پیغام قائد جو فراموش کر دیا گیا

پیغام قائد جو فراموش کر دیا گیا
پیغام قائد جو فراموش کر دیا گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 آج ہمارے عظیم قائداعظم محمد علی جناحؒ کا یوم پیدائش ہے اور ظاہر ہے قوموں کے محسنوں کے یوم پیدائش پورے تزک و احتشام کے ساتھ ہی منائے جاتے ہیں مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم تو یہ دن بھی قومی یگانگت اور یکجہتی سے بھی منا نہیں سکتے کہ ہم نے تو قائد کے سنہری اصولوں ایمان، اتحاد اور تنظیم کو مدت سے طاق نسیاں پہ رکھا ہے۔یہ اصول ہماری درسی کتب میں،ہمارے تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر کی دیواروں پر تو کندہ ملتے ہیں مگر نہ ہم نے اِن اصولوں کو اپنے دِلوں پر کندہ کیا نہ ہی اِن پر عمل کرنے کی کوشش کی۔1947ء کے وقت انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات پانے کے لیے ایک عظیم قوم ایک بے لوث اور بے بیباک اور منفرد لیڈر کی قیادت میں اِس طرح اکٹھی ہوئی کہ دنیا دنگ رہ گئی۔برصغیر کے مسلمانوں کی بے مثل جہد ِ مسلسل اور لازوال قربانیوں کی بدولت یہ ملک عزیز حاصل ہوا۔کتنے لوگ اِس آزادی پر قربان ہوئے سب تاریخ کا حصہ ہے۔پاکستان حاصل کرنے کے بعد آخر کیا ہوا کہ قائد کے اصول بھی فراموش ہوئے اور قومی وحدت بھی پارہ پارہ۔نہ ہم نے کسی ادارے کی توقیر کی نہ کسی ادارہ نے اِس توقیر کو حاصل کرنے کی شعوری کوشش کی۔یوں لگتا ہے کہ قائد اور اُن کے دو تین قریبی ساتھیوں کی رحلت کے بعد صرف تین چار سال میں سیاسی طور پر  بونے اور چھوٹے قد کاٹھ کے لوگ اقتدار پر قابض ہو گئے۔ عدلیہ، سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ، سبھی قائد کے اصولوں سے ہٹ گئے۔لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ اب اِس ملک نے کس سمت میں چلنا ہے

۔امریکی اثر و رسوخ اِس قدر گہرا اور ہمہ گیر تھا کہ اُس نے اِس ملک کو بری طرح اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا تھا۔ہمیں انگریز سے آزادی تو ملی مگر امریکہ اور آئی ایف ایف کی غلامی زیادہ گہری اور مہلک ثابت ہوئی۔ہماری عدلیہ نے ہر اہم آئینی اور قانونی معرکہ میں نظریہئ ضرورت کو فالو کیا بلکہ اِس کو ایسا جپھا ڈالا کہ اس سے جان چھڑانا مشکل ہو گیا۔ہماری فوج نے بندوق کے زور پر کئی منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا اور کئی بار آئین کی پامالی کی اور ہر بار ہماری اعلیٰ عدلیہ نے اس آئین شکنی پر مہر تصدیق ثبت کی۔ہماری سول اور پولیس سروس اور ہماری بیورو کریسی نے نہ صرف آنکھیں بند کر کے ہر قسم کے غیر قانونی اور غیر آئینی احکامات کی تعمیل کی بلکہ اکثر ڈکٹیٹروں کے آلہ کار کے طور پر بھی کام کیا۔ہمارے سیاستدانوں نے اپنی کوتاہیوں، لوٹ مار، کرپشن اور اقرباء پروری سے قوم کو اتنا مایوس کیا کہ لوگوں کا اِس روایتی سیاست اور اس tailored جمہوریت سے یقین ہی اُٹھ گیا۔ہم نے اپنی ناعاقبت اندیشی کی بدولت آدھا ملک بھی گنوایا اور50 سال گزرنے کے باوجود یہ تعین نہیں کر سکے کہ مشرقی پاکستان میں شکست فوجی تھی یا سیاسی اور یا دونوں آج پھر ہم ایک مشکل اور پیچیدہ سیاسی صورتحال سے دوچار ہیں۔اِس مرتبہ بھی سیاست دانوں کی روایتی ذاتی اغراض کے لیے احمقانہ جنگ میں قومی اداروں کا رول قابل رشک نہ ہے۔ حکومتیں بنائی اور گرائی جا رہی ہیں۔ ہر کوئی دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہا ہے مگر اِس مرتبہ صورت حال زیادہ گھمبیر اور خطرناک ہے کہ معاشی طور پر ایک ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ اگر یہ وطن ِ عزیز معاشی طور پر ڈیفالٹ کر گیا یا مکمل معاشی تباہی کی طرف چلا گیا تو اس کے بڑے بھیانک نتائج ہوں گے اور پھر ممکن ہے کہ اِس وقت باہمی دست و گریباں سیاستدان اِس ملک میں بالکل بے معنی ہو جائیں اور بات کسی اور طرف نکل جائے  یہ وقت بڑا اہم ہے۔اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھنا ہو گا اور ملک کو بچانا ہو گا۔وقت کم ہے اور جلد فیصلے کرنے ہوں گے۔ دسمبر1971ء میں بھی پی سی ہوٹل ڈھاکہ میں سیاسی لیڈروں اور فوجی ڈکٹیٹر کے درمیان مذاکرات جاری تھے کہ انڈین اور امریکی سازش سے ساری بساط ہی اُلٹ دی گئی۔بدقسمتی سے آج پھر کوئی بھی سیاسی لیڈر اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ رہا،ہر کوئی اپنے مفاد کا کھیل کھیل رہا ہے۔ مولانا کوثر نیازی مرحوم نے غالباً 1960ء کی دہائی میں قائداعظمؒ  کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک دلنشیں نظم لکھی تھی لگتا ہے کہ آج بھی اسی طرح مؤثر ہے۔ اُس کے ایک دو بند پیش کر کے بات ختم کرتا ہوں۔


حق بات کی خاطر وہ تیری سعی منظم
شاید کے خدا پر تیرا ایمان تھا محکم
لا ریب ہوا ہندو و انگریز کا سر خم
اے قائداعظم، اے قائداعظم
رہبر ہی مگر ہو گئے رہزن یہ ہمارے
اس حال میں دن ہم نے تیرے بعد گزارے
رکھا نہ گیا ہم سے کسی زخم پہ مرحم
اے قائداعظم،اے قائداعظم

مزید :

رائے -کالم -