معیشت کی بحالی 7فیصد شرح نمو سے ممکن ہے

معیشت کی بحالی 7فیصد شرح نمو سے ممکن ہے
معیشت کی بحالی 7فیصد شرح نمو سے ممکن ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں محمد ادریس اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لئے دن رات محنت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں دو روز پہلے فیڈریشن کے ہیڈ آفس کراچی میں معیشت کی بحالی کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جسے دوسرے صوبوں کے دارالحکومتوں میں فیڈریشن کے زونل آفس میں موجود صنعت و تجارت کی اہم شخصیات اور نمائندوں نے نہ صرف وڈیو لنک پر براہ راست دیکھا، بلکہ اپنی اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ فیڈریشن کے صدر میاں محمد ادریس نے پہلی مرتبہ اپنے کلیدی خطبے میں معاشی ترقی اور پاکستان میں صنعت و تجارت کے بارے میں اپنے وژن کو بالکل واضح اور دوٹوک الفاظ میں بیان کیا۔

اپنے کلیدی خطاب میں میاں محمد ادریس نے سب سے بڑا انقلابی نکتہ یہ پیش کیا ہے کہ پاکستان میں اگر حکومت نجی شعبہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرے اور حقائق پر مبنی تجاویز پر عمل کرکے معاشی ترقی کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کا ارادہ کرے تو پھر موجودہ ترقی کی چار فیصد کی رفتار بڑھ کر سات فیصد تک پہنچ سکتی ہے اور یہ کسی خام خیالی یا خوش فہمی کی بنیاد پر نہیں کہا جا رہا بلکہ فیڈریشن کی معاشی بحالی کی ٹیم نے طویل تجزیوں اور تجاویز کی روشنی میں اس بات کا عندیہ دیا ہے۔ اب گیند حکومت کی کورٹ میں ہے، اگر حکومت سنجیدگی سے معیشت کی بحالی چاہتی ہے تو غیر ملکی پیداوار بڑھانے کے لئے ٹھوس اقدام اٹھانے پڑیں گے۔ ٹھوس حقائق اور اعداد و شمار پر مبنی معیشت کا قیام ناگزیر ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر سے بے روزگاری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کرکے براہ راست ٹیکسوں کے ذریعہ سے معیشت کو مضبوط کیا جائے۔ سرمایہ کاری کی نئی حقیقت پسندانہ پالیسی بنائے کی ضرورت ہے جس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستانیوں کو بھی سرمایہ کاری کے لئے ترغیبات دی جائیں۔ مانیٹری پالیسی اور مشکل پالیسی کو حقیقت پسندانہ بنانے کے اقدام کئے جائیں۔ بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئے نئے منصوبوں کے لئے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر سرمایہ کاری کریں۔ مختصر اور طویل مدت کے منصوبوں سے مثبت نتائج حاصل کئے جائیں۔ مہنگائی کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ پیداواری عمل میں جدید مشینری کا استعمال زیادہ کیا جائے اور بے روزگاروں کو کھپانے کے لئے نئی مصنوعات کے کارخانے قائم کئے جائیں۔ مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی مصنوعات سالانہ درآمد کی جاتی رہیں، جبکہ تھوڑی سی مزید سرمایہ کاری سے وہی مصنوعات پاکستان میں سستے داموں تیار کی جا سکتی ہیں۔ آئی ٹی سمیت تمام جدید شعبوں میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری سے غیر ملکی ٹیکنالوجی درآمد کرکے مشترکہ منصوبے لگائے جائیں۔ افراط زر کو کنٹرول کرکے مہنگائی کے جن کو واپس بوتل میں بند کیا جائے۔

معاشی ترقی کے راستے میں بہت سی قانونی اور آئینی پیچیدگیاں حائل ہیں، اس طرف حکومت کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، چنانچہ معاشی ترقی کے راستے میں حائل قانونی اور آئینی رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے فیڈریشن الگ ورکنگ پیپر تیار کررہی ہے۔ مستقبل طور پر حکومت سے قریبی رابطہ رکھنے اور صنعت و تجارت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے فیڈریشن میں مختلف شعبوں کی ترقی کے لئے ورکنگ گروپس اور تھنک ٹینک بنائے جا رہے ہیں۔

فیڈریشن کے صدر دفتر کے علاوہ زونل دفاتر میں موجود صنعت و تجارت کی اہم شخصیت نے ویڈیو کانفرنس میں اپنی اپنی ٹھوس تجاویز پیش کیں، لاہور میں فیڈریشن کے زونل آفس میں یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ اس موقع پر افتخار علی ملک نے وڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کیں اور اس بات پر زور دیا کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال اتنی دیر تک کنٹرول میں نہیں آ سکتی۔ جب تک بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی جائے گی۔ خاص طور پر بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا میں معاشی ترقی کا عمل تیز کرنے کے لئے وہاں کے ماحول اور ثقافت کے مطابق منصوبے تیار کئے جائیں۔ پیداوار بڑھانے کے لئے ہائی برڈ ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ایک ایکڑ سے عام پیداوار کی نسبت تین سے پانچ گنا زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے جو پاکستان کی معاشی خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی بدولت آمدنی میں معقول اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لاکھوں پاکستانی بیرون پاکستان مقیم ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے پیارے پاکستان میں آکر کام کریں، لیکن مناسب ماحول نہ ہونے کی وجہ سے وہ رسک نہیں لیتے۔ اگر حکومت بیرون ملک مقیم پاسکتانیوں کی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ دے تو پاکستان میں خوشحالی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے، جیسا کہ میاں محمد ادریس نے کہا ہے کہ چار فیصد سالانہ کی شرح سے پیداوار بڑھ رہی ہے جو مناسب منصوبہ بندی اور حکومت کی سرپرستی سے سات فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی شدید خواہش ہے کہ پاکستانی معیشت کو پٹڑی میں ڈال دیا جائے اور انشاء اللہ 2015ء پاکستان کی معاشی بحالی کا سال ثابت ہوگا۔

مزید : کالم