اپوزیشن این آر او کیلئے اداروں کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم 

اپوزیشن این آر او کیلئے اداروں کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم 
اپوزیشن این آر او کیلئے اداروں کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چکوال (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان کاکہنا ہے کہ اپوزیشن نے جیسے فوج پر حملہ کیا ایسا پاکستان میں کبھی نہیں ہوا،ان کاایک ہی مطالبہ ہے کہ کسی طرح این آر او دے دیں ،یہ اداروں کو بلیک میل کرناچاہتے ہیں مجھے تو بلیک میل کر نہیں سکتے ،اگرکسی نے ان چوروں کواین آر او دیاتووہ حکومت سے غداری کرے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے چکوال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن نے جیسے فوج پر حملہ کیا ایسا پاکستان میں کبھی نہیں ہوا،اس سے پہلے جنرل مشرف پر تنقیدکی جاتی تھی،مشرف پر تنقید ہوئی لیکن وہ سیاسی جماعت کے سربراہ بھی تھے،ہندوستان کی جعلی سائٹس اس اپوزیشن کو بھی پروموٹ کرتی تھیں ،پہلی اپوزیشن اس طرح آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو ٹارگٹ کررہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کوئی ان سے پوچھے اگر دھاندلی ہوئی تو کیاآپ کسی فورم پر گئے ،ثبوت دیئے نہ کسی فورم پر گئے اور فوج کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا۔
انہوں نے کہاکہ بھارت میں 73 سالہ تاریخ میں ایسی حکومت نہیں آئی جو آج ہے،اپنی فوج کو کہنا کہ الیکٹڈ حکومت کو گرادو،یہ لوگ اپنے آپ کو جمہوری کہتے ہیں،فوجی جوان قربانیاں دے رہے ہیں،فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دے رہی ہے ،ان کاایک ہی مطالبہ ہے کہ کسی طرح این آر او دے دیں ،یہ اداروں کو بلیک میل کرناچاہتے ہیں مجھے تو بلیک میل کر نہیں سکتے ،اگرکسی نے ان چوروں کواین آر او دیاتووہ حکومت سے غداری کرے گا،جنرل مشرف نے ان کو این آراودیا۔
انہوں نے کہاکہ ملک کاقرض30 ہزار ارب تک چلاگیا،پہلے سال کاٹیکس میں سے آدھا ان کیلئے ہوئے قرضوں کی قسطیں اتارنے میں چلا گیا،کرپٹ سربراہ تمام نظام کو خراب کر دیتا ہے ،لوگ جمہوریت کی طرف آنا شروع ہوئے ہم بادشاہت کی طرف جانا شروع ہو گئے، جیلوں میں جو غریب لوگ ہیں ان کاتوقصور ان سے کم ہے ۔
وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ایک کابیٹا ایک کی بیٹی این آر او کیلئے جلسے کررہے ہیں ،ان سے کوئی پوچھے کہ آپ کی قابلیت کیا ہے، ایک گھنٹے کاکام نہیں کیااور ملک چلانے جارہے ہیں ،تعلیم کے بغیر کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا،ہماراسب سے بڑا مسئلہ یہ ہے ہم پانچ سال کاسوچتے ہیں ،بڑے امیر ملکوں میں بھی یونیورسل ہیلتھ کارڈ نہیں ہے ،پرائیویٹ سیکٹر کو ہسپتال بنانے کیلئے سستی زمینیں دیں گے،طبی سامان ڈیوٹی فری امپورٹ کرنے کی اجازت دیں گے، ہیلتھ کارڈ سے پاکستان کے کسی بھی پرائیوٹ ہسپتال سے علاج کرایاجا سکے گا،ہم پاکستان میں پوراہیلتھ سسٹم کھڑا کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ 5 سال میں اندرونی اور بیرونی خسارہ کم کرکے ملک کو پیروں پر کھڑا کر دینگے،ہمیں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں ملاتھا،5 ماہ سے مسلسل کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس میں جارہاہے،ہماراآنے والا لوکل باڈی سسٹم انقلابی ثابت ہوگا،ہم بڑی محنت سے نیا بلدیاتی نظام لا رہے ہیں ،ہم پولیس سسٹم ٹھیک کرناچاہتے ہیں جس کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہمارا تھانہ ایسا ہوگاجہاں کی پولیس کو لوگ اپنی پولیس سمجھیں گے۔