’مسٹر جناح، خنزیر اور پرندہ اکٹھے بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے‘ قائد اعظم کے ایک پروفیسر نے ساتھ کھانا کھانے پر انہیں یہ کہا تو جواب کیا دیا؟ جان کر آپ بھی قائداعظم کی ذہانت کے دیوانے ہوجائیں

’مسٹر جناح، خنزیر اور پرندہ اکٹھے بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے‘ قائد اعظم کے ...
’مسٹر جناح، خنزیر اور پرندہ اکٹھے بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے‘ قائد اعظم کے ایک پروفیسر نے ساتھ کھانا کھانے پر انہیں یہ کہا تو جواب کیا دیا؟ جان کر آپ بھی قائداعظم کی ذہانت کے دیوانے ہوجائیں

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) قائد اعظم محمد علی جناح کی ذہانت اور حاضر جوابی کے کئی قصے موجود ہیں جنہیں سن کر آج بھی لوگ دنگ رہ جاتے ہیں۔ ان کے ایسے ہی کچھ قصے آج ہم آپ کو سنانے جا رہے ہیں۔ ایک بار جب قائد اعظم لندن یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، ان کے ایک پروفیسر کو ان کے ساتھ کچھ خاص مخاصمت تھی۔ ایک روز لنچ کے وقت قائداعظم انہی کے ساتھ میز پر کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔ یہ دیکھ کر ان پروفیسر صاحب نے فقرہ کسا کہ ”مسٹر جناح! تم نہیں جانتے کہ خنزیر اور پرندہ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے؟“اس پر قائداعظم نے فوراً سے پیشتر اور مکمل پرسکون رہتے ہوئے جواب دیا کہ ”پروفیسر!آپ پریشان نہ ہوں، میں اڑ کر کسی دوسری میز پر چلاجاﺅں گا۔“

پروفیسر صاحب یہ جواب پا کر بہت غصے میں آ گئے اور بے عزتی کا بدلہ لینے کی ٹھان لی۔ اگلے دن اس نے قائداعظم سے سوال کر دیا کہ ”اگر تمہیں راستے میں پڑے دو بیگ ملیں، جن میں سے ایک میں دولت ہو اور دوسرے میں دانائی، تو تم کون سا بیگ اٹھاﺅ گے؟“ قائداعظم نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ ’دولت۔‘ اس پر پروفیسر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ میں تمہاری جگہ ہوتا تو دانائی والا بیگ اٹھاتا۔ اس پر قائداعظم فوراً بولے ’ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔‘

ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ لنکنز ان میں پڑھتے تھے۔ وہاں آپ فلسفے کا ایک ملحد پروفیسر تھا جو خدا کے وجود کو نہیں مانتا تھا۔ ایک روز وہ اس موضوع پر قائداعظم سے پے درپے سوالات کر رہا تھا کہ خدا کے وجود کو ثابت کرو۔ قائداعظم نے اس کے سوال کے جواب میں ایسی چیزوں کے متعلق سوال کر دیا جنہیں آج تک کسی نے دیکھا نہیں مگر وہ وجود رکھتی ہیں،مثلاً سردی اور اندھیرا۔جس پر انہوں نے کہا کہ ’میرا نقطہ یہ ہے کہ آپ کا فلسفیانہ مقدمہ ناقص ہے۔‘

اسی طرح قائداعظم ایک بار ٹرین کے ذریعے لکھنو¿ سے بمبئی جا رہے تھے۔ راستے میں سفر کے دوران ایک لڑکی آئی اور انہیں لوٹنے کی کوشش کی۔ لڑکی نے انہیں کہا کہ ’تمہارے پاس جو کچھ ہے مجھے دے دو ورنہ میں شور مچا دوں گی کہ تم نے میرے ساتھ دست درازی کی ہے۔‘ قائداعظم نے اس پر کمال حاضر دماغی کا ثبوت دیا اور ایسا ظاہر کیا جیسے وہ بہرے ہوں اور اشارے سے لڑکی سے کہا کہ ’مجھے سنائی نہیں دیتا، جو کہنا چاہتی ہو وہ کاغذ پر لکھ دو۔‘ لڑکی نے وہی دھمکی کاغذ پر لکھ دی۔ اب قائداعظم بولے اور کہا کہ بلا لو لوگوں کو، میں انہیں تمہاری یہ تحریر دکھا دوں گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /سندھ /کراچی


loading...