قومی اسمبلی میں پانچ قراردادیں منظور، سعودی دباﺅ پر شام کے بارے پالیسی نہیں بدلی : مشیر خارجہ

قومی اسمبلی میں پانچ قراردادیں منظور، سعودی دباﺅ پر شام کے بارے پالیسی نہیں ...
قومی اسمبلی میں پانچ قراردادیں منظور، سعودی دباﺅ پر شام کے بارے پالیسی نہیں بدلی : مشیر خارجہ

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں وضاحت کی ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے دباﺅ پر شام کے بارے میں پالیسی تبدیل نہیں کی، پالیسی تبدیل کرنے کی باتیں بے بنیاد ہیں ،سعودی عرب کو اسلحہ دے رہے ہیں نہ وہ شام میں استعمال ہوگا ۔ منگل کو ایوان میں پالیسی بیان میں سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے دباﺅ میں شامل کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کی ہے نہ سعودی عرب کو اسلحہ دے رہے ہیں ۔ ہم ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہیں۔ سعودی ولی عہد کے دورے میں شام پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔ سعودی عرب سے دفاعی تعاون کے سمجھوتے ہوئے ہیں یہ الزام بے بنیاد ہے کہ ہم جو ہتھیار سعودی عرب کو دیں گے وہ شام میں استعمال کیے جائینگے ، کسی کو شک ہے تو ولی عہد کے دورے کے آخر میں جاری مشترکہ اعلامیہ پڑھ لے۔ اعلامیے میں شام کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ ہم شام کی خودمختاری سلامتی کے حامی ہیں۔ ہم شام میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف ہیں۔ شام کا مسئلہ جنیوا مذاکرات سے حل ہونا چاہیے۔ ہم شام میں تشدد کیخلاف ہیں ، ہم نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے تلف کی تائید کی ہے ۔ ہم شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کی کوششوں کی تائید کرتے ہیں ہم شام میں جلد از جلد امن دیکھنا چاہتے ہیں۔قومی اسمبلی نے پانچ نجی قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کرلیں۔ منگل کو نجی کارروائی کے دن نعیمہ کشور نے قرارداد پیش کی کہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کرے۔ ساجد احمد نے قرارداد پیش کی کہ حکومت ادویات پر جملہ محصولات و ٹیکس ختم کرے۔ نگہت پروین نے قرارداد پیش کی کہ حکومت ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر تلاش کرے۔ شازیہ مری نے قرارداد پیش کی کہ حکومت گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرے۔ عارف علوی نے قرارداد پیش کی کہ حکومت ہر سال 20 مارچ کو ورلڈ رورل ہیلتھ ڈے منانے کیلئے اقدامات کرے۔ متعلقہ وزراءکی طرف سے قراردادوں کی مخالفت نہیں کی گئی ۔قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے آزاد کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں مداخلت پر تنقید کرتے ہیں اور خود آزاد کشمیر میں مداخلت کرتے ہیں ، یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے جبکہ وزیر امور کشمیربرجیس طاہر نے وضاحت کی ہے کہ ایک دو طرفہ انٹرنیشنل معاہدے کے تحت پاکستان آزاد کشمیر کے معاملات دیکھتا ہے ۔ منگل کی شام ایوان میں برجیس طاہر وزیر امور کشمیر نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے لیکن کشمیر دو حصوںمیں تقسیم ہے ایک آزاد ہے دوسرا مقبوضہ ہے۔ ایک معاہدے کے تحت پاکستان آزاد کشمیر کے معاملات دیکھتا ہے ۔ بلوچ کے ضمنی الیکشن میں خود آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے پنجاب سے رینجرز طلب کی ہے اس کا ملبہ وزارت امور کشمیر پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ تحریک انصاف کو صرف 18 ووٹ ملے ہیں ہم نے تو چوہدری مجید کی وزارت بچائی تھی ۔ پیپلز پارٹی ہار کے دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ رینجرز کا کشمیر میں جانا غلط تھا ۔ کشمیر کے سارے معاملات اسلام آباد میں طے ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج اور مخالفت کے باوجود شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل 2014ءپیش کردیا گیا ۔ بل مسلم لیگ(ن) کے میجر(ر) طاہر اقبال نے نجی طورپر پیش کیا۔ حکومت نے ان کے بل کی تائید کی ۔ وزیرمملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ اپوزیشن بالخصوص پیپلز پارٹی نے بل کی شدید مخالفت کی ۔ شازیہ مری اورعذرا افضل نے کہا کہ یہ بل ذوالفقار بھٹو کا نام ہٹانے کی سازش ہے بعدازاں سپیکر نے بل پر رائے شماری کرائی ۔ بل کے حق میں 90 اور مخالفت میں 66 ووٹ پڑے ۔ سپیکر نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا ۔ وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے وضاحت کی کہ ہم یونیورسٹی کا نام تبدیل نہیں کریں گے ۔ نام بھٹو کا ہی چلے گا صرف ہم یونیورسٹی کو پمز ہسپتال سے الگ کرنا چاہتے ہیں پمز الگ کام کرے گا۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں