بھارتی آبی جارحیت

بھارتی آبی جارحیت
بھارتی آبی جارحیت

  

پاکستانی تاریخ سیلابوں سے بھری پڑ ی ہے ہر مرتبہ نہ صرف سیلاب کی صورت میں اربوں ڈالر کا قیمتی پانی محفوظ ذخیرہ گاہوں کے نہ ہونے کی بنا پر سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے ،بلکہ انسانی آبادیوں املاک جانوں و مال کو جو شدید نقصانات پہنچتے ہیں سالوں تک اس کا ازالہ نہیں ہوپاتا۔ اس مرتبہ بھی پاکستان کو تباہ کن سیلاب کی وجہ سے دو کروڑ انسان متاثرین کے علاوہ 45 ارب ڈالر کا مجموعی نقصان اٹھانا پڑا ہے اس کے باوجود حکمران نہ تو کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور نہ ہی بھارت کی آبی جارحیت روکنے کی جستجو کررہے ہیں۔

پانی کی قلت پاکستان اور بھارت کے مابین ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔کیونکہ بھارت درجنوں ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کو آبی جارحیت کا شکار کرسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کالا باغ ڈیم جیسا منصوبہ پہلے تعمیر ہوچکا ہوتا تو سیلاب اس قدر تباہی نہ پھیلاتا، لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ اے این پی اور سندھی قوم پرستوں نے نہ آج تک پاکستان کو دل سے قبول کیا ہے اور نہ ہی پاکستان کی بقا اور سالمیت کے حوالے سے ان سے کبھی خیر کی امید کی جاسکتی ہے۔صدر نظریۂ پاکستان فورم پشاور ملک لیاقت علی تبسم نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کی اکثریت کالا باغ ڈیم بنانے کے حق میں ہے۔صرف چند لوگ ہیں جو بھارتی پیسے کے زور پر کالاباغ ڈیم کے مخالف ہیں۔ سلیم سیف اللہ نے کہا کہ پاکستان میں ایک نہیں 10 کالا باغ ڈیم بنائے جائیں، تاکہ آبپاشی اور بجلی کے لئے وافر پانی میسر آسکے، لیکن حکمران یہ کہہ کر کالا باغ ڈیم کو پس پشت ڈال کر مجرمانہ چشم پوشی کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ کالا باغ ڈیم اتفاق رائے سے ہی بنایا جائے گا۔ قومی اہمیت کا کوئی منصوبہ اس لئے تعمیر نہ کیا جائے کہ اتفاق رائے نہیں ہوسکا تو یہ نہ صرف پاکستا ن کے ساتھ سراسر زیادتی ہے، بلکہ آنے والے سالوں پاکستان کو بجلی پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ صنعتی زرعی اور اقتصادی اعتبار سے تباہی کے دہانے پر کھڑا کر نے کے مترادف ہے۔

ایک جانب کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے سے پاکستانی حکمرانوں کی مجرمانہ چشم پوشی تو دوسری جانب دریائے ستلج، بیاس ، راوی کو ہڑپ کرنے کے بعد اب دریائے چناب ،جہلم، نیلم اور دریائے سندھ جیسے پاکستانی دریاؤں پر بھی درجنوں ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کو بنجر بنانے کی ہر ممکن اور کامیاب کوشش کی جارہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پاکستان دو ٹوک الفاظ میں بھارت کو متنبہ کرتا کہ پاکستانی دریاؤں کا ایک قطرہ بھی اگر بھارت نے روکا تو ہم ایٹم بم سے ڈیموں سمیت سارے بھارت کو راکھ کا ڈھیر بنا دیں گے، لیکن ہمارے حکمرانوں نے سندھ طاس معاہدے پر گفتگو کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ104اجلاسوں اور بھارت کے 103 دوروں کے باوجود بھارت کی آبی جارحیت کو روکا نہیں جاسکا ،بلکہ مذاکرات کرنے والے پاکستانی لوگ بھارت کے ہمنوا بن چکے ہیں اور وہ کھلے لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ بھارت پاکستان کا پانی نہیں روک رہا اور نہ ہی پاکستانی دریاؤں پر ڈیم بنا کر وہ پانی چوری کا مرتکب ہورہا ہے۔

بھارتی آبی جارحیت سے اگر صرف زراعت کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جائے تو تقریباً 17 لاکھ ایکڑ اراضی جو کپاس کی کاشت کے لئے مشہور تھی زیر آب آگئی۔ جب کہ چاول کی کاشت کے لئے موزوں 7 لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی پانی کی نذر ہوگئی ۔ اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 16 لاکھ ایکڑ کے اوپر پھیلی ہوئی کاٹن کی فصل (جو کل پیداواری رقبے کا تقریباً 23 فیصد بنتا ہے) تباہ ہوچکی۔ جب کہ چاول کی تقریباً 14 لاکھ ایکڑ پر محیط فصل (جو کل پیداواری رقبے کا 2715 فیصد بنتا ہے) ضائع ہوئی۔

لیکن یقیناًایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ناتے جس کی معیشت کوکئی سنگین مسائل درپیش ہیں یہ ضروریات مکمل طور پر پوری کرنا شاید ناممکن ہی نظر آتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں آنے والے متواتر سیلابوں سے ملکی معیشت کو کس قدر نقصان پہنچا۔ سیلاب سے پہنچنے والی ان تباہ کاریوں میں بھارت کی ریشہ دوانیاں اور ہماری غفلت دونوں کا برابر کا حصہ ہے پاکستانی حکمران اقتدار کی باہمی رسہ کشی میں کچھ اس طرح مصروف ہیں کہ انہیں اس بات کی خبر نہیں کہ آنے والا وقت بطور خاص پانی کی قلت کے حوالے سے کس قدر تشویش ناک اور خطرناک صورت حال پیدا کرسکتا ہے۔

مزید : کالم