نسبت اعلیٰ نصیب ادنیٰ ،آخر کیوں؟

نسبت اعلیٰ نصیب ادنیٰ ،آخر کیوں؟
نسبت اعلیٰ نصیب ادنیٰ ،آخر کیوں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

امت مسلمہ کی آبرو دامنِ مصطفیؐ سے وابستہ ہوجانے میں ہے۔ اگر یہ تعلق ٹوٹ جائے تو دنیا وآخرت دونوں برباد ہوجاتی ہیں۔ اس تعلق کی مضبوطی دنیا میں سربلندی اور آخرت میں سرخروئی کی ضمانت ہے۔ آج ہم دعویٰ تو عشق مصطفیؐ کا کرتے ہیں، مگر آپؐ کے نقش پا پہ چلنے پر نفس آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں، جو زمانے کی گردشوں سے بے نیاز ہوکر خود کو غلامی رسولؐ میں مکمل یکسوئی اور اخلاص کے ساتھ دے دیتے ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے: وَمَآ اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ إِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔(الحشر:7)جو کچھ رسولِ خدا تمھیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دیں اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔

بمصطفٰی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبیست

آج مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی چھوڑ کر امت مسلمہ ہربت کی غلام ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ بتوں کو توڑ دیتا ہے۔ خواہ مٹی اور پتھر کے ہوں یا گوشت پوست کے۔ نام نہاد سپر طاقت کے سامنے سرجھکا دینے والے حقیقی ایمان سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ امریکی غلامی نے ہمیں رسوائی وذلت اور تباہی وبربادی کے سوا کیا دیا ہے۔ ہمارے حکمران طبقے اور اشرافیہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ امریکہ نہ ان داتا ہے نہ سپر طاقت۔ یہ صفت صرف اللہ رب العالمین کی ہے۔ مومن وہی ہے جس کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی عزت واحترام اور پرخلوص جذبۂ اطاعت ہو۔

در دل مسلم مقام مصطفٰےؐ است

آبروئے ما زنامِ مصطفٰےؐ است

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے خیرخواہ تھے۔ آپؐ کے دین کو امن وسلامتی کا دین قرار دیا گیا ہے۔ آپؐ بدترین دشمنوں کے دل میں بھی اپنی محبت واخلاق کے ذریعے گھر کرلیتے تھے۔ ایک انگریز خاتون کیرن آرم سٹرانگ(Caren Armstrong)نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام ہی مصنفہ نے پیغمبرِ امن(Prophet of Peace) رکھا ہے۔ آپؐ کی سیرت اور اخلاق عالیہ فاتح عالم اور فاتح قلوب ہیں۔ آپؐ نے خون کے پیاسوں کو بھی دعائیں دی ہیں۔ آپ کے معجزات میں ایسے واقعات ہمیں ملتے ہیں کہ جب آپ کو قتل کرنے والے آپ کے محبت بھرے رویے کے اسیر ہوگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ کو فتح کرچکے تو بہت سارے اہلِ مکہ اسلام میں داخل ہوگئے، تاہم کچھ اشخاص ایسے بھی تھے جنھوں نے آپؐ کے سیاسی غلبے کو تو قبول کرلیا، مگر آپ کی شانِ نبوت کے قائل نہ ہوسکے۔

آپؐ کو اللہ نے رؤف ورحیم کے لقب سے یاد کیا ہے۔ (التوبہ:128)۔ ابن ہشام، ابن اثیر اور امام ابن کثیر نے ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ قوت مل جانے کے بعد انتقام لینے کی بجائے دلوں کو جیتنے کے حریص تھے۔ یہ سبھی مورخین بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت سیدنا بلالؓ آپؐ کے ہمراہ تھے۔ آپؐ نے انھیں اذان پڑھنے کا حکم دیا۔اس وقت حرم شریف کے صحن میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ ان میں ابوسفیان بن حرب، عتاب بن اسید اور حارث بن ہشام ایک جگہ اکٹھے بیٹھے تھے۔ اذان کی آواز سن کر عتاب نے اپنے باپ کے بارے میں کہا: ’’اسید کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے نوازا ہے کہ وہ اس آواز کو سننے سے قبل ہی دنیا سے رخصت ہوگیا۔ یہ آواز سنتا تو اسے دکھ پہنچتا۔‘‘حارث بن ہشام نے کہا: ’’بخدا اگر میں جانتا کہ وہ حق پر ہے تو اس کی اتباع کرتا۔‘‘ ابوسفیان نے ان کی باتیں سن کر کہا: ’’میں تو کچھ بھی نہیں بولوں گا۔ اگر میں نے زبان کھولی تو یہ کنکریاں اسے خبر پہنچادیں گی۔‘‘

تھوڑی دیر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور فرمایا: ’’جو کچھ تم لوگوں نے کہا مجھے اس کا علم ہوگیا ہے۔‘‘پھر آپؐ نے ان سب کی گفتگو سنا دی۔ یہ سنتے ہی حارث اور عتاب نے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا: ’’خدا کی قسم اس بات کی خبر صرف اللہ تعالیٰ ہی آپ کو دے سکتا ہے، کیونکہ ہمارے پاس چوتھا آدمی موجود ہی نہ تھا کہ ہم سمجھیں اس نے آپؐ کو بتا دیا ہے۔‘‘

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ان کو سرزنش کی، نہ کوئی انتقام لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ سب لوگ اخلاص کے ساتھ اسلام میں داخل ہوگئے اور صحابہؓ کی جماعت میں انھوں نے خدمتِ اسلام کے لئے عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ اسلام محبت سے پھیلا ہے، قوت اور تلوار سے نہیں۔ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ یوں مکمل داخل ہونے سے اللہ تعالیٰ خود بخود اس امت کو قوی بنا دیتا ہے، جبکہ اسلام سے دوری اسے ذلت ورسوائی میں دھکیل دیتی ہے۔ ذرا سوچیے کہ ہم کیا تھے اور آج کیا ہیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓکی ایک روایت ترمذی میں یوں بیان ہوئی ہے۔ ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کے سفر میں آسمانوں پر میری ملاقات انبیائے کرام علیہم السلام سے ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپؑ نے فرمایا کہ اے محمدؐ! میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہنا اور انھیں جنت کی نعمتوں سے آگاہ کرنا۔‘‘ اندازہ کیجیے یہ کتنی بڑی خوش نصیبی ہے، مگر یہ بھی سوچیے کہ کیا ہم اس عظیم نبیؐ کے امتی ہونے کا حق ادا کررہے ہیں! نسبت اتنی اعلیٰ اور قسمت اتنی ادنیٰ کہ نہ ہمارا کوئی وزن ہے نہ اعتبار!آخر کیوں؟عشقِ مصطفیؐ محض دعوے سے نہیں عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے اور آج صورت حال یہ ہے کہ:

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

امت کو کھوئی ہوئی عزت اور مقام پھر مل سکتا ہے، لیکن اس کے لئے اپنے ایمان کی تجدید اور اپنے ماحول ومعاشرے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام صرف مسجد کے منبرومحراب کے لئے نہیں آیا، یہ ایوان اقتدار کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرآن کا حکم ہے: ان الحکم الا للہ۔ اسی قرآنی حکم کی بہترین ترجمانی علامہ اقبال نے فرمائی ہے:

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتاکو ہے

حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آزری

مزید : کالم