نومولود بچے کو خوفناک بیماری لاحق ، رونے سے بھی قاصر

نومولود بچے کو خوفناک بیماری لاحق ، رونے سے بھی قاصر
نومولود بچے کو خوفناک بیماری لاحق ، رونے سے بھی قاصر

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) اکثر والدین کیلئے ان کے دنیا میں آنے والے بچوں کی نا پسندیدہ ترین بات یہ ہے ہوتی ہے کہ وہ رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں مگر آسٹریلوی جوڑے پاسمین برل اور ان کے شوہر مائیکل برل کیلئے یہ ایک خواب ہے کہ ان کا ننھا بیٹا کبھی روئے بھی۔

ان کا پانچ ہفتوں کا بیٹا ٹیٹ برل پیدائش سے لیکر اب تک ایک لمحے کیلئے بھی نہیں رویا اور یہ بچہ جب تک زندہ ہے کبھی بھی نہیں روئے گا کیونکہ وہ ایک کمیاب دماغی عارضے کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس میں رونے کی صلاحیت قدرتی طور پر ہی نہیں ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ معصوم بچہ کبھی بھی ذہنی طور پر نشودنما نہیں پائے گا۔ کبھی بوتل کے نپل کو چوس کر دودھ نہیں پی سکے گا اور زندگی کے معمولی سے معمولی افعال بھی سر انجام نہیں دے پائے گا۔

دونوعمر طالبات نے ’بھوت‘ کیمرے پر ’پکڑ‘ لیا

جب یہ بچہ پیدا ہوا تو نہ یہ سانس لے رہا تھا نہ رو رہا تھا بعد ازاں اس کی سانس بحال ہو گئی مگر یہ کبھی بھی رو نہیں سکا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ نہایت کمیاب دماغی بیماری مِلر ڈیکر لیسین سیفلی کا شکار ہے۔نارمل انسانی دماغ کی بیرونی سطح گوبھی کے پھول کی طرح ابھاروں سے بھری ہوتی ہے۔لیکن ننھے ٹیٹ کی دماغ کی سطح انڈے کی سطح کی طرح ہموار ہے اور اس کے اندر اور باہر محسوسات کا تبادلہ نہ ہونے برابر ہے۔ اس بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے نہایت غم زدہ ہیں کہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ بچہ چند ماہ سے زائد زندہ نہیں رہ سکتا وہ کہتے ہیں کہ ان کی شدید خواہش ہے کہ ننھا بچہ روئے اور انھیں تنگ کرے مگر وہ ہمیشہ خاموش رہتا ہے ۔ وہ ڈاکٹروں کی باتوں کے باوجود دعاگو رہتے ہیں کہ قدرت ان کے ننھے بیٹے کو صحتیاب کرے اور اسے لمبی زندگی عطا فرمائے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس