انڈر19ورلڈ کپ - جیت مبارک!

انڈر19ورلڈ کپ - جیت مبارک!

پاکستان کے نونہال کرکٹ کھلاڑیوں نے سیمی فائنل کا معرکہ سرکر کے انڈر19ورلڈ کرکٹ کپ کے فائنل میں جگہ بنا لی ہے ۔ ان سطور کے شائع ہونے تک یہ فیصلہ بھی ہو چکا ہو گا کہ یہ نوجوان بلکہ نوعمر شاہین یکم مارچ کو فائنل میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں سے ٹکرائیں گے یا پھر ان کا مقابلہ جنوبی افریقہ کے لڑکوں سے ہو گا۔

پاکستان کے طلباءکی اس ٹیم نے فائنل میں جگہ بنا کر ملک کو یہ اعزاز پانچویں مرتبہ دلایا ہے اور ہفتہ کو فتح کی صورت میں تیسری مرتبہ عالمی چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل ہو گا۔(انشاءاللہ)ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل انڈر 19کا یہ سیمی فائنل بہت دلچسپ تھا اور پاکستانی لڑکوں نے تحمل، برداشت اور بہادری سے جاتے میچ کو اپنی جھولی میں ڈالا اور سرخرو ہوئے۔ ٹیم کے کھلاڑیوں کی بھی تعریف کرنا چاہئے تاہم کپتان سمیع اسلم، نائب کپتان امام الحق خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کے بیٹ سے اگلنے والے رنز نے ہی ٹیم کو یہ مقام دلایا۔ سیمی فائنل میں باﺅلروں نے بد دماغ گورے لڑکوں کو 204رنز تک محدود کر کے ایک اچھا کارنامہ انجام دیا کہ ہدف آسان نظر آ رہا تھا لیکن امام الحق کی انجری اور سمیع الحق کے آﺅٹ ہو جانے کے بعد صورت حال خراب نظر آئی تاہم سعود شکیل اور حمزہ نے بہت سہارا دیا ان دونوں بلے بازوں نے تحمل کا مظاہرہ کر کے سکور آگے بڑھایا تاہم حمزہ کے آﺅٹ ہونے کے بعد جب دو تین وکٹیں جلد گر گئیں تو ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ میچ جیتا نہیں جا سکے گا لیکن حماد بٹ اور گوہر نے تحمل اور عقلمندی سے یہ معرکہ سر کر لیا پوری ٹیم مبارک کی مستحق ہے اور قوم فائنل کے لئے دعاگو ہے تاہم امام الحق کے حوصلے اور دلیری کی داد دینا چاہئے کہ اس نوجوان نے زخمی ہونے کے باوجود اوپننگ کر کے حوصلے کا ثبوت دیا جو دوسرے کھلاڑیوں پر اثر انداز ہوا اگرچہ تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر فیصلہ نہیں تھا۔

کرکٹ بورڈ کے صدر نجم سیٹھی اور دوسرے راہنماﺅں نے ٹیم کو مبارکباد دی اس ٹورنامنٹ کی ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ کرکٹ کے بگ تھری کے دونوں ممالک بھارت اور انگلینڈ کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل کے مرحلے ہی سے فارغ ہو گئے اور یوں بڑوں نے جو اجارہ داری قائم کی چھوٹوں کی وجہ سے اسے داغ لگ گیا ہے۔

دنیائے کرکٹ میں کھلاڑی نیچے سے ہی پیدا ہوتے ہیں ، پاکستان میں بھی بے شمار قومی کرکٹر انڈر19اور انڈر 21کی ٹیموں سے آئے ہیں۔ اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اچھی اور بہترین ٹیم کے لئے نچلی سطح ہی سے تیاری ضروری ہے اور یہ سکول کے دور سے شروع ہونا چاہئے۔ اس لئے ہماری حکومت اور ہمارے سپورٹس بورڈوں کو سکول کی سطح پر کھیلوں کے فروغ پر توجہ دینا چاہئے۔ قوم خوش اور مبارکباد دیتی ہے اور یہ بھی دعا ہے کہ سینئر ٹیم بھی ایشیا کپ میں اپنے ٹائٹل کے دفاع میں کامیاب ہو۔

انڈر19ورلڈ کپ - جیت مبارک!

پاکستان کے نونہال کرکٹ کھلاڑیوں نے سیمی فائنل کا معرکہ سرکر کے انڈر19ورلڈ کرکٹ کپ کے فائنل میں جگہ بنا لی ہے ۔ ان سطور کے شائع ہونے تک یہ فیصلہ بھی ہو چکا ہو گا کہ یہ نوجوان بلکہ نوعمر شاہین یکم مارچ کو فائنل میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں سے ٹکرائیں گے یا پھر ان کا مقابلہ جنوبی افریقہ کے لڑکوں سے ہو گا۔

پاکستان کے طلباءکی اس ٹیم نے فائنل میں جگہ بنا کر ملک کو یہ اعزاز پانچویں مرتبہ دلایا ہے اور ہفتہ کو فتح کی صورت میں تیسری مرتبہ عالمی چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل ہو گا۔(انشاءاللہ)ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل انڈر 19کا یہ سیمی فائنل بہت دلچسپ تھا اور پاکستانی لڑکوں نے تحمل، برداشت اور بہادری سے جاتے میچ کو اپنی جھولی میں ڈالا اور سرخرو ہوئے۔ ٹیم کے کھلاڑیوں کی بھی تعریف کرنا چاہئے تاہم کپتان سمیع اسلم، نائب کپتان امام الحق خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کے بیٹ سے اگلنے والے رنز نے ہی ٹیم کو یہ مقام دلایا۔ سیمی فائنل میں باﺅلروں نے بد دماغ گورے لڑکوں کو 204رنز تک محدود کر کے ایک اچھا کارنامہ انجام دیا کہ ہدف آسان نظر آ رہا تھا لیکن امام الحق کی انجری اور سمیع الحق کے آﺅٹ ہو جانے کے بعد صورت حال خراب نظر آئی تاہم سعود شکیل اور حمزہ نے بہت سہارا دیا ان دونوں بلے بازوں نے تحمل کا مظاہرہ کر کے سکور آگے بڑھایا تاہم حمزہ کے آﺅٹ ہونے کے بعد جب دو تین وکٹیں جلد گر گئیں تو ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ میچ جیتا نہیں جا سکے گا لیکن حماد بٹ اور گوہر نے تحمل اور عقلمندی سے یہ معرکہ سر کر لیا پوری ٹیم مبارک کی مستحق ہے اور قوم فائنل کے لئے دعاگو ہے تاہم امام الحق کے حوصلے اور دلیری کی داد دینا چاہئے کہ اس نوجوان نے زخمی ہونے کے باوجود اوپننگ کر کے حوصلے کا ثبوت دیا جو دوسرے کھلاڑیوں پر اثر انداز ہوا اگرچہ تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر فیصلہ نہیں تھا۔

کرکٹ بورڈ کے صدر نجم سیٹھی اور دوسرے راہنماﺅں نے ٹیم کو مبارکباد دی اس ٹورنامنٹ کی ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ کرکٹ کے بگ تھری کے دونوں ممالک بھارت اور انگلینڈ کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل کے مرحلے ہی سے فارغ ہو گئے اور یوں بڑوں نے جو اجارہ داری قائم کی چھوٹوں کی وجہ سے اسے داغ لگ گیا ہے۔

دنیائے کرکٹ میں کھلاڑی نیچے سے ہی پیدا ہوتے ہیں ، پاکستان میں بھی بے شمار قومی کرکٹر انڈر19اور انڈر 21کی ٹیموں سے آئے ہیں۔ اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اچھی اور بہترین ٹیم کے لئے نچلی سطح ہی سے تیاری ضروری ہے اور یہ سکول کے دور سے شروع ہونا چاہئے۔ اس لئے ہماری حکومت اور ہمارے سپورٹس بورڈوں کو سکول کی سطح پر کھیلوں کے فروغ پر توجہ دینا چاہئے۔ قوم خوش اور مبارکباد دیتی ہے اور یہ بھی دعا ہے کہ سینئر ٹیم بھی ایشیا کپ میں اپنے ٹائٹل کے دفاع میں کامیاب ہو۔

مزید : اداریہ