سپین میں داعش کے لئے لڑکیاں بھرتی پر گرفتاریاں

سپین میں داعش کے لئے لڑکیاں بھرتی پر گرفتاریاں

 میڈرڈ( آن لائن )اسپین کی وزارت داخلہ نے دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ’’داعش‘‘ کے لیے خواتین کی بھرتی میں ملوث ایک گروپ کا سراغ لگا کر اس کے کم سے کم چار ایجنٹوں کو حراست میں لیا ہے۔حراست میں لیے گئے شدت پسندوں پر الزام ہے کہ وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ \'فیس بک\' کے ذریعے خواتین کو داعش کی صفوں میں شامل کرنے کے لیے سرگرم عمل تھے۔ ان میں سے دو کی گرفتاری مراکش کی ملیلیہ کالونی سے کی گئی ہے۔میڈریڈ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملیلیہ سے حراست میں لیے گئے دونوں عسکریت پسندوں میں سے ایک \'فیس بک\' پر داعش کے حق میں پروپیگنڈہ مہم کا انچارچ اور شدت پسندی پر مبنی مواد پوسٹ کر رہا تھا۔ اسپین میں سرگرم شدت پسند گروپ کا اصل مقصد خواتین کو داعش کے چنگل میں پھنسانا تھا اور وہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کو داعش میں شامل کرنے کی غرض سے پروپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے تھے۔خیال رہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران اسپین میں داعش کی حمایت میں سرگرم متعدد گروپوں کے عناصر کو پکڑا گیا ہے۔ ان میں سے چھ افراد کو مراکش کی حدود سے حراست میں لیا گیا۔ مراکش اور اسپین کی سرحد کو یورپ اور افریقا کے درمیان شدت پسندوں کی آمد ورفت کا ’کاریڈور‘ سمجھا جاتا ہے۔ہسپانوی پولیس کے مطابق پچھلے چند ماہ کے دوران کم سے کم 100 ہسپانوی باشندے شام اور عراق میں سرگرم جہادی گروپوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ہسپانوی باشندوں کی جہادی گروپوں میں شمولیت کی تعداد فرانس، برطانیہ اور جرمنی سے کہیں کم ہے مگر وقت پولیس کی کارروائیوں کے باوجود داعش کے حامی عناصر کی تعداد میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ بھی جاری ہے۔اسپین کے پڑوسی مسلمان ملک مراکش نے حال ہی میں اپنے شہریوں کو بیرون ملک عسکریت پسندوں میں شمولیت سے روکنے کے لیے انسداد دہشت گردی قوانین وضع کرنا شروع کیے ہیں۔ یہ قانون سازی اس وقت شروع کی گئی جب پتا چلا کہ تقریباً دو ہزار مراکشی داعش جیسے سخت گیر گروپوں میں شمولیت کے لیے عراق اور شام جا چکے ہیں۔

مزید : عالمی منظر