حکومت کا8 لاکھ 20 ہزار165 خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالنے کافیصلہ

حکومت کا8 لاکھ 20 ہزار165 خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالنے کافیصلہ
حکومت کا8 لاکھ 20 ہزار165 خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالنے کافیصلہ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں نئے لوگوں کو ڈیجیٹل سروے کی بنیاد پر شامل کیا جائے گا۔

ڈاکٹرثانیہ نشترنے بتایا کہ وزیراعظم نے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے حوالے تین باتوں کی منظوری دی ہے۔ 8 لاکھ سے زائد خواتین کو نکال کر ان کی جگہ نئے مستحق افراد کو شامل کیا جائے گا۔وظیفے کی حد پانچ ہزار سے بڑھا کر افراط زر کے ساتھ منسلک کی جائے گی اور اس میں پانچ سو روپے کا اضافہ بھی ہوگا۔لائن آف کنٹرول کے قریب رہائش پذیرشناختی کارڈ رکھنے والی تمام خواتین کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔

معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے بتایا کہ جامع پالیسی کے تحت بی آئی ایس پی پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار 165 خواتین کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 10سال پہلے سروے کے تحت ضرورت مندوں کا اندراج کیا گیا تھا لیکن اب ان کے لیے نادرا کے ذریعے طریقہ کار بنایا گیا ہے۔ بی آئی ایس پی میں شامل نئے افراد کیلئے ڈیجیٹل سروے ہوگا۔معاون خصوصی نے بتایا کہ 15دسمبر سےبی آئی ایس پی کارڈ کا استعمال ختم ہوگیا ہے، خواتین کے بچت بینک اکاوَنٹس کھولے جائیں گے اور مستحق خواتین کو روزگار کی جانب مائل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیرمستحق افراد کو2011 سے ادائیگی ہو رہی تھی لیکن ہماری حکومت نے فیصلہ کیا کہ بی آئی ایس پی سرکاری افراد کیلئے نہیں ہے۔ غیرمستحق افراد کو نکالنے سے 16ارب روپے کی بچت ہوگی۔ڈاکٹرثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازم کسی بھی صورت غربت کی کم سے کم سطح پر نہیں آسکتا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد