ایک اور کالا باغ ڈیم!

ایک اور کالا باغ ڈیم!
ایک اور کالا باغ ڈیم!

  

بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کے لئے ہونے والے سندھ طاس معاہدے میں جہاں اور بہت سے نقطے تھے، وہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ معاہدہ ہونے کے تیس سال کے اندر پاکستان اپنے باقی ماندہ دریاﺅں کے پانی کو کسی بھی صورت میں زیر استعمال لا سکتا ہے، اس میں زراعت اور بجلی کی پیداوار بھی شامل تھی، جس کے لئے اسے ڈیم بنانے تھے۔ اس وقت کی حکومت نے فوری طور پر اس پر کام شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں تربیلا اور منگلا سمیت کچھ اور چھوٹے ڈیم تعمیر ہو پائے، لیکن دریائے سندھ پر کالا باغ کے مقام پر ایک بڑا ڈیم جب ڈیزائن کیا گیا جو قدرتی طور پر دریائے سندھ میں اس طرح تھا کہ اگر یہ تعمیر ہو جاتا تو دنیا کے چند بڑے ڈیموں میں اس کا شمار ہوتا اوریہ ایک خوبصورت عجوبے سے کم نہ ہوتا، جبکہ اس سے حاصل ہونے والے ثمرات ہماری آئندہ نسلیں حاصل کرتی رہتی ۔یعنی سستی ترین بجلی کی پیداوار اور غیر آباد زمینوں کی آباد کاری کے لئے وافر مقدار میں نہروں کے ذریعے پانی کی فراہمی اس کا خاص جز وتھے، لیکن بھارت کو یہ کیسے ہضم ہوتا کہ پاکستان صرف ایک پراجیکٹ سے اتنا بڑا فائدہ حاصل کرے ،وہ چاہتا تھا کہ پاکستان کو اس مسئلے میں الجھا دے تاکہ وہ یہ عظیم الشان ڈیم تعمیر نہ پائے اور اتنی دیر میں وہ پیریڈ بھی ختم ہو جائے، جو سندھ طاس معاہدے کی رو سے طے تھا کہ بھارت معاہدہ ہونے کے 30 سال تک اپنے دریاﺅں پر کوئی ڈیم نہیں بنا سکتا ، صرف پاکستان ہی ان پانیوں کو کسی بھی صورت میں جمع کر کے استعمال میں لا سکتا تھا۔ سو بھارت نے یہ کر دیا اور اس نے اندرون سندھ کے قوم پرستوں کو یہ باور کرا دیا کہ پنجاب کے مقام کالا باغ پر تعمیر ہونے والے ڈیم میں پانی سٹور ہونے سے دریائے سندھ میں پانی کا بہاﺅ کم ہو جائے گا، جس سے سمندر کا پانی اندرون سندھ میں داخل ہو جائے گا۔ جس سے وہاں آباد زمین سیم زدہ ہو جائیں گی اور زیادہ رقبہ کچے میں تبدیل ہو جائے گا۔

 بدقسمتی ، کمزور رہنمائی اور موقف کو صحیح طور پر نہ سمجھا پانے کی وجہ سے بھارت کا یہ شوشہ کامیاب رہا اور سندھی رہنماﺅں، جن میں قوم پرست بھی شامل تھے، نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت شروع کر دی، اسی طرح خیبرپختونخواکے شہر نوشہرہ کے عوام کو بھی ڈرایا گیا کہ چونکہ کالا باغ کا مقام سطح سمندر سے نو شہرہ سے بلندی پر ہے، اس لئے اگر اس ڈیم میں کوئی خرابی پیدا ہوئی اور پانی ڈیم سے باہر آیا تو نوشہرہ شہر ڈوب جائے گا۔ جس پر خیبرپختونخوا (اس وقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا) کے رہنماﺅں نے بغیر سوچے سمجھے اس کی مخالفت شروع کر دی اور عوام کو ایک مفروضے پر اپنے ساتھ ملا لیا، حالانکہ یہ دونوں باتیں درست نہیں تھیں۔ سمندری پانی کی وجہ سے اندرون سندھ کی زمینوں کو بنجر کرنے کے حوالے سے ورلڈ بنک نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں غلط قرار دیا گیا تھا اور اسی طرح نو شہرہ کے ڈوبنے کا پروپیگنڈہ بھی غلط ثابت ہو گیا ،لیکن آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ یہ حقائق بھی سامنے آنے لگے کہ اس سارے قضیہ کے پیچھے بھارت سرکار کا ہاتھ تھا، جو چاہتی تھی کہ پاکستان 30 سال تک انہی مسائل میں گھرا رہے اور وہ معاہدے کی رو سے وقت مقررہ کے بعد اپنے ملک میں ڈیم بنائے اور اس نے ایسا کر دکھایا اور آج بھارت کے اندر سینکڑوں کے حساب سے ڈیم تعمیر ہو رہے ہیں۔

یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وطن عزیز نہ صرف بجلی، بلکہ پانی کے ایک خوفناک بحران کا شکار ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو دئیے گئے دریاﺅں کی وجہ سے ان میں پانی بالکل نہیں ہے، جس سے ان کے ملحقہ علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح 100 فٹ تک مزید نیچے چلی گئی ہے اور ان علاقوں میں زراعت کے لئے پانی دستیاب نہیں ہے، نہریں سہ ماہی اور زیادہ سے زیادہ ششماہی ہیں، بجلی کے بحران کو ہم سب بھگت رہے ہیں ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے نہریں نہ بن سکیں، جن سے غیر آباد زمینیں آباد نہیں ہوپاتیں، جس سے ہم نہ ختم ہونے والے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں، لیکن ہمیں سمجھ پھر بھی نہیں آرہی۔ اس کی تازہ ترین مثال پر ذرا غور کریں کہ مظفر گڑھ سے آزاد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے تھل کے علاقے میں بجلی پیدا کرنے والے دو میگا منصوبوں کی بھر پور مخالفت کا اعلان کر دیا ہے ان میں ایک سول ایٹمی اور دوسرا کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ ہے۔

 پیپلز پارٹی چھوڑ کر آزاد حیثیت سے منتخب ہونے کے بعد موصوف نے تحریک انصاف سے بھی پینگیں بڑھا ئیں، لیکن اب وہ اپنی سیاست قائم رکھنے کے لئے جنوبی پنجاب کے عوام کے خلاف وہ کھیل کھیل رہے ہیں جو اندرون سندھ میں قوم پرستوں اور دوسرے رہنماﺅں نے سندھیوں کے ساتھ کھیلا تھا۔ جمشید دستی کے ان دو میگا پراجیکٹس کے بارے میں ارشادات ذرا ملاحظہ کر لیں اور خود ہی فیصلہ کریں کہ پاکستان کیوں ترقی نہیں کر پا رہا اور یہاں بحران صرف جنم لیتے ہیں، ختم کیوں نہیں ہوتے؟ موصوف کہتے ہیں کہ مظفر گرھ میں بجلی پیدا کرنے کے لئے کوئلے اور سول ایٹمی پلانٹس سے 15 لاکھ افراد جل کر مر جائیں گے اور یہ پلانٹ ہماری لاشوں پر ہی تعمیر ہو سکیں گے۔ ان پلانٹس کی تعمیر کے خلاف باضابطہ احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور دھرنوں کے ساتھ احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی.... کیا جمشید دستی کا یہ رویہ ایک محب وطن قوم پرست کا ہو سکتا ہے؟ جو اپنے ہی ملک کی ترقی کے خلاف برسرپیکار ہو گیا ہے .... اور کیا کالا باغ ڈیم والی تاریخ دوبارہ دہرائی جا رہی ہے؟

مزید : کالم