شادی، بیاہ، ون ڈش، وقت کی پابندی لازم!

شادی، بیاہ، ون ڈش، وقت کی پابندی لازم!

چیف سیکرٹری نے ایک ضروری اور ہنگامی مراسلے کے ذریعے تمام اضلاع کے ڈی سی او حضرات سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں شادی بیاہ کے حوالے سے احکام اور پابندی پر مکمل عمل کرائیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ شادی بیاہ کے موقع پر نہ صرف ’’ون ڈش‘‘ کی پابندی کی جائے، بلکہ تقریب بھی ٹھیک 10 بجے ختم ہو۔چیف سیکرٹری کی طرف سے یہ ہدایت ان شکایات کی روشنی میں جاری کی گئی کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں پابندیوں کو ہوا میں اڑایا جا رہا ہے،ون ڈش کی خلاف ورزی کی جاتی اور کئی اقسام کے پکوان بھی کھلائے جاتے ہیں اور وقت کی پابندی بھی نہیں ہوتی اور 10 بجے کے بعد بھی تقریب جاری رہتی ہے۔ حکومت کی طرف سے ون ڈش اور دس بجے رات والی پابندی لگائی گئی تو ابتدا میں پس و پیش ہوا، پھر لوگ عادی ہوتے چلے گئے اور درمیانہ اور نچلے درمیانہ طبقہ کے خاندانوں نے اسے غنیمت جانا، تاہم کچھ عرصہ سے اس پابندی کی خلاف ورزی کے راستے نکالے جانے لگے۔اس سلسلے میں تیل، مہندی کی رسمیں فارم ہاؤسوں میں رکھ لی جاتی تھیں اور ساری ساری رات ہنگامہ رہتا۔ اب دوسرے شہروں میں تو اس کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔ لاہور جیسے شہروں میں بھی خلاف ورزی معمول بن گیا۔ بڑے ہوٹلوں اور درجہ اول کے شادی گھروں کے سوا باقی مقامات پر خاموشی سے سب کچھ ہونے لگا، شرط متعلقہ تھانے سے ’’راہ و رسم‘‘ کی تھی جو شادی گھر والے خود ہی نبھا لیتے ہیں۔مجموعی طور پر پابندی کا خیر مقدم ہی ہوا اور عوام نے اسے مان لیا ہوا ہے، تاہم چند دولت مند امارت کا رعب دکھانے سے باز نہیں آتے۔ چیف سیکرٹری کی ہدایت بروقت ہے اس عمل کی نگرانی بھی ضروری ہے۔اس کے علاوہ فائرنگ کے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

مزید : اداریہ