ہم طالب شہریت ہیں ،ہمیں ننگ سے کیا کام

ہم طالب شہریت ہیں ،ہمیں ننگ سے کیا کام
ہم طالب شہریت ہیں ،ہمیں ننگ سے کیا کام

  

میں اہم اور مشہورہونے کی بیماری میں مبتلا مریضو ں کے عارضے کا سائیکالوجی کی سائنس میں ٹیکنیکل نام نہیں جانتا اورنہ ہی یہ جانتا ہوں کہ اس کے علاج کے لئے کسی قسم کی ادویات بھی دستیاب ہیں یا نہیں مگر یہ ضرور دیکھ رہا ہوں کہ اس مرض میں مبتلا بہت سارے مریضوں کی حالت بگڑتی جا رہی ہے، ان مریضوں میں نرگسیت کا شکار لوگ بھی ہیں جو دوسروں کی آنکھوں میں بھی اپنی خوبصورتی ہی تلاش کرتے ہیں۔کہتے ہیں ہر وقت میں ، میں چلاتے رہنے والوں کا علاج تو صرف سائیکو تھراپی ہی ہے، مگر انہیں علاج پر آمادہ کون کرے۔یہ اپنے مفروضوں کو بھی حقائق سمجھتے ہیں اور دوسروں کی باتیں ماننا تو کجا سننے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔یہاںمعاشرے اور خاندان ہی نہیں بلکہ خود اپنی نظرمیں اہم ہونے کے دو طریقے ہیں، ایک مثبت اور ایک منفی، مثبت طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے کام میں محنت کریں، دوسروں کی مدد کرتے ہوئے ان کی مشکلات دور کریں، رفتہ رفتہ آپ اہم ہوجائیں گے مگر جب یہی صورت مرض کی بنتی ہے تو بہت سارے لوگ اور ادارے راتوں رات اہم ہونے کی کوشش میں دوسروں کے ہی نہیں بلکہ اپنے سر اور کپڑے بھی پھاڑسکتے ہیں، گالیوں سے جان تک، دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں ہیں، طرح طرح کی درفطنیاں چھوڑنا تو بہت ہی چھوٹی علامات میں سے ایک ہے۔

آپ کا بھی ایسے لوگوں اور اداروں سے پالا پڑتا رہتا ہوگا مگر مجھے ایسے ہی کچھ لوگ جوہر ٹاو¿ن میں آٹھ افراد کی اندوہناک موت کے واقعے اور فافن کی حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ کے بعدبہت یاد آ رہے ہیں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہے تو اس کی تفصیل ہی عرض کی جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے مجھے ایک اور شخص یاد آ گیا جس کا تعلق الیکٹرانک میڈیا سے ہی ہے۔ جناب حمید گل کی طرح اسے پاکستان میں ہونے والے ہر واقعے کے پیچھے، اوپر اور نیچے امریکہ ہی نظر آتا ہے۔یعنی پاکستانی حکومت، سیاسی جماعتیں، پریشر گروپس اور عوام، سب کے سب مفعول ہیں، فاعل صرف امریکہ ہے۔ جب زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو موصوف ہمیشہ دوسروں کوکم اور لاعلم ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ پاکستان میں امریکی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی نہیں مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہمارے ملک میں ہونے والے ہر واقعے میں امریکہ اور اس کی ایماءپر بھارت اور اسرائیل ہی ملوث ہیں۔اس قسم کے مفروضوں کا شکار ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم بہت سارے واقعات کے اصل مجرموں کوبچنے کا رستہ فراہم کر دیتے ہیں کیونکہ ہمارے شک ، الزام اور تفتیش کی گاڑی کسی اور رستے پر گامزن ہوجاتی ہے جس کے آخر پر بہرحال مجرموں کے ٹھکانے نہیں ہوتے۔ جوہر ٹاو¿ن میں آٹھ افراد کے قتل کا اندوہناک واقعہ ہوا تو میںنے لاہور کینال روڈ پرجوہر ٹاو¿ن کی طر ف جاتے ہوئے ایک معروف ماہر نفسیات سے رابطہ کیا، میں ان سے جاننا چاہتا تھا کہ ایسے ظالمانہ طریقے سے قتل کوئی ذی ہوش نہیں کر سکتا، کوئی نہ کوئی نفسیاتی گرہ ایسی ہوتی ہو گی جس کی وجہ سے گھر کے اندر یا باہر کا کوئی ایک یا بہت سارے اشخاص ایسی کارروائی کریں۔ وہ ماہرنفسیات اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے جائے واردات پر تو نہیں آئے مگر انہوںنے مجھے ایک سبق ضرورپڑھادیا،سبق یہ تھا کہ ایسے واقعات کو صرف اور صرف کریمنالوجی کی تھیوریزکے تحت دیکھاجائے، جب آپ سائیکالوجی کو اس میں لائیں گے توگویا اس بھیانک جرم کرنے والے شخص کو واردات کا جواز اوربچنے کا رستہ فراہم کریں گے۔ میں نے ان کا شکریہ اداکر تے ہوئے سوچنے لگا کہ ہم دہشت گردوں کوبھی کبھی شریعت اور کبھی ناانصافی کا جواز دے دیتے ہیں۔

اس واردات کی اہم ترین بات یہ تھی کہ پولیس نے پہنچتے ہی کرائم سین” محفوظ “ کر لیا۔ اس کے بعد میڈیا والے پانچ مرلے کے دومنزلہ گھر کے باہر تو موجود رہے مگر انہیں اندرجانے، کرائم سین کو دیکھنے اور اس پر فوٹیج بناتے ہوئے ماہرانہ تجزیوں کا موقع ہی نہیں ملا، پانچ گھنٹے تک ابتدائی تفتیش کے بعد نعشوں کو گھر سے نکالا اور پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجا گیا مگر وہ لوگ جو جائے واردات سے چاہے سینکڑوں اور ہزاروںمیل دور تھے، ا س واردات کے ڈانڈے بلوچستان سے لے کر افغانستان اور بھارت سے لے کر امریکہ تک جوڑ رہے تھے حالانکہ بطور ریاست جن ایجنسیوں کو تفتیش کی ذمہ داری دی جاتی ہے، جس کے اچھے یا برے ماہرین اس جائے واردات کا جائزہ لیتے رہے، ان کی تحقیق و تفتیش مختلف تھی اور جن لوگوں کو ڈیڈباڈیز اورکرائم سین دیکھنے تک کا موقع نہیں ملا، ان کی قیاس آرائیاں کچھ اور تھیں۔ ایک دوست نے رائے دی کہ اندر کی کہانی کچھ تھی، کیمیکل انجینئر نذیر پر ملبہ ڈال کے پولیس اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہی ہے۔ میں نے حیرت سے پوچھا ، میرے دوست کیا اندر کی کہانی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ واردات امریکہ نے بلیک واٹر یا راءکے ساتھ خفیہ تعاون کے معاہدے کے تحت کروائی ہو، نعشیں بھی پانچ گھنٹے اسی لئے گھر کے اندر رکھی گئی ہوںکہ امریکی صدر باراک اوبامہ ان نعشوں کو سٹیلائیٹ کے ذریعے خود دیکھ کے اپنی تسلی کرنا چاہتے ہوں۔ میں نے عرض کی کہ ہمیں اب اس تھڑا اپروچ سے باہر آنا ہو گا کہ جب میں جائے واردات پر پہنچاتو وہاں رکن پنجاب اسمبلی یٰسین سوہل، لاہور بار کے سیکرٹری، مقامی سیاسی رہنما بھی پولیس افسران کے ساتھ موجود تھے، یٰسین سوہل کرائم سین خود دیکھ چکے تھے، کرائم رپورٹرز کا بھی اتفاق تھا کہ یہ دہشت گردی اور ڈکیتی کی واردات نہیں مگر واردات سے جو بہت دور تھے، ان کو اس میں سامراجی سازشیں نظر آ رہی تھیں یا کم از کم اتناتو ضرور کہہ رہے تھے کہ پولیس، سی آئی اے اور تمام تفتیشی ادارے غلط، موجود سائنسی او ر واقعاتی ثبوتوں کی ایسی کی تیسی، اندر کی کہانی کچھ اور ہے۔

”فافن “بھی ایسی ہی اک تنظیم ہے جسے اہم ہونے کا بہت شوق چرایا ہوا ہے۔ وہ عام انتخابات کو دھاندلی سے بھرپور قرار دینے کے لئے ہرحد کو عبور کر سکتی ہے،شہرت حاصل کرنے کی اندھی ہوس میں اس تنظیم نے عین انتخابات کے موقع پر جاری رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ڈھیروں حلقوںمیںپولنگ کاوقت ختم ہونے سے پہلے ہی اتنے ووٹ کاسٹ ہو گئے جو ووٹروں کی کل تعداد سے بھی زیادہ تھے۔ تحقیق سے اس تنظیم کی مہارت کا یہ پول کھلا کہ اسے یہ بھی علم نہیں کہ ہر ووٹر دو ووٹ کا سٹ کرتا ہے، ایک قومی اسمبلی کے لئے اور دوسرا صوبائی اسمبلی کے لئے، لہذا جہاں جہاں پولنگ ووٹروں کے زبردست جوش و جذبے کی وجہ سے پچاس فیصد سے زیادہ رہی وہاں یقینی طور پرووٹوں کی مجموعی تعداد، ووٹروں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہی ہو گی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس رپورٹ پر فافن کے خلاف مختلف اضلاع میں نگران انتظامیہ نے مقدمات بھی درج کئے مگر یہ علم نہیںکہ ان مقدمات کا کیا بنا، اگر اس تنظیم کے ذمہ داروں کی اس قومی جرم پر ایسی تیسی کی جاتی تو وہ یقینی طور پر ایک مرتبہ پھر ایسی نان پروفیشنل رپورٹ جاری نہ کرتے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ تین درجن کے قریب ایسے حلقے موجود ہیں جہاں مسترد شدہ ووٹ، جیتنے والے امیدوار کی برتری سے بھی زیادہ ہیں۔ تنظیم کی یہ رپورٹ ان حلقوں میں بہت زیادہ مقبول ہوئی جو اپنی شکست کو دھاندلی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں مگر برادرم روف طاہر نے درست سوال اٹھایا کہ یہ کون واضح کرے گا کہ جو ووٹ مستر د ہوئے وہ لازمی طور پر دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے ہی تھے حالانکہ مسترد تو وہی ووٹ ہوتا ہے جس کے بارے میں کنفیوژن ہو کہ کس کو ڈالا گیا ہے،ا س کو وہاں موجود پولنگ سٹاف ہی نہیں بلکہ امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ بھی مسترد قرار دیتے ہیں۔ منطقی سی بات ہے کہ یہ تنظیم چاہے بھی تو یہ تحقیق اور فیصلہ دونوں ہی نہیں کر سکتی کہ مسترد ہونے والے ووٹ جیتنے والے امیدوار کے تھے یا ہارنے والے، ہاں، یہ ضرور کرسکتی ہے کہ ایسی بچگانہ تحقیقات کے نتیجے میںاس جمہوری نظام بارے کنفیوژن پیدا کردے جسے امن و امان اور معیشت کی بدترین صورتحال اور سیاستدانوں کی عوامی توقعات پر پورا اترنے میں نااہلی سمیت بہت سارے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں ہمارے کچھ مہربان چن چن کے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان بدا عتمادی کی چنگاریوں کو ہوا دینے کی کوشش میں بھی مصروف ہیں ۔۔۔ آہ! یہ مشہور ہونے اور ڈسکس کئے جانے کی اندھی خواہش بہت ہی بری ہوتی ہے، یہ دوسروں کے ہی نہیں اپنے سر اور کپڑے بھی اپنے ہاتھوں پھڑوا لیتی ہے غالب نے درست ہی تو کہا تھا۔

 ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

مزید : کالم