’’حال ہی میں مجھے ایک خاتون اینکر نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ۔۔۔‘‘سینئر صحافی انصار عباسی نے ایسی بات کر دی کہ شائد ہی کسی کو یقین آئے

’’حال ہی میں مجھے ایک خاتون اینکر نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش ...
’’حال ہی میں مجھے ایک خاتون اینکر نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ۔۔۔‘‘سینئر صحافی انصار عباسی نے ایسی بات کر دی کہ شائد ہی کسی کو یقین آئے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور معروف کالم نگار انصار عباسی نے کہا ہے کہ ہماری دینی اور معاشرتی اقدار کو تیزی کے ساتھ تباہ کیا جا رہا ہےلیکن سب میڈیا سے ڈرتے ہیں،پاکستان میں ایسا بہت کچھ ہو رہا ہے جو پورے معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ہےلیکن اس کی طرف کوئی  توجہ نہیں دے رہا ،حال ہی میں مجھے ایک خاتون اینکر پرسن نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ ٹی وی چینلز کو  مغرب کی بجائے اسلامی اقدار کے مطابق چلایا جائے ۔

تفصیلات کے مطابق مقامی اخبار میں لکھے گئے اپنے کالم میں سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسا بہت کچھ ہو رہا ہے جو پورے معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ہےلیکن اس کی طرف کوئی  توجہ نہیں دے رہا ۔میں ٹی وی کم دیکھتا ہوں اور ڈرامے وغیرہ تو بالکل نہیں ،دیکھنے کاشوق ہے نہ موقع ملتا ہے تاہم آئے دن مجھے لوگ بتاتے ہیں کہ پاکستانی ٹی وی چینلز پہ دکھائے جانے والے ڈرامے ہمارے مذہبی اور معاشرتی اقدار کے برخلاف بنائے جا رہے ہیں۔قوم کی توجہ سیاست کی طرف مرکوز ہے جبکہ ہمارے گھروں میں ہمارے بچوں اور فیملیز کو ایک ایسے کلچر سے روشناس کروایا جا رہا ہے جہاں شراب پینا ،مردوں اور عورتوں کے درمیان غیر اسلامی اور غیر اخلاقی تعلقات قائم رکھنا ،فحاشی و عریانیت جیسے عام سی بات ہو ۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پرائیویٹ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں لادینیت اور اسلام مخالف نظریات کو پھیلانے والے آہستہ آہستہ بڑھتے جا رہے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اِن معاملات پر اُس وقت کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے بھی  ملا ،اُنہوں نے کچھ وعدے تو کئے لیکن عملی طور پر کچھ نہ ہو ا۔نون لیگ کی حکومت میں ،میں نے بارہا اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف صاحب کے سامنے بھی اَن معاملات کو اٹھایا ۔میاں صاحب بھی مانتے تھے  کہ ٹی وی چینلز فحاشی کو بہت فروغ دے رہے ہیں ،وہ یہ بھی وعدہ کرتے تھے کہ اس پر قابو پانے کے لئے اقدامات کریں گے لیکن یہ خرابیاں روز بروز بڑھتی ہی گئیں ۔انصار عباسی کا کہنا تھا کہ یہ بات شائد جنوری یا فروری2014 کی ہے جب نواز شریف عمران خان سے ملنے بنی گالہ گئے ،اُس ملاقات میں دوسرے لوگوں کے علاوہ چوہدری نثار بھی شامل تھے جنہوں نے مجھے  بتایا تھا کہ عمران خان نے ٹی وی پر کسی اشتہار یا گانے کو چلتا دیکھ کر نواز شریف سے درخواست کی کہ ٹی وی چینلز کو فحاشی سے روکا جائے ۔سابق وزیر اعظم تو ایسا نہ کر سکے اور اب عمران خان حکومت بھی پاکستانی معاشرے  کو تباہی کی طرف دھکیلنے والے ان عوامل کو روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

انصار عباسی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں مجھے ایک خاتون اینکر پرسن نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ ٹی وی چینلز کو  مغرب کی بجائے اسلامی اقدار کے مطابق چلایا جائے ۔اینکر پرسن نے بتایا کہ وزیر اعظم تو خواتین اینکرز کے لئے دوپٹہ اوڑھنے  کے بھی حق میں تھے تاہم اُنہیں اُن کے ساتھیوں نے سمجھایا کہ ایسا نہ کریں ،میڈیا پیچھے پڑ جائے گا ۔گویا عمران خان ہوں ،نواز شریف یا کوئی دوسرا سیاست دان ،سب دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے دینی اور معاشرتی اقدار کو تیزی کے ساتھ تباہ کیا جا رہا ہےلیکن سب میڈیا سے ڈرتے ہیں ۔تعلیمی اداروں میں لادینیت اور اسلام مخالف سوچ کو فروغ دینے والوں کو بھی کھلی چھٹی ہےاور اس معاملے میں بھی حکومت کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتیں خاموش  تماشائی بنی اپنے نوجوانوں کے ساتھ کھیلے جانے والے اُس گھناؤنے کھیل کو دیکھ رہی ہیں جو اُن کی دنیا و آخرت کو تباہاور خاندانوں کو برباد کر رہا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...