جنوبی ایشیا: امریکی پالیسی!

جنوبی ایشیا: امریکی پالیسی!
جنوبی ایشیا: امریکی پالیسی!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حال ہی میں امریکہ کے صدر اوباما نے بھارت کا دورہ کیا۔ بھارت سرکار نے اس دورے اور دورے کے درمیان ہونے والی سرگرمیوں اور معاہدوں کو عالمی سطح پر ہائی لائٹ کیا۔امریکی مبصرین جن میں اسٹیفن کوہن بھی شامل ہیں،جنوبی ایشیا کے معاملات پر ماہر ترین سمجھے جاتے ہیں، کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔۔۔Shooting For a Century ۔۔۔ اور ۔۔۔The India-Pakistan Conundram نے اپنے اپنے انداز میں اس دورے پر تبصرہ بھی کیا اور تنقید بھی کی ہے۔انہوں نے امریکی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ جنوبی ایشیا مستقبل میں دنیا کا اہم ترین علاقہ ہو گا، جس کے پیش نظر یک طرفہ جھکاؤ اس خطے سے امریکی اثرو رسوخ کو ختم بھی کر سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کرنے چاہئیں، جیسے بھارت کے ساتھ کئے ہیں، جن میں ایٹمی توانائی کا معاہدہ سرفہرست ہے۔ ایٹمی بھارت اور ایٹمی پاکستان دونوں کے ساتھ یکساں رویہ امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات ہیں، جنگیں بھی ہوئی ہیں، لیکن ایٹمی طاقتیں بن جانے کے بعد محدود جنگ کا خطرہ بھی نہیں رہا۔ دونوں ممالک میں سے کوئی ایسا ’’ایڈونچر‘‘ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان ’’اچھے نہیں بہت اچھے‘‘ تعلقات امریکہ کے لئے چین کے گھیراؤ اور افغانستان میں امن سے بھی زیادہ اہم ہیں، کیونکہ دونوں مقاصد حاصل کرنے کے لئے راستہ ایک ہی ہے۔ جنوبی ایشیا، خصوصاً بھارت اور پاکستان کے درمیان امن، تجارتی تعلقات میں پیشرفت ہو تاکہ وسط ایشیا تک باہمی رسائی ممکن ہو۔

اسٹیفن جو۔۔۔IDEA OF PAKISTAN۔۔۔ اور ۔۔۔THE FUTURE OF PAKISTAN۔۔۔ کے مصنف بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد۔۔۔ این پی ٹی، یعنی (NON PROLIFERATION TREATY)۔۔۔ ایک اہم عالمی پیشرفت تھی، لیکن جنوبی ایشیا میں اس پر موثر انداز میں عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ امریکہ کو چاہئے کہ دونوں ملکوں کو ڈیٹرنس حاصل ہو جانے کے بعد مکمل امن کی طرف پیش قدمی پر آمادہ کرے، نہ کہ ایک کی پیٹھ پر تھپکی دے اور دوسرا آپشنز پر غور شروع کر دے، جو آج ہو رہا ہے، لیکن اگر امریکہ نے یہ راستہ اختیار نہ کیا اور بھارت سے ’’سول ایٹمی معاہدہ‘‘ کر لیا، اب دیر بدیر پاکستان بھی یہ حاصل کر لے گا اور امریکہ پر انحصار کی ماضی کی پالیسی چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا یا کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ دونوں کو ہی ایٹمی کلب کا ممبر بنائے یا بننے دے، تسلیم کرے اور کروائے، تاکہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خدشہ نہ رہے، کیونکہ پھر دونوں ممالک پابند ہو جائیں گے کہ این پی ٹی پر عمل درآمد کے معاہدے پر کاربند رہیں، جس پر دونوں نے ابھی تک دستخط نہیں کئے، یعنی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور استعمال پر پابندی، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جوڑنے کی پالیسی مضبوط اور مستحکم ہو، لیکن یکطرفہ پیاراس میں رکاوٹ ہو گا جو جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال دے گا۔

انہوں نے افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔۔۔ (اگرچہ اب معاملات قدرے درست سمت اختیار کر رہے ہیں)۔۔۔ کہ افغانستان کے معاملے میں بھارت کا کردار زیادہ اہم اور نمایاں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے پاکستان طاقت کے ’’اہم مراکز‘‘ میں تشویش پیدا ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے کے حل میں تاخیر پر بھی تنقید کی ہے کہ دنیا بھر میں ایسے تنازعات گفت و شنید سے حل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ امریکہ کی بھی خود پارٹی بننے کی بجائے ایسے حالات پیدا کرنے میں مدد دینے کی ضرورت تھی کہ عالمی ادارے اس معاملے کو اتنا طول نہ پکڑنے دیتے، جیسا کئی دوسرے معاملات اور تنازعات میں کیا گیا ہے۔

امریکہ کا مفاد اس سے وابستہ ہے کہ پاکستان میں امریکہ کی پالیسیوں کے بارے میں خدشات جنم نہ لیں، کیونکہ بدلتے عالمی حالات میں یہ امریکی مفاد میں نہیں ہو گا، خصوصاً جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی کشیدگی مشرق وسطیٰ پر بھی اثر انداز ہو گی، جیسے مشرقی وسطیٰ کے حالات جنوبی ایشیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ امریکہ کو یہی تاثر دینا ہو گا کہ پاکستان ہر لحاظ سے جنوبی ایشیا کا ایک اہم مُلک ہے اور اس کی اہمیت بھی اتنی ہی ہے، جتنی بھارت کی اہمیت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان قریبی علاقائی، سیاسی، معاشی اور تجارتی تعاون مضبوط ہو، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کے ذریعے کریں گے۔اگرچہ امریکہ ایسا ماحول پیدا کرنے میں مدد د سکتا ہے، دے گا اور دینی بھی چاہئے، لیکن امریکی پالیسی سازی میں پاکستان کے بارے میں کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کی گئی۔۔۔(اگرچہ جنرل راحیل شریف کے دورۂ امریکہ میں تمام معاملات پر گفتگو بھی ہوئی اور پیشرفت بھی دکھائی دیتی ہے۔)

*۔۔۔ امریکی مبصرین کے خیال میں امریکہ کو جنوبی ایشیا میں مضبوط جمہوری حکومتوں کے قیام میں مدد دینی چاہئے۔ غربت دور کرنے کے لئے ان ممالک کی امداد کرنی چاہئے (عوام کی غربت دور کرنے کے لئے سیاست دان اور نوکر شاہی تو بادشاہ ہیں) تعلیم اور صحت کے شعبے میں فنی اور مالی امداد کی بھی ضرورت ہے،جو دوسرے مسلمان ممالک کے لئے بھی ماڈل بن جائیں۔ اس خطے میں سیاسی ماحول پیدا کرنے کے لئے کوشش کی ضرورت ہے،جس میں یورپ، چین، برصغیر پاک و ہند، روس، مشرقی وسطیٰ کے درمیان قریبی تعاون کے لئے جنوبی ایشیا ایک پُل کا کام دے۔

*۔۔۔ افغانستان میں کامیابی ،یعنی ایک پُرامن اور سیاسی ومعاشی لحاظ سے مستحکم حکومت کا قیام ،جس کے لئے افغانستان میں فوج اور پولیس کی تربیت،جدید اسلحہ کی فراہمی ضروری ہے ،تاکہ دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب جدوجہد ممکن ہو، بصورت دیگر روس ،چین اور دوسری علاقائی طاقتوں کے درمیان افغانستان میں اثرو رسوخ اور کنٹرول حاصل کرنے کی جدوجہد شروع ہو جانے کا امکان ہے۔

*۔۔۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے بارے میں بھی امریکی پالیسی واضح اور ٹھوس بنیادوں پر قائم کی جائے، تاکہ وہاں بھی سیاسی استحکام ہو ،ان ریاستوں کا روس اور چین پر انحصارکم سے کم کیا جائے ،کریمیا اور یوکرائن جیسے حالات پیدا نہ ہونے دیئے جائیں۔

*۔۔۔ 1992ء میں ان ریاستوں اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ مرکزی نکتہ بن سکتا ہے، جس کے گرد امریکی پالیسی اپنا موقف مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر قائم کرے۔ اس سے افغانستان میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

*۔۔۔ انسانی حقوق کے بارے میں بھی سخت گیر پالیسی اختیار کرنے کی بجائےSteady اقدامات زیادہ مفید ثابت ہوں گے اور ہوئے ہیں۔ ان کو بنیاد بنا کر علاقائی کشیدگی پیدا کرنا بھی امریکی مفادات کے خلاف ہے اور کئی جگہ ایسا ہوا بھی ہے۔

*۔۔۔ جمہوریت، جمہوری اداروں کی مضبوطی، منتخب نمائندوں کی تربیت کے ذریعے یقینی بنائی جائے۔ اگرچہ ابتدا میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، لیکن اسے ’’عوام سے عوام کا رابطہ‘‘ کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے، ابھی تک تو امریکی پالیسی پاکستان کے بارے میں ’’حکومت سے حکومت کا رابطہ‘‘ تک محدود ہے ،جبکہ صدر بش کو سوال کرنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے عوام ہمارے خلاف کیوں ہیں؟ جناب صدر اس لئے کہ امریکی امداد عوام تک نہیں پہنچ پاتی اور اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں ہی رہتی ہے۔

مزید : کالم