’ ہم کچھ ملزمان کی ویڈیو بناتے ہیں لیکن عدالت میں پیش نہیں کرتے ‘اے این ایف نے ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کو چکر آنے لگ گئے

’ ہم کچھ ملزمان کی ویڈیو بناتے ہیں لیکن عدالت میں پیش نہیں کرتے ‘اے این ایف ...
’ ہم کچھ ملزمان کی ویڈیو بناتے ہیں لیکن عدالت میں پیش نہیں کرتے ‘اے این ایف نے ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کو چکر آنے لگ گئے

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف ) حکام کا کہنا ہے کہ وہ رانا ثناءاللہ کی ضمانت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس رانا ثناءاللہ کی نگرانی کی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے، بعض مقدمات میں وہ ملزمان کی ویڈیو بنالیتے ہیں لیکن ایسی ویڈیوز کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جاتا۔

اے این ایف حکام نے جمعرات کے روز سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ رانا ثناءاللہ کیس کے سلسلے میں ملاقات کی تھی ۔ اے این ایف حکام کی جانب سے صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اینکر پرسن شہزاد اقبال نے بتایا کہ رانا ثناءاللہ کے کیس میں اے این ایف حکام ہائیکورٹ کے فیصلے سے مایوس ہیں اس لیے انہوں نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس قانون کے سیکشن 29 کے تحت بارِ ثبوت ملزم پر ہوتا ہے ، اسی طرح ایک ایسا جرم جس میں ملزم کو سزائے موت مل سکتی ہے تو اس کیس میں ضمانت نہیں ہوسکتی، انہی باتوں کو بنیاد بنا کر اے این ایف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔

صحافیوں سے گفتگو میں اے این ایف حکام سے جب شہریار آفریدی کے اس دعویٰ سے متعلق سوال پوچھا گیا جس میں انہوں نے پورے نیٹ ورک کی بات کی تھی تو اے این ایف حکام نے خود کو اس بیان سے دور کرلیا۔ حکام نے کہا کہ ان کے قانون میں اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ کسی شخص کے پاس سے منشیات برآمد ہوگئی ہوں تو اس کی مزید انکوائری کرنی ہے، سیکشن 6 اس شخص پر لاگو ہوتا ہے جو مرکزی ملزم ہے، باقی ملزمان پر یہ لاگو نہیں ہوتا، یہ کیس فردِ واحد کے خلاف تھا اسی لیے انہوں نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست نہیں کی تھی اور نہ ہی دوسری ملزمان کی ضمانتوں کو چیلنج کیا تھا۔

اے این ایف حکام نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے رانا ثناءاللہ کے کیس میں کبھی کسی ملکی یا غیر ملکی نیٹ ورک کا دعویٰ نہیں کیا، ان کی تحقیقات کا دائرہ کار صرف رانا ثناءاللہ تک محدود ہے۔وہ 161 کے بیان کے تحت یہ مان چکے ہیں کہ منشیات ان کی تھیں، 164 کے بیان میں رانا ثناءاللہ نے اعتراف نہیں کیا۔

اینکر پرسن شہزاد اقبال کے مطابق اے این ایف حکام نے شہریار آفریدی کی بہت سی باتوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسی سرویلنس ویڈیو نہیں ہے جس کو بطور ثبوت پیش کرسکیں ، نہ ہی انہوں نے چالان میں رکھا ہے اور نہ ہی اس کو عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ’مختلف ملزمان کو پکڑنے کیلئے ہم کئی طرح کے طریقے اپناتے ہیں ، بعض اوقات ہم ایسی ویڈیو بنا بھی لیتے ہیں لیکن اس کو عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔‘

شہریار آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناءاللہ کے خلاف ثبوت وزیر اعظم کو بھی دکھا دیے گئے ہیں، اس بارے میں اے این ایف حکام نے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے پاس ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ ملزم کے خلاف ثبوت وزیر اعظم کو دکھائے جائیں، نہ ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ ثبوت جا کر وزیر اعظم کو دکھائے جائیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...