مقبوضہ کشمیر کی مجاہد تنظیموں کو مختلف ممالک سے رقومات فراہم کی جاتی ہیں، بھارت

مقبوضہ کشمیر کی مجاہد تنظیموں کو مختلف ممالک سے رقومات فراہم کی جاتی ہیں، ...

سرینگر(کے پی آئی)بھارتی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سرگرم مختلف مجاہد تنظیموں کو خلیج اور دیگر ممالک سے حوالہ چینلوں کے ذریعے رقومات فراہم کی جاتی ہیں۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران جموں کشمیر میں 110 مجاہد اور 47سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ70مجاہدین کو گرفتار کرلیا گیا۔ وزارت دفاع نے کہا ہے کہ گزشتہ8ماہ کے دوران پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحدوں پر685مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں8فورسز اہلکاروں سمیت24افراد مارے گئے۔ لوک سبھا میں ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے امور داخلہ کے وزیر مملکت ہری بھائی پراٹھی بھائی چودھری نے کہا کہ جموں کشمیر میں مجاہدیانہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کیلئے مجاہد تنظیموں کو بیرونی ممالک سے رقومات بھیجی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کو اپنی کارروائیوں میں تیزی لانے کیلئے حوالہ چینلوں کے ذریعے مختلف ذرائع سے رقومات فراہم کی جاتی ہیں اور اسکا راستہ خلیج اور دیگر ممالک سے ہوکر گزرتا ہے۔وزیر موصوف کا مزید کہنا تھاحکومت جموں کشمیر کی رپورٹ کے مطابق حوالہ رقومات کے سلسلے میں6کیس رجسٹر کئے گئے ہیں اور ان میں سے عدالتی تصدیق کیلئے چار کیسوں کے بارے میں چالان بھی پیش کیا گیا ہے۔وزیر موصوف نے بتایا کہ رپورٹوں کے مطابق آزاد کشمیر میں لشکر طیبہ، حزب المجاہدین اور جیش محمد جیسی تنظیموں کے تربیتی کیمپ متحرک ہیں اور ان کیمپوں کو مجاہدین کو تربیت فراہم کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں داخل کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ادھر راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ8ماہ کے دوران جموں کشمیر میں کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر 685مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔انہوں نے کہا کہ126واقعات لائن آف کنٹرول جبکہ559واقعات بین الاقوامی سرحد کے مختلف سیکٹروں میں پیش آئے اور ان میں مجموعی طور 24افراد مارے گئے جن میں فوج کے5اور بی ایس ایف کے3اہلکاروں کے علاوہ16عام شہری بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملات اعلی سطح پر پاکستانی فوجی حکام کے ساتھ اٹھائے جاتے ہیں اور اسکے لئے ہاٹ لائن ، فلیگ میٹنگوں اور ڈی جی ایم اوز کے مابین ہفتہ وار بات چیت کا نظام پہلے سے ہی موجود ہے۔امور داخلہ کے ایک اور وزیر مملکت کرن ریجی نے بتایا کہ ہند پاک بین الاقوامی سرحدوں پر سال2012میں دراندازی کے 332 ، سال 2013 میں 345، سال2014میں 268جبکہ رواں سال کے پہلے مہینے میں 4واقعات پیش آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی تار بندی اور لائٹنگ کیلئے مرکز نے رقومات کو منظوری دے دی ہے جبکہ دراندازی پر قابو پانے کیلئے سرحدوں کی سخت نگرانی کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کیلئے چوبیس گھنٹے گشت اوراوبزرویشن پوسٹس کی تعمیرکے ساتھ ساتھ جدید آلات اور سازوسامان کو استعمال میں لایاجارہا ہے۔

مزید : عالمی منظر