تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے

تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے
تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے

  

چین اور انگلستان کی مثالوں نے دنیا میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ نہ تو زیادہ آبادی ملک کے لئے بوجھ ہے اور نہ ہی کم آبادی ترقی اور پیش رفت میں رکاوٹ ہے۔ اصل چیز افراد کا متحرک ہو کر قومی ترقی میں انفرادی طور پر اجتماعی اہداف کے حصول کے لئے مل کر کوشش کرنا ہے....چینیوں ہی کی مثال لیجئے۔ ہر کوئی محنت کرتا ہے۔ صبح سے شام گئے تک سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں۔ آپ کوئی بھی مصنوعات چین لے جائیں۔ آپ کو آپ کی مرضی کی کوالٹی اور قیمت میں کم از کم وقت میں تیار مل جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر ممالک تک سب میں چین کی بنی مصنوعات ملیں گی۔ دنیا چینی مصنوعات کی منڈی بنتی جا رہی ہے۔ اگر آج چین معاشی اور اقتصادی طاقت ہے تو یہ اپنے افراد کی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے ہے۔ زیادہ آبادی ملک پر بوجھ یا رکاوٹ نہیں ہے۔ چین نے سب شعبوں میں ترقی محنتی افراد کی اجتماعی کوششوں سے حاصل کی ہے۔

 دوسری طرف انگلستان کی کم آبادی اس کی تنزلی کا سبب نہیں بنی۔ ایک وقت تھا کہ دنیا میں تاج برطانیہ کی حکمرانی تھی۔ انگریز اپنی ذہانت اور کوششوں کی وجہ سے پوری دنیا میں سپر پاور بنے اور چھائے ہوئے تھے۔ مٹھی بھر لوگ دنیا کی بڑی سلطنت کے مالک بن گئے۔ آج بھی دیکھا جائے تو ہماری یا دنیا کے اکثر ممالک کی نسبت انگلستان میں نہ وسیع زرخیز زمین ہے، نہ وسائل اور معدنیات و تیل، ہاں لوگ انتہائی سنجیدہ، ذہین اور قومی سطح پر ترقی میں اپنا کردار ضرور ادا کرتے ہیں۔

مکہ کے مٹھی بھر مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کی قیادت میں دنیا کی سب سے بہترین اور مثالی فلاحی ریاست قائم کر دی، اس کے بعد مسلمان جہاں جہاں بھی گئے، اپنی روایات اور سنہری مثالیں چھوڑ آئے۔ ان کے سامنے اہداف واضح تھے۔ رضائے الٰہی کے لئے اسلام کا مثبت اور قابلِ تقلید پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ انہوں نے انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک اپنے آپ کو دوسروں کے لئے قابلِ تقلید بنا کر پیش کیا، جن کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد دنیا کے کونے کونے میں پُرامن اور خوشحالی کا پیغام پہنچانا تھا، جس میں وہ کامیاب رہے۔ تُرکوں ہی کی مثال لے لیں۔ دنیا پر ترکوں نے 6 سو سال سے زائد حکومت کی ہے، حالانکہ سلطنتِ عثمانیہ میں صرف 10 فیصد ترک اور 90 فیصد دیگر کمیونٹی کے لوگ تھے۔ سب پُرامن اور خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ وجہ رواداری اور اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہونا تھا۔

خود ہمارے آباو¿ اجداد نے برصغیر پاک و ہند میں 14 اگست 1947ءمیں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھ کر دنیا کو حیران کر دیا تھا کہ بغیر جنگ و جدل اور خون خرابے کے بھی آزادی حاصل کی جاسکتی ہے، تاہم ہمارے آباو¿ اجداد کے خوابوں کی حقیقی تعبیر کے لئے ہمیں اب بھی بہت محنت اور جدوجہد کرنا ہوگی۔ اللہ نے ہمیں سب کچھ دیا ہے۔ اگر کمی ہے تو صرف ارادے، ہمت اور حوصلے کی۔ اگر یہ قوم 7 سال کی قلیل مدت میں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ اگر یہ قوم دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن سکتی ہے۔ اگر یہ قوم بہت سے کھیلوں میں (ہاکی، کرکٹ، سکوائش، کبڈی، کُشتی، بلیئرڈ وغیرہ).... ورلڈ چیمپئن بن سکتی ہے۔ اگر اس قوم کے بچے آکسفورڈ، کیمبرج، ہاروڈ اور دیگر نامور یونیورسٹیوں میں ٹاپ کر سکتے ہیں۔ اگر اس ملک میں گوادر، موٹر وے اورمیٹرو بس بن سکتی ہےں تو یقین کیجئے کہ یہ قوم انشاءاللہ اپنے پاو¿ں پر خود کھڑی ہونے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

ہمیں اپنے آپ کو پہچاننا ہوگا۔ اپنے دوستوں اور دشمنوں کے درمیان تمیز کرنا ہوگی۔ ہمیں انفرادی طور پر اپنے اردگرد کے اندھیروں اور تاریکیوں میں اپنے حصے کی شمع جلانا ہوگی۔ ہمیں اجتماعی طور پر ملک و قوم اور اپنے معاشرے کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہمارے میڈیا اور عدلیہ نے جس طرح اپنی آزادی کی تگ و دو کر کے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے، اسی طرح ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی پختگی اور اہلیت و قابلیت کا احساس دلانا ہوگا۔ ہمارے عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت سے اس مٹی سے محبت کرنے والے اہل لوگوں کو منتخب کرنا ہوگا۔ انتخابات میں مُحبِ وطن لوگوں کو آگے لا کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، تبھی ہم ایک باشعور شہری ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں اور تبھی ہم ملک میں تبدیلی کے لئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں انفرادی طور پر اپنے اپنے کردار کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ اپنے رویوں کو قومی اور اجتماعی فلاح و خوشحالی کے لئے صرف کرنا ہوگا۔ تبھی ہم ایک باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

 جمہوریت ہی سے اس ملک میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس کے ذریعے ہی ہمیں اپنے نمائندوں کو چُننا اور ان کا احتساب کرنا ہوگا۔ آج کا شہری بہت زیادہ باشعور ہے، اسے اپنی توانائیاں اپنے معاشرے اور ملک کی بہتری کے لئے صرف کرنا ہوں گی.... مشہور ترک سکالر محمد فتح اللہ گلن کا قول ہے کہ جو اپنے اردگرد تبدیلی لانا چاہتے ہیں، سب سے پہلے انہیں اپنے آپ میں تبدیلی لانا ہوگی، جو اپنے اندر تبدیلی نہیں لا سکتے، وہ اپنے معاشرے اور ملک کے لئے کیا تبدیلی لائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم باشعور شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے آئندہ انتخابات میں اپنے ووٹ سے اپنے رہنما اور ملک کے لیڈر چنیں۔ووٹ دینے سے پہلے کم از کم 3 بار ضرور سوچیں۔     ٭

مزید :

کالم -