دورِ حاضر میں صحافت کے طالب علم کے مسائل

دورِ حاضر میں صحافت کے طالب علم کے مسائل
دورِ حاضر میں صحافت کے طالب علم کے مسائل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

صحافت کو جدید دور میں ریاست کا چوتھا ستون جانا جاتا ہے ۔ یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ جس ادارے کی اہمیت جتنی زیادہ ہو گی اس کی ذمہ داریاں بھی اس قدر زیادہ ہوں گی اور بطور ریاستی ستون یہ ذمہ داریاں اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ موجودہ حالات میں صحافت کے طالب علم کو کافی مسائل کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مجوزہ قواعد و ضوابط کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا بھی ہے۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں نے صحافت کے ایک نمایاں حصے کو یرغمال بنا رکھا ہے، جس کو وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں، جس سے صحافت کی غیر جانبداری سوالیہ نشان ہے۔ صحافت کے طالب علم کو جو اہم مسئلہ درپیش ہے وہ ملکی دہشت گردی ہے، جس میں اب تک سینکڑوں صحافی لقم�ۂ اجل بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں سچائی کو عیاں کرنے والے صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ جیسی واضح مثال ہے۔ نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ صحافیوں کو ٹارگٹ کرنے والے مجرموں اور گروہوں کو کیفر کردار تک پہنچانا تو دور کی بات، انہیں گرفتار تک نہیں کیا گیا۔ صحافت کا طالب علم اس تمام صورت حال سے نہایت رنجیدہ اور ڈر محسوس کرتا ہے اور اس اہم ستون کا حصہ بننے سے گریزاں ہے۔

ملکی صورت حال کے پیش نظر اکثر ممالک ملکی مفاد کے لئے حساس معاملات میں میڈیا کو دور ہی رکھتے ہیں یا وہی معلومات پبلک کرنے کی اجازت دیتے ہیں،جو ملکی مفاد میں ہوں۔ اگرچہ مختلف ہیومن رائٹس کی تنظیمیں اس پہلو کو منفی سوچ سے مانے ہوئے ہیومن رائٹس اصول و ضوابط کے خلاف اور ریاست کا صحافتی ادارے پر شب خون مارنے کے مترادف ہونے کا راگ الاپتی ہیں، مگر دیکھا جائے صحافت کا یہ کردار بطور ریاستی ستون ایک ذمہ داری بھی ہے۔ بین الاقوامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے، جن میں ملکی مفاد کے پیش نظر عوام تک واقعات کے متعلق معلومات اس حد تک ہی پہنچائی گئیں، جتنی ضرورت تھی اور بلاشبہ متعلقہ ممالک اپنے طے شدہ نتائج اور مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہے۔ ان واقعات میں سری لنکا حکومت کا تامل علیحدگی پسندوں سے پہلے لڑائی اور بعد میں کامیاب تصفیہ، پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت، ڈرون حملوں سے متعلق حقائق و معلومات اور تاحال جاری آپریشن ضربِ عضب جیسے انتہائی حساس نوعیت کے معاملات اور واقعات شامل ہیں۔ صحافت کا طالب علم اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ اسے ایسے معاملات و واقعات کی معلومات کے لئے کس حد تک جاننا چاہئے اور مسئلہ ہذا میں صحافت کا کیا کردار ہونا چاہئے۔اس سب کے برعکس رائٹ ٹو انفارمیشن جیسے قوانین بھی موجود ہیں جو کہ خالصتاً عوام کی سہولت کے لئے ہیں۔ ان حقائق سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ صحافتی ادارہ جو کردار مغربی ممالک میں ادا کر رہا ہے اس کی مثال مشرقی ممالک میں کم ملتی ہے۔ امریکہ، یورپ، فرانس، نیو یارک اور یو کے وغیرہ جیسے ممالک میں صحافتی ادارے کو جو آزادی حاصل ہے۔ مشرقی دنیا کے ممالک میں اس ادارے کو حاصل نہیں ہے۔

صحافتی ادارے میں معلومات کی مس ہینڈلنگ اور اس کی بنیاد پر فریقین کو بلیک میل کرنا جیسے واقعات بھی زبان زد عام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ نیوز چینل اور اخبارات کی بھرمار بھی ہے، جو اپنا کاروبار اور ریٹنگ بڑھانے کے لئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ ایسی حرکات اس ادارے سے منسلک افراد کی پیشہ کے ساتھ دیانت کو سوالیہ نشان بناتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں، ترقی یافتہ ممالک میں صحافت سے متعلق رائج قواعد و ضوابط کی طرز پر صحافتی ادارے کے لئے منظم قواعد و ضوابط بنائے جائیں اور ان پر سختی سے عمل بھی کروایا جائے۔ وفاقی وزارت اطلاعات کو اس ضمن میں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا چاہئے تاکہ صحافت کے طالب علم کے دور حاضر کے نہ صرف مسائل حل ہو سکیں، بلکہ وہ جذبے کے اس ادارے میں شمولیت اختیار کرے۔مزید برآں یہ اہم ریاستی ستون، دوسرے اداروں کے شانہ بشانہ ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

مزید : کالم