجمنٹ کو کوئی دشواری نہیں ہوگی۔اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ اگر نسیم شاہ نہیں ملتے تو ان کا پلان بی تیار ہے، 2 فاسٹ بولرز ایسے ہیں جنہیں بیک اپ کے لیے تیار رکھا ہوا ہے، ان میں سے ایک کو نسیم شاہ کی جگہ ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔

مزید : کھیل /علاقائی /پنجاب /لاہور