انجیر میںمعدنی نمکیات کا خزانہ ہے،حکیم محمد شفیع طالب

انجیر میںمعدنی نمکیات کا خزانہ ہے،حکیم محمد شفیع طالب

لاہور (پ ر) انجیر کے متعلق حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ”انجیر جنت کا میوہ ہے کھانے میں بے حد لذیذ و غذائی اور دوائی اجزاءکا انمول مجموعہ ہے گرم خشک مزاج کی حامل انجیر پانی اور معدنی نمکیات کا خزانہ ہے اس میں فولاد ، فاسفورس ، تانبہ ، کیلشیم ، سوڈیم، آئیوڈین شامل ہیںےہ وٹامنز اے، بی اور ڈی کا خزانہ ہے ۔اس کا استعمال جسم کو سرخ و سفید بناتا ہے اس کے علاوہ یہ دائمی قبض دور کرنے کیلئے بہترین غذا اور دوا ہے۔انجیر قوت مدافعت بڑھاتا ہے ، دماغی امراض کے ساتھ کمر کے درد میں بھی مفید ہے ان خیالات کا اظہار پروفیسر حکیم محمد شفیع طالب قادری نے " دوائے غذائی " کے عنوان سے منعقدہ ایک تحقیقی نشست میں انجیر کے فوائد بتاتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر حکیم محمد ثنا اللہ حلاج، حکیم محمد لطیف ، حکیم محمد انور انجم، حکیم محمد ارشد قادری ، حکیم محمد انور قادری،حکیم عارف رحیم پیرزادہ، حکیم محمد عمران حکیم محمد اقبال ، حکیم محمد افضل میو اور حکیم ڈاکٹر محمد عابد شفیع شامل تھے ۔

۔

۔

پروفیسر حکیم محمد ثنا اللہ حلاج نے بتایا کہ انجیر بڑھی ہوئی (ورم) تلی اور جگر کی سختی دور کرتی ہے۔ اس میں موجود ریشے انسولین اور خون میں زائد شکر کی سطح کو کم کرتی ہیں جسکی وجہ سے ذیابیطس(شوگر) میں مفید ہے۔پیشاب آور ہونے کی وجہ سے گردے، مثانے کی پتھری نکل جاتی ہے۔گردہ، مثانہ، حلق کی سوزش، پھیپھڑوں کی خشونت اور خشکی کیلئے بھی نافع ہے۔ آنتوں کے فعل درست اور نرم رکھتی ہے ، لہٰذا اسکے نہار منہ کھانے میں زیادہ فائدے ہیں۔ بلغمی کھانسی ، خون صاف کرنے، جوڑوں کے درد کیلئے سود مند ہے اور ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے۔برص (سفید داغ) چنبل، ایگزیما کیلئے تازہ انجیر کا دودھ مو¿ثر ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1