حمید نظامی روشن خیال پاکستانی تھے آج تمام مشکلات عدم برداشت کی وجہ سے ہے۔خورشید قصوری

حمید نظامی روشن خیال پاکستانی تھے آج تمام مشکلات عدم برداشت کی وجہ سے ...

           لاہور(فلم رپورٹر)خورشید محمود قصوری نے کہا کہ حمید نظامی کے خیالات کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ ایک روشن خیال پاکستانی تھے ۔آج کے پاکستان میں جو چیز ناپید ہے وہ روشن خیالی اور برداشت کا مادہ ہے ہم میں برداشت کی کمی ہوچکی ہے ہمارے پیارے نبی اکرم نے ہمیں برداشت کی تعلیم دی ہے اسلام میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اسلام جبر سے نہیں بلکہ اخلاق سے پھیلا تھا ۔جب تک ہم نے اپنے پیارے نبی کی تعلیمات پر عمل کیا اس وقت تک ہم نے پوری دنیا پر حکمرانی کی ۔وہ گزشتہ روزایون اقبال میں عظیم صحافی حمید نظامی مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب سے صدارتی خطاب کررہے تھے ۔ دیگر شرکاءمیں سجاد میر،ارشاد احمد عارف،عطاءالرحمن ،سہیل وڑائچ ،خرم نواز گنڈا پور اور اوریا جان مقبول شال تھے۔اس تقریب کا اہتمام عارف نظامی نے کیا تھا ، نظامت کے فرائض انجم وحید نے انجام دیئے۔خورشید محمود قصوری نے کہا کہ آج ہم جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں وہ عدم برداشت کی وجہ سے ہے ۔میں طالبان سے مذاکرات کا حامی ہوں لیکن اس صورت میں جب وہ فوری طور پر غیر مشروط طور پر جنگ بندی کریں ایف سی کے 23جوانوں کے گلے کاٹنے کی بات کسی بھی طور پر قابل ستائش نہیں ہے ۔یہ کس اسلام کی بات تھی ۔اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جس ملک کی بنیا د رکھی تھی اس میں تمام مذاہب کو مساوی حقوق حاصل تھے اس وقت عالم اسلام کا سب سے مضبوط ملک ملائشیاءہے جس میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی بستے ہیں وہاں پر سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا ہے وہاں کے مسلمان ہم سے زیادہ نمازی ہیں ہمیں ان کی تقلید کرنی چاہیے ۔روزنامہ پاکستان کے مدیر اعلیٰ مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ ہم نے ووٹ کی طاقت سے پاکستان حاصل کیا تھا اور ووٹ کی ہی طاقت سے باقی رکھا جا سکتا ہے ۔ حمید نظامی پاکستان بننے کے بعد آئین کی بالا دستی کے لئے کوشش میں مصروف رہے ان کے دور میں فوج کی جانب سے ہمارے دستور کو منسوخ کیا گیا تھا جس کا نتیجہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا۔آئین ایک مقدس دستاویز ہے اور یہ پاکستان میں بسنے والوں کے درمیان اشتراک کا معاہدہ ہے ۔ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی روشی کا مینار تھے انہوں کسی سرمایہ دار یا جاگیر دار کے گھر جنم نہیں لیا بلکہ وہ ایک محنت کش گھرانے کے چشم و چراغ تھے انہوں نے اپنی محنت اور ذہانت کے بل پر عزت اور نام اور دونوں کمای،امجیب الرحمن شامی نے کہا کہ حمید نطامی نے تحریک پاکستان میں حصّہ لینے کے ساتھ ساتھ نوائے وقت کی بنیا د رکھی وہ ایک انتہائی با ہمت انسان تھے شعبہ صحافت میں قدم رکھنے والے ہر شخص کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اپنی محنت کے بل پر کامیابی اور ترقی حاصل کرسکتا ہے۔آج ہم جب سقوط ڈھاکہ کا زخم کھا چکے ہیں پاکستانی قوم یہ بات جان چکی ہے کہ کہ ہمیں ماضی کی غلطی نہیں دھرانی اور ہر قیمت پر آئین کی حفاظت کرنی ہے۔جو شخص آئین پر حملہ کرتا ہے وہ در اصل پاکستان پر حملہ آور ہوتا ہے حمید نظامی نے ہمیں ایسے پاکستان کی خبر دی جس منزل جمہوریت اور اسلام دونوں ہوں ۔اگر ہماری قوم نے مسلح افواج کو یہ حق نہیں دیا کہ بندوق کی نوک پر ہم پر حکمرانی کریں تو ہم کسی دوسرے گروہ کو اس بات کی کیسے اجازت دے سکتے ہیں۔ایسے ایسے گروہ ہم پر بندوق کی نوک پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں جن کی تاریخ ،نظریے اور شجرے کا علم نہیں ہے ۔گزشتہ ایک صدی کے دوران ہماری تاریخ میں مسلح جدود کی مثال نہیں ملتی مسلم لیگ اور کانگرس کا قیام مسلح جدوجہد کے لئے نہیں ہوا تھا ۔شام سمیت اگر دنیا کے کسی بھی ملک میں بندوق کے زور پر حکمرانی کی جارہی ہو اور لاکھوں لوگ مارے جا رہے ہوں تو بحیثیت پاکستانی اور مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم اس پر بھی صدائے احتجاج بلند کریں۔ہمیں شام کے جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہیے لیکن وہاں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر احتجاج ضروری ہے مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ تمام قبائلی طالبان ہیں یہ غلط ہے وہاں پر بسنے والوں کی بہت تھوڑی تعداد طالبان کی حامی ہے ۔عارف نظامی نے کہا کہ ہمیں صحافت کی آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملی بلکہ یہ حمید نظامی جیسے صحافیوں نے اپنا خون دے کر حاصل کی ۔مجھے اپنے باپ پر فخر ہے جس نے تحریک پاکستان کے ایک عظیم کارکن کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی تاریخ رقم کی انہوں نے اپنی زندگی کی بنیاد روشن خیالی پر رکھی تھی وہ ایک سچے اور پکے مسلمان تھے ۔سجاد میر نے کہا کہ ایک ماڈرن اسلامی ریاست کے قیام کے نقطہءآغاز حمید نظامی تھے ۔حمید نظامی نے شعبہ صحافت کو کاروبار کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشن کے طور پر اپنایا ۔وہ ایک نظریاتی انسان تھے ان کی زندگی قابل تقلید ہے ہمارے ملک میں طالبان کی کوئی گنجائش نہیںہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ خارجی ہیں۔خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ حمید نظامی پاکستان کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق بنانا چاتے تھے جب ہم نے ان کے اصولوں کو پس پشت ڈالا تو ہمارا ملک لہولہان ہوگیا۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ حمید نظامی پاکستان کو اسلام اور جمہوریت کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے ۔عطاءالرحمن نے کہا کہ حمید نظامی نے صحافت میں نئی روایات کو جنم دیا ان کی تحریروں میں ظفر علی خان کا بانکپن تھا وہ ایوب کی آمریت کے سامنے ڈٹ گئے تھے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایوب خان کے خلاف اپنی جدو جہد کا آغاز یو م حمید نظامی کے جلسے سے کیا تھا۔تقریب کے اختتام پر انجم وحید نے حمید نظامی اور فصیح اقبال کے ایصال ثواب کے لئے دعا کروائی۔

خورشید قصوری

حمید نظامی روشن خیال پاکستانی تھے آج تمام مشکلات عدم برداشت کی وجہ سے ہے۔خورشید قصوری             لاہور(فلم رپورٹر)خورشید محمود قصوری نے کہا کہ حمید نظامی کے خیالات کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ ایک روشن خیال پاکستانی تھے ۔آج کے پاکستان میں جو چیز ناپید ہے وہ روشن خیالی اور برداشت کا مادہ ہے ہم میں برداشت کی کمی ہوچکی ہے ہمارے پیارے نبی اکرم نے ہمیں برداشت کی تعلیم دی ہے اسلام میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اسلام جبر سے نہیں بلکہ اخلاق سے پھیلا تھا ۔جب تک ہم نے اپنے پیارے نبی کی تعلیمات پر عمل کیا اس وقت تک ہم نے پوری دنیا پر حکمرانی کی ۔وہ گزشتہ روزایون اقبال میں عظیم صحافی حمید نظامی مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب سے صدارتی خطاب کررہے تھے ۔ دیگر شرکاءمیں سجاد میر،ارشاد احمد عارف،عطاءالرحمن ،سہیل وڑائچ ،خرم نواز گنڈا پور اور اوریا جان مقبول شال تھے۔اس تقریب کا اہتمام عارف نظامی نے کیا تھا ، نظامت کے فرائض انجم وحید نے انجام دیئے۔خورشید محمود قصوری نے کہا کہ آج ہم جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں وہ عدم برداشت کی وجہ سے ہے ۔میں طالبان سے مذاکرات کا حامی ہوں لیکن اس صورت میں جب وہ فوری طور پر غیر مشروط طور پر جنگ بندی کریں ایف سی کے 23جوانوں کے گلے کاٹنے کی بات کسی بھی طور پر قابل ستائش نہیں ہے ۔یہ کس اسلام کی بات تھی ۔اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جس ملک کی بنیا د رکھی تھی اس میں تمام مذاہب کو مساوی حقوق حاصل تھے اس وقت عالم اسلام کا سب سے مضبوط ملک ملائشیاءہے جس میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی بستے ہیں وہاں پر سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا ہے وہاں کے مسلمان ہم سے زیادہ نمازی ہیں ہمیں ان کی تقلید کرنی چاہیے ۔روزنامہ پاکستان کے مدیر اعلیٰ مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ ہم نے ووٹ کی طاقت سے پاکستان حاصل کیا تھا اور ووٹ کی ہی طاقت سے باقی رکھا جا سکتا ہے ۔ حمید نظامی پاکستان بننے کے بعد آئین کی بالا دستی کے لئے کوشش میں مصروف رہے ان کے دور میں فوج کی جانب سے ہمارے دستور کو منسوخ کیا گیا تھا جس کا نتیجہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا۔آئین ایک مقدس دستاویز ہے اور یہ پاکستان میں بسنے والوں کے درمیان اشتراک کا معاہدہ ہے ۔ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی روشی کا مینار تھے انہوں کسی سرمایہ دار یا جاگیر دار کے گھر جنم نہیں لیا بلکہ وہ ایک محنت کش گھرانے کے چشم و چراغ تھے انہوں نے اپنی محنت اور ذہانت کے بل پر عزت اور نام اور دونوں کمای،امجیب الرحمن شامی نے کہا کہ حمید نطامی نے تحریک پاکستان میں حصّہ لینے کے ساتھ ساتھ نوائے وقت کی بنیا د رکھی وہ ایک انتہائی با ہمت انسان تھے شعبہ صحافت میں قدم رکھنے والے ہر شخص کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اپنی محنت کے بل پر کامیابی اور ترقی حاصل کرسکتا ہے۔آج ہم جب سقوط ڈھاکہ کا زخم کھا چکے ہیں پاکستانی قوم یہ بات جان چکی ہے کہ کہ ہمیں ماضی کی غلطی نہیں دھرانی اور ہر قیمت پر آئین کی حفاظت کرنی ہے۔جو شخص آئین پر حملہ کرتا ہے وہ در اصل پاکستان پر حملہ آور ہوتا ہے حمید نظامی نے ہمیں ایسے پاکستان کی خبر دی جس منزل جمہوریت اور اسلام دونوں ہوں ۔اگر ہماری قوم نے مسلح افواج کو یہ حق نہیں دیا کہ بندوق کی نوک پر ہم پر حکمرانی کریں تو ہم کسی دوسرے گروہ کو اس بات کی کیسے اجازت دے سکتے ہیں۔ایسے ایسے گروہ ہم پر بندوق کی نوک پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں جن کی تاریخ ،نظریے اور شجرے کا علم نہیں ہے ۔گزشتہ ایک صدی کے دوران ہماری تاریخ میں مسلح جدود کی مثال نہیں ملتی مسلم لیگ اور کانگرس کا قیام مسلح جدوجہد کے لئے نہیں ہوا تھا ۔شام سمیت اگر دنیا کے کسی بھی ملک میں بندوق کے زور پر حکمرانی کی جارہی ہو اور لاکھوں لوگ مارے جا رہے ہوں تو بحیثیت پاکستانی اور مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم اس پر بھی صدائے احتجاج بلند کریں۔ہمیں شام کے جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہیے لیکن وہاں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر احتجاج ضروری ہے مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ تمام قبائلی طالبان ہیں یہ غلط ہے وہاں پر بسنے والوں کی بہت تھوڑی تعداد طالبان کی حامی ہے ۔عارف نظامی نے کہا کہ ہمیں صحافت کی آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملی بلکہ یہ حمید نظامی جیسے صحافیوں نے اپنا خون دے کر حاصل کی ۔مجھے اپنے باپ پر فخر ہے جس نے تحریک پاکستان کے ایک عظیم کارکن کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی تاریخ رقم کی انہوں نے اپنی زندگی کی بنیاد روشن خیالی پر رکھی تھی وہ ایک سچے اور پکے مسلمان تھے ۔سجاد میر نے کہا کہ ایک ماڈرن اسلامی ریاست کے قیام کے نقطہءآغاز حمید نظامی تھے ۔حمید نظامی نے شعبہ صحافت کو کاروبار کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشن کے طور پر اپنایا ۔وہ ایک نظریاتی انسان تھے ان کی زندگی قابل تقلید ہے ہمارے ملک میں طالبان کی کوئی گنجائش نہیںہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ خارجی ہیں۔خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ حمید نظامی پاکستان کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق بنانا چاتے تھے جب ہم نے ان کے اصولوں کو پس پشت ڈالا تو ہمارا ملک لہولہان ہوگیا۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ حمید نظامی پاکستان کو اسلام اور جمہوریت کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے ۔عطاءالرحمن نے کہا کہ حمید نظامی نے صحافت میں نئی روایات کو جنم دیا ان کی تحریروں میں ظفر علی خان کا بانکپن تھا وہ ایوب کی آمریت کے سامنے ڈٹ گئے تھے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایوب خان کے خلاف اپنی جدو جہد کا آغاز یو م حمید نظامی کے جلسے سے کیا تھا۔تقریب کے اختتام پر انجم وحید نے حمید نظامی اور فصیح اقبال کے ایصال ثواب کے لئے دعا کروائی۔

خورشید قصوری

مزید : صفحہ آخر