پنجابی کا مسئلہ

پنجابی کا مسئلہ
پنجابی کا مسئلہ

  

قائد اعظمؒ نے جمہوری جدوجہد سے خطہء پاک حاصل کیا اور وہ جمہوریت ہی کو یہاں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے لیکن شومئی قسمت سے ادھر ان کی آنکھیں موندیں ادھر ان کے جانشینوں نے سوال کی آزادی دینے سے صاف انکار کردیا۔ کسی نے اسلام کی بات کی تو جیل چلا گیا، کسی نے جمہوری حقوق طلب کئے تو مستحق دار ٹھہرگیا ۔ 63سال میں سے 33سال مارشل لاء کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے گزرگئے ۔ اب جو ہانپتے کانپتے ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کے دن دیکھنے نصیب ہوئے ہیں تو نئی نسل لب کشا ہونے لگی ہے۔ معاصر ڈان نے خبر دی ہے کہ لاہور لٹریری فیسٹیول میں کسی نوجوان طالب علم نے پروگرام کے دوران اٹھ کر سوال کیا کہ پنجابی میں بات کیوں نہیں کی جاتی؟ معلوم نہیں سائل کو سوال کا جواب ملا یا نہیں۔ توقع تو نہیں کہ سٹیج سے کسی نے اس طالب علم کو کوئی تسلی بخش جواب دیا ہو کیونکہ سوال ذراٹیڑھا تھا۔ جب میں سوال کو ذرا ٹیڑھا بتا رہا ہوں تو غلط نہیں بتارہا ۔ میں اگر سٹیج پر ہوتا تو بتاتا کہ پنجاب کی نئی نسل اگر پنجابی بولنے سے شرماتی ہے تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خود پنجابی ہی پنجابی زبان کے دشمن ہیں۔ اور جب کوئی بندہ اپنا دشمن آپ ہی ہو اور یہ ماننے پر بھی تیار نہ ہو کہ خود اس کے اپنے رویے ہی اس کی ترقی کے لئے سدراہ بن رہے ہیں تو اس کا کیا کیا جائے۔

تیس سال تک پنجابی زبان وادب کی تدریس کے بعد مجھے جو حاصل ہوا وہ یہی تو ہے کہ خود اہل پنجاب ہی اپنی زبان کو اپنی شناخت کا ذریعہ بنانے اور اسے ترقی دینے میں سنجیدہ نہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال شعبہ پنجابی پنجاب یونیورسٹی ہے۔ تقسیم سے پہلے یہ شعبہ اورنٹیل کالج ہی میں قائم تھا۔ ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ اس کے آخری سربراہ تھے۔ پاکستان بن گیا تو یہ شعبہ بند کردیا گیا اور بڑی سہولت سے یہ بات ذہنوں میں بٹھا دی گئی کہ پنجابی سکھوں کی بولی ہے۔ لیکن زیادہ دیریہ پروپیگنڈہ چل نہ سکا، ڈاکٹر فقیر محمد ایسے کئی دیوانے میدان میں نکل آئے۔ ان کی سرتوڑ جدوجہد سے دسمبر 1971ء میں یہ شعبہ بحال ہوگیا لیکن کئی طرح کے ذہنی تحفظات کے ساتھ۔ اب پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنانے کی جنگ شروع ہوچکی تھی۔ ایک اسلامی جماعت کے سربراہ نے پنجابی کو ’’گالیوں کی زبان‘‘ قرار دے کر نیکی کمالی۔ جن ہاتھوں میں شعبہ پنجابی کی باگ ڈور تھمائی گئی انہوں نے شعبہ میں مارشل لائی ماحول پیدا کردیا۔ اس وقت تک چونکہ ملک میں دوبارہ مارشل لاء لگ چکا تھا، اس لئے زندگی کے ہردائرے میں مارشل لائی ماحول کا پیدا ہوجانا اچنبھے کی بات نہ تھی۔

شعبہ پنجابی میں مارشل لاء ان ہدایات کا لگا کہ گورونانک کو نہیں پڑھا سکتے کہ وہ شاعر ہی نہ تھا۔ لوک شاعری پر ریسرچ نہیں کرواسکتے کہ اس میں سیاست ہوتی ہے۔ ہیر وارث شاہ کے فلاں فلاں بند نہ پڑھاؤ کیونکہ ان میں فحاشی اور عریانی ہے۔ وحدۃ الوجود کے فلسفے پر زیادہ کلام نہ کرو کہ دوقومی نظریے کے خلاف ہے۔ انور علی کے افسانوں کا مجموعہ ’’کالیاں اٹاں کالے روڑ‘‘ ایک دفعہ شامل نصاب ہوگیا تو جلد ہی نکال باہر کیا گیا کہا گیا اس میں فحاشی ہے۔ تاکید کی گئی کہ اور سب کچھ پڑھالو، بس ڈاکوؤں کو ہیرو نہ بنادینا۔ یعنی اگر اسلام کی بات ہو تو بے شک جلال الدین اکبر کو پکا دین دشمن بادشاہ قرار دے لو لیکن جب مسئلہ مسلم اقتدار کا ہو تو دلے بھٹی کو ڈاکو قرار دے دو کیونکہ وہ مرکز کے خلاف آواز اٹھاتا ۔ اکبر نے اگر اسے پھانسی چڑھا دیا تو اس کے فیصلے کو ٹھیک بتاؤ کیونکہ دلا بھٹی باغی تھا اور باغیوں سے یہی سلوک روارکھا جاتا ہے۔

پہلے پہل مجھے پنجابی زبان اور ادب کی تاریخ کا پرچہ پڑھانے کی ذمہ داری دی گئی۔ ظاہر ہے نہ زبان خلا میں سفر کرتی ہے نہ ادب معاشرتی تبدیلیوں کے بغیر نئے تجربات سے ہمکنار ہوتا ہے چنانچہ مجھے ہندوستان کے ساتھ ساتھ پنجاب کی بھی سیاسی ، سماجی اور ثقافتی تاریخ پر روشنی ڈالنی ہوتی تھی۔ اس لئے مجھے ’پنجابی‘ کے مسئلے کو ذرا گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا موقع ملا۔ میں اپنے نتائج فکر کلاس میں بھی زیربحث لے آتا تھا، اس کی وجہ سے صدر شعبہ کو میرے نہاں خانہ دماغ میں ’سرخی‘ نظر آنے لگی۔ کہا کرتے ذرا کھل کر بات کرو تاکہ ہمیں کچھ اندازہ تو ہو کہ تمہارے اندر ’سوشلزم ‘ نے کس حدتک قبضہ جمارکھا ہے۔

عوامی شاعر استاد دامن وفات پا گئے تو ایک طالبعلم نے ان پر ایم اے کا مقالہ لکھنے کی اجازت طلب کی۔ صدر شعبہ ماننے کو تیار نہ تھے، کہنے لگے دامن بھی کوئی شاعرتھا، وہ تو تک بند تھا۔ میں نے سفارش کی موضوع کچھ ٹھیک ہی ہے، اجازت دینے میں کیا حرج ہے ۔ بالآخر مجھے ہی اس مقالے کا نگران بنادیا گیا۔ مقالہ لکھا گیا، اور اس پر وائیوا بھی ہوگیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی لاہور کی ایک برادری کو خبر کی گئی کہ مقالے میں استاد دامن کی ایسی نظم شامل ہے جس میں اس برادری کی تضحیک کا پہلو ہے۔ مارشل لاء اتھارٹیز کو بھی ترغیب دی گئی کہ مقالہ میں استاد کی ایک نظم مارشل لاء کے خلاف شامل ہے :’’پاکستان دے دو خدا، لاالہ تے مارشل لاء‘‘ انکوائریوں کا سلسلہ چل پڑا، بالآخر دونوں نظموں کو مقالہ سے خارج کروادیا گیا۔

شعبے میں تدریس اور تحقیق جس قسم کی ہورہی تھی، اس پر میں وقتاً فوقتاً بات کرکے صدر شعبہ کو ناراض کرتا رہا۔ ناراضی اس حدتک بڑھی کہ بول چال تک بند ہوگئی۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے اوپر تلے کئی گرم گرم چٹھیاں لکھیں اور ہردفعہ جواب کے لئے صرف تین دن کی مہلت دیتے۔ تنگ آکر میں نے اپنی ایک جوابی چٹھی میں پوچھ لیا کہ آپ نے ’’کھوج سندر‘‘ نام کی اپنی ایک کتاب شامل نصاب کروا رکھی ہے، اس کتاب کا دنیا میں کہیں وجود بھی ہے یا نہیں ؟ میری چٹھی پڑھتے ہی ٹھنڈے پڑ گئے، فوراً ’’نامہ وپیام‘‘ کا سلسلہ بند کردیا۔

چودہ سال ان کی رفاقت میں بڑے سخت ہی گزرے۔ ان کے بعد جو صاحب آئے ان سے آخری دن تک یہی تقاضا کرتا رہا کہ بی اے اور ایم اے کے نصابات پینتیس ، چالیس سال پرانے ہیں۔ ان میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے، وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ مکالمہ ہوتا رہا، دوسرے رفقا بھی ایک حدتک میری تائید کرکے خاموش ہوگئے (انہیں آخرترقی بھی تو کرنی تھی ) ۔ نتیجہ معلوم کہ وہاں آج بھی تدریس اور تحقیق پرانی ڈگر پر جاری ہے۔ صرف ایک آدھ مثال عرض کرتا ہوں کہ بی اے پنجابی آپشنل کی کتاب ’’ ادبی مہکاں‘‘ کے آخری صفے کے حاشئیے میں فاضل مرتب نے ’’پراگندگی‘‘ کے معانی ’’گندگی نال بھریا ہو ‘‘ دیئے ہیں اور انور مسعود کی نظم ’’اج کیہ پکایئے ‘‘ میں سے وہ مصرعے خارج کردیئے ہیں جن میں امریکہ سے دوستی کا ذکر ہے۔ چالیس سال سے ایم اے کے نصاب میں ڈاکٹر باقر کا گھسا پٹا ناول ’’ہٹھ‘‘ آج بھی شامل ہے جس کے بعد متعدد نئے ناول لکھے گئے ہیں جن میں سے چند اتنے معیاری ہیں کہ انہیں بڑی آسانی سے شامل نصاب کیا جاسکتا ہے لیکن صدر شعبہ سے یہ بات کون منوائے، اب تو وہ ڈین آف فیکلٹی بھی ہیں اور پرنسپل کی مسند پر بھی رونق افروز ہیں اتنے سارے اختیارات والے ’’صاحب‘‘ کے سامنے کون دم مار سکتا ہے۔ !

مزید : کالم