کرکٹ الرٹ

کرکٹ الرٹ
کرکٹ الرٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دنیائے کرکٹ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک منفرد حیثیت کی حامل تھی۔ لیکن موجودہ ورلڈ کپ میں بھارت اور پھر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں جس بُری طرح شکست سے دوچار ہوئی اور چاروں شانے چِت ہوگئی۔ اُس کی پچاس سالہ کرکٹ کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ پوری دنیا میں کرکٹ کا خاص جنون ہے۔ پاکستانی بھی اِس جنون میں اتنے مبتلا ہیں کہ اُنہیں کسی قیمت پر کسی بھی کرکٹ ٹیم سے ہماری ہار منظور نہیں، خصوصاً بھارتی کرکٹ ٹیم سے تو وہ ہار کا سوچتے بھی نہیں۔ جب ان دونوں ٹیموں کے درمیان میچ ہوتا ہے تو جیسے سانسیں رُک جاتی ہیں۔ دل دھڑکنے لگتے ہیں اور پھر ایک گیند اور بلے بازی پر ایک ایک لمحہ گِن گِن کر گزارہ جاتا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے روائتی حریف بھارت کے خلاف جن پختہ عزائم کے ساتھ میدان میں اُتری اور کپتان مصباح نے میچ شروع ہونے سے پہلے جن خیالات کا اظہار کیا، وہ خیالات ہر ٹیم ممبر کے تھے۔ لیکن جب کھیل شروع ہوا اور پرفارمنس دکھائی دینے لگی تو محسوس ہوا کہ بھارت کے آگے ہماری ٹیم گھٹنے ٹیک دے گی اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ بھارت نے پہاڑ جیسا اسکور بنایا تو کمنٹیٹر اور تجزیہ کاروں نے کہا اگرچہ یہ ایک بڑا اسکور ہے لیکن پاکستانی ٹیم کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اُس کے پاس اچھے بیٹسمین موجود ہیں جو ہر طرح کے حالات میں ہر طرح کا معرکہ یا ہدف پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن جب پاکستانی اننگز کا آغاز ہوا تو وہ اتنا بُرا تھا کہ ابتدا میں ہی محسوس ہونے لگا کہ بھارتی ٹیم کا پہاڑ جیسا اسکور ہماری ٹیم کبھی عبور نہیں کر پائے گی اور پھر جس خدشے کا ڈر تھا وہ پورا ہوا اور پاکستانی کھلاڑیوں نے اِس خدشے کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہ ایسی شکست سے دوچار ہوئے جس کے لئے پاکستانی قوم بالکل تیار نہ تھی۔

بھارت سے میچ اگرچہ ورلڈ کپ کا ابتدائی میچ تھا لیکن پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں کرکٹ کے شائقین اس میچ کو فائنل ہی سمجھتے تھے۔ پاکستانی قوم کو ہر ٹیم سے ہار منظور ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ بھارت سے کسی بھی قیمت پر ہارنا نہیں چاہتی۔ ان کے مابین میچ ہمیشہ زندگی اور موت کا کھیل رہا ہے۔ لیکن ہار ہمارا مقدر تھی، ہم ہار گئے۔ مصباح الیون نے جن پاکستانیوں کے دل توڑے، اُس کا کفارہ شاید کسی بھی طرح سے ادا نہ کیا جا سکے۔

بھارت سے ہارنے کے بعد کپتان مصباح نے پھر بلند بانگ دعوے کیے اور ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ کالی آندھی (ویسٹ انڈیز) کا رُخ موڑ دیں گے اور یہ میچ ہر قیمت پر جیتیں گے اور یہ بھی بتایا کہ ٹیم نے بھارت سے ہار کے بعد اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ اب ویسٹ انڈیز کے ساتھ میچ میں اپنی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔ لیکن اس دوسرے میچ میں غلطیاں تو کیا سیکھا جاتا نئی غلطیوں کے انبار لگا دئیے گئے۔ٹیم بولنگ، فیلڈنگ اور بیٹنگ سب شعبوں میں ناکام رہی۔ کھیل کے میدان میں ایسے لگا جیسے پاکستانی کرکٹ ٹیم کھیلنا ہی بھول گئی ہے۔ وہ ایک عام سی بچگانہ ٹیم محسوس ہوئی۔ پہلے جو مقام بنگلہ دیش یا افغان کرکٹ ٹیم کو حاصل تھا یعنی کسی فہرست میں بھی اُن کا شمار نہ ہوتا تھا، اُس فہرست میں ان دومیچوں کے بعد پاکستانی ٹیم بھی شامل ہو گئی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اپنے حصّے میں سخت ندامت، شرمندگی اور ذلّت کے سوا کچھ نہ پایا اور اپنی قوم کو بھی اِسی شرمندگی اور ذلت سے دوچار کیا۔

بھارت اور ویسٹ انڈیز سے ہارنے کے بعد اب پاکستانی ٹیم کا مورال اتنا نیچے گِر گیا ہے کہ نہیں لگتا کہ پول کے اگلے میچوں میں بھی اُن کی ’’کارکردگی ‘‘قابلِ ذکر ہو گی۔ کرکٹ میں ہزیمت کے یہ بُرے اور ناقابلِ برداشت دن بھی ہمیں دیکھنا پڑیں گے، اس کا ہمیں اندازہ نہیں تھا، لیکن بدقسمتی سے ہم یہ دن دیکھ چکے۔ جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور اُس کی تمام انتظامیہ بھی کرکٹ کے شائقین اور پوری پاکستانی قوم کے لئے سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ بورڈ کے عہدیداروں سمیت، کوچ، مینجر اور کھلاڑیوں پر ہر سال کروڑوں روپے کی انوسٹمنٹ کی جاتی ہے۔ اُن کی اتنی خطیر تنخواہیں ہیں اور اُنہیں اتنی مراعات حاصل ہیں کہ جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مگر شاید کوئی اُن سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ قوم پر کروڑوں کا بوجھ لادنے والے یہ لوگ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے سے کیوں قاصر رہے۔ کرکٹ کے ذریعے اُنہوں نے جو رزلٹ قوم کو دیا وہ ناقابلِ برداشت ہے۔

اب مزید دیر نہیں ہونی چاہیے اس سے پہلے کہ کرکٹ کے اس سانحے کی پاداش میں قوم کا ہارٹ فیل ہو جائے۔ ہمیں مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ تو طے ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں سیاست گُھس آئی ہے۔ بقول سابق کرکٹر سرفراز نواز بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کرکٹ کے اِس کھیل میں سیاست کے ذریعے کروڑوں کی جائیدادیں بنا لی ہیں۔ ایسے ہی الزامات دیگر حلقوں کی جانب سے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان میں کس حد تک صداقت ہے؟ اب یہ دیکھنا حکومت کا کام ہے۔ کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کی بھی اب سکروٹنی ہو جانی چاہیے اور اس عمل کو بھی شفاف ہونا چاہیے تاکہ پاکستانی کرکٹ کا وقار بحال ہو سکے۔

مزید : کالم