”اخوت“ کا جنم

”اخوت“ کا جنم
”اخوت“ کا جنم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


چرچل اور اس کے دوست ایک کھانے کی میز کے گرد بیٹھے چرچل کی خامیاں بیان کر رہے تھے اور ان کا متفقہ فیصلہ تھا کہ چرچل میں کوئی حیرت انگیز ذہانت اور خوبی نہیں ہے۔اس نے جو کچھ کیا وہ ہم بھی کر سکتے تھے،چرچل نے دوستوں کی طرف مسکرا کر دیکھا اور بولا کہ اس کا فیصلہ ابھی کر لیتے ہیں کہ مَیں عام ذہانت کا مالک ہوں یا خاص ذہانت کا۔ دوستوں نے خوش ہو کر کہا ابھی کسی ایک مثال سے فیصلہ کر لیتے ہیں،چرچل نے پلیٹ میں سے ایک انڈا اُٹھا کر ہاتھ میں پکڑ لیا اور دوستوں سے مخاطب ہو کر بولا آپ بھی ایک ایک انڈا اٹھا لیں اور اس انڈے کو بغیر کسی سہارے کے میز پر کھڑا کر کے دکھا دیں۔ چند دوستوں نے کوشش کی، لیکن ناکام ہو گئے اور بولے یہ تو ناممکن ہے۔چرچل نے کہا ”یہ تو بہت آسان کام ہے ذرا غور سے میری طرف دیکھیں“۔ یہ کہہ کر چرچل نے انڈے کے ایک کونے کو تھوڑا سے میز پر مار کر سیدھا کر دیا اور انڈا بغیر کسی سہارے کے کھڑا ہو گیا۔ تمام دوستوں نے شور مچا دیا۔ یہ تو بہت آسان کام ہے اس طرح تو ہم بھی انڈا میز پر کھڑا کر سکتے ہیں، چرچل بولا: آپ درست کہتے ہیں لیکن کریڈٹ اسے جاتا ہے جس نے سب سے پہلے یہ کام انجام دیا۔


اس لطیفے کا ”اخوت“ سے قریبی تعلق اس لئے بنتا ہے کہ جب ڈاکٹر امجد ثاقب سب کے سامنے بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں تو ہر کوئی حیران رہ جاتا ہے کہ اتنی آسانی اور مستقل مزاجی سے تو وہ بھی ایسے کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں، لیکن جب وہ کوشش کرتے ہیں تو ایک اینٹ لگانے کے لئے بھی فنڈ اکٹھا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب  نے چند روز پہلے لاہور کے روایتی ناشتے کی دعوت میں لاہور کے جانے پہچانے صحافیوں، کالم نویسوں، ایڈیٹروں اور اینکر پرسنز کو مدعو کیا اور اپنی تقریر میں  ایک واقعہ بیان کیا، جس نے اُن کی زندگی تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں کروڑوں افراد کو خط ِ غربت سے اوپر اٹھا دیا۔ سلسلہئ گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا، ایک دن میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک پریشان حال خاتون میرے دفتر میں آ گئی اور بولی کہ میرا شوہر انتقال کر گیا ہے اور مَیں بہت پریشان ہوں، کیونکہ بچوں کو پالنا بغیر وسائل کے ممکن نہیں۔ مجھے اگر کچھ رقم مل جائے تو مَیں سلائی مشین خرید کر نہ صرف بچوں کی تعلیم و تربیت مکمل کر لوں،بلکہ آپ کی امانت بھی آپ کو واپس کر دوں گی۔ بات آئی گئی ہو گئی، مَیں نے سلائی مشین خریدنے کے لئے رقم اُس کے حوالے کر دی۔ کچھ عرصے بعد وہ خاتون واپس آئی اور جو رقم لی تھی وہ میز پر رکھ دی اور بولی ”آپ اِس رقم کو جیب میں نہ رکھیے گا، بلکہ کسی دوسرے ضرورت مند کو دے دیجئے گا، کیونکہ اِن دس ہزار روپوں میں بہت برکت ہے“۔ یہ کہہ کر وہ خاتون چلی گئی، لیکن میرے لئے سوچنے کے نئے دروازے کھول گئی، پھر دوستوں سے اِس بات کا تذکر کیا تو بہت اچھی رسپانس ملی اور اس طرح ”اخوت“ نے جنم لیا۔ 


بہت سے صحافی شروع دن سے ڈاکٹر امجد ثاقب  کے کام کو دیکھ رہے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ 50ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے اخوت کالج کی سر سبز کھلی فضا، منظر اور نہر کے کنارے خوبصورت بلڈنگ کے سامنے لان میں بیٹھے ہوئے حیران و پریشان صحافیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ کا ایک تسلسل نظر آ رہا تھا۔ سر سید احمد خان کی  علی گڑھ تحریک کے نتیجہ میں علی گڑھ کالج نے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں بہت اہم کردار ادا کیا،لیکن اخوت کالج اور اگلے مرحلہ میں یونیورسٹی جس تیزی اور عوام کی بھرپور حوصلہ افزائی سے دن رات بڑھتی چلی جا رہی ہے اسے دیکھ کر اندازہ لگانا غلط نہیں کہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت کے قرضوں سے جہاں کروڑوں افراد کو خط ِ غربت سے اوپر اٹھایا، اب عام پاکستانی پڑھنے کے شوقین طلبہ کو بھی ایک ایسا تعلیمی ماحول اور ادارہ نصیب ہو گیا  ہے،جو پہلے صرف امیروں اور صاحب ِ ثروت افراد کے بچوں کو حاصل تھا، اخوت کالج پہنچنے پر طلبہ نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مختلف ٹولیوں نے کالج کے مختلف حصے دکھائے،اِس وقت اکیڈیمک بلڈنگ زیر تعمیر ہے،اِس لئے ایڈمن بلاک اور طلبہ کے ہوسٹل کی بلڈنگ میں عارضی طور پر درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ہوسٹل میں جتنے بھی کمرے ہیں ان تمام کمروں میں فی کمرہ چار طلبہ کو ٹھہرایا گیا ہے اور طرہئ امتیاز یہ ہے کہ چاروں طلبہ  کا تعلق چاروں صوبوں سے ہے، اس طرح قائداعظمؒ کے وِژن کے مطابق ایک حقیقی پاکستان کی بنیاد  رکھی گئی ہے۔


ڈاکٹر امجد ثاقب نے جب  بلڈر سے پوچھا کہ کالج پر کتنی لاگت آئے گی تو اس نے کہا 50کروڑ، اس پر کہا گیا کہ ان 50 کروڑ کو اینٹوں پر تقسیم کرو تو فی اینٹ ایک ہزار روپے لاگت آئی،جب اخوت کالج کی فنڈ ریزنگ ہوئی تو تنظیم کی شاندار کارکردگی اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی دیانت داری کو دیکھتے ہوئے تمام اینٹیں فروخت ہو گئیں اور اب  تو صاحب ِ ثروت بھی اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ میاں مشاق جاوید جیسے ثروت مند بھی ہیں جو پورا بلاک تعمیر کر کے دے رہے ہیں۔مجیب الرحمن شامی نے محفل کے شرکا کی ترجمانی کرتے ہوئے بہت خوبصورت تقریر کی اور عوام سے درخواست کی کہ وہ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں۔
آخر میں ہوسٹل کی کینٹین یا کیفے ٹیریا کا ذکر بہت ضروری ہے، تمام طلبہ ڈسپلن کے پابند ہیں اور اپنے وقت پر پلیٹیں اٹھا کر کینٹین میں داخل ہوتے ہیں، پھر اپنا ناشتہ یا کھانا کھانے کے بعد پلیٹیں واپس لے کر باہر نکلتے ہیں اور انہیں صاف کر کے مخصوص جگہ پر رکھ دیتے ہیں، بالکل اسی طرح سے کپڑے دھونے کے لئے بھی مغربی سسٹم ہے کہ مشینیں لگی ہیں، اپنے کپڑے دھو کر خود استری کرتے ہیں۔لمز یونیورسٹی میں تو طلبہ صرف کھانے کی پلیٹ ایک مخصوص جگہ پر رکھتے ہیں،لیکن اخوت کالج نے بہت سی ایسی باتیں کی ہیں،جو فی الحال پاکستان میں عام نہیں ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -