پناہ گزینوں کو مستقل شہریت دینے پر سمجھوتہ ہونے پر حریت کانفرنس کا اظہار تشویش

پناہ گزینوں کو مستقل شہریت دینے پر سمجھوتہ ہونے پر حریت کانفرنس کا اظہار ...

 سرینگر(کے پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس(گ)نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کو بغیر کسی شور شرابے اور اعلان کے سٹیٹ سبجیکٹ فراہم کرانے پر ممکنہ حکومتی اتحادیوں کے مابین کوئی سمجھوتہ ہوگیا ہے، البتہ وہ اس کو عوامی مزاحمت کے پیش نظر منظر عام پر نہیں لانا چاہتے ہیں۔ حریت کانفرنس (گ)کی مجلس شوری کا ایک اجلاس جنرل سیکریٹری حاجی غلام نبی سمجھی کی صدارت میں حیدرپورہ میں منعقد ہواجس میں تمام اکائیوں کے سربراہوں یا ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ریاست میں ہورہی سیاسی پیش رفتوں پر تبادلہ خیالات کیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کو لیکر طریق کار کا جائزہ لیا گیا۔غلام نبی سمجھی نے ممبران مجلس شوری کی آرااور تجاویز کی روشنی میں اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مغربی پاکستان سے آئے پناہ گزینوں کے حوالے سے حکومت کی پالیسی مبہم اور ڈانوڈول ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں جموں کشمیر کا مستقل باشندہ بنانے کی ایک سازش تیار کرلی گئی ہے۔ جس کو خاموشی سے عملانے پر تمام کوارٹرز متفق ہوگئے ہیں،بھارتیہ جنتا پارٹی کا اس سلسلے میں مو4155ف اگرچہ سب کو معلوم ہے، البتہ پی ڈی پی اس سلسلے میں شطرنج کی ایک چال کھیلنے کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے نتیجے میں جو لوگ مغربی پاکستان سے ریاست جموں کشمیر کی طرف ہجرت کرکے آئے ہیں، وہ پچھلے 68سال سے یہاں مہمانوں کی حیثیت سے بودوباش کرتے ہیں اور انہیں یہاں مستقل طور بسانے کا کوئی آئینی، قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے، ریاست کا آئین اس حوالے سے بالکل واضح اور غیر مبہم ہے اور وہ کسی بھی طور اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ کسی غیر ریاستی باشندے کو یہاں کا اسٹیٹ سبجیکٹ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا ہم شرنارتھیوں کے دشمن نہیں ہیں اور ان کے معاملے کو ایک انسانی ایشو تسلیم کرتے ہیں، البتہ بھارت کی 28ریاستیں ہیں اور انہیں پنجاب، ہریانہ، گجرات، راجستھان یا کسی دوسری ریاست میں بسایا جاسکتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ جموں کشمیر کی متنازعہ اسٹیٹس کو چھیڑے بغیر اس مسئلے کو حل کرالیا جائے۔ سمجھی نے کہا کہ تقسیم ہند سے پیدا شدہ مسائل (جن میں پناہ گزینوں کا مسئلہ بھی شامل ہے)) کے لیے کشمیریوں کو ذمہ دار گردانا جاسکتا ہے اور نہ انہیں اس کی سزا دی جاسکتی ہے، شرنارتھیوں کو جموں کشمیر میں مستقل طور بسانے پر اصرار کرنے کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں اور دہلی والے اس کے ذریعے سے کشمیر کی ڈیموگرافی اور اسٹیٹس کو تبدیل کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں کے ہولوکاسٹ کا مسلمانوں یا عربوں کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا، بلکہ یہ سب کچھ جرمنی میں ان کے ساتھ ہوا تھا، البتہ سامراجی طاقتوں نے انسانی مسئلے کے نام پر اس کی سزا مسلمانوں کو دی اور عربوں کے سینے پر اسرائیل کے نام پر چھرا گھونپ دیا گیا۔ سمجھی نے مزید کہا کہ پناہ گزینوں کو جموں کشمیر میں بسانے کا معاملہ بھی بعینہ اسی قسم کا معاملہ ہے اور اس سلسلے میں کشمیریوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا دینے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ مجلس شوری کے اجلاس میں سوائن فلو سے پیدا شدہ صورتحال پر بھی غوروخوض ہوا اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی طرف سے اپنائی گئی غفلت شعاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس مہلک مرض کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے افراد کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی اور ان کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور ہمدردی کیا گیا۔اس دوران تحریک حریت جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی کی قیادت میں ایک اعلی سطحی وفد جس میں صدرِ ضلع راجہ معراج الدین شامل تھے، نے طارق احمد گاندربل کے گھر جاکر ان کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا ۔ صحرائی نے کہا کہ طارق احمد کی موت سے جو صدمہ ان کے لواحقین کو پہنچا ہے اس پر ہم سب ان کے ساتھ اس غم میں شریک ہیں۔

مزید : عالمی منظر