یونس خان! بہت بے آبرو۔۔۔!

یونس خان! بہت بے آبرو۔۔۔!

خبر ہے تو ٹھیک ہی ہو گی کہ ’’لیجنڈ‘‘ یونس خان نے ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر ہی لیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایک روزہ عالمی کرکٹ کپ کے بعد ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے اور صرف ٹیسٹ میچوں کے لئے دستیاب ہوں گے۔ یونس خان نے یہ فیصلہ اپنی بدترین فارم کے ذریعے قومی ٹیم کو نقصان پہنچانے کے بعد کیا اور پھر بھی ورلڈکپ کے اختتام کا انتظار کیا ہے۔ شاید ابھی وہ مزید نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کو تو فوری طور پر ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنا چاہئے تھا،چلیں اگر یہ نہیں ہوا تو اب ٹیم مینجمنٹ ہی کوانہیں گراؤنڈ سے باہر بٹھا کر کھیل دیکھتے رہنے کا ’’سُکھ‘‘ پہنچانا چاہئے۔ ٹیم میں شامل کیا تو وہ خود بھی دُکھی ہوں گے اور ٹیم کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی کریں گے۔یونس خان کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ اچھا کھلاڑی ہے اور اس کا ریکارڈ بھی بہتر ہے، لیکن یہ ٹیسٹ کرکٹ کے لئے ہے کہ اس کا انداز اور ریکارڈ بھی کھیل کے اِسی شعبہ سے وابستہ ہے۔ ایک بار پہلے بھی ان کو ایک روزہ سیریز میں شامل نہیں کیا گیا تھا، لیکن وہ پھر اپنے اثرو رسوخ اور شاہد خان آفریدی کی ملی بھگت کے بعد واپس ٹیم میں آئے، لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا، اس کے باوجود وہ ایک سازشی گروپ کے ساتھ ورلڈکپ کی ٹیم میں آئے اور کسی نوجوان کھلاڑی کا حق مارا۔قدرت نے ان کو کامیاب نہیں ہونے دیا تو اب انہوں نے بعداز خرابی بسیار یہ فیصلہ کیا ہے، حالانکہ بہتر یہ ہے کہ کھلاڑی اچھے وقت پر خود ہی کنارہ کش ہو۔شاہد آفریدی تو ٹی20کے کپتان بن کر مطمئن ہو گئے۔مصباح الحق ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے وہ بھی صرف ٹیسٹ کھیلیں گے۔اب کرکٹ بورڈ پر بہت بھاری ذمہ داری اور وقت آنے والا ہے۔ ایک تو ورلڈکپ کے دوران ٹیم اور ٹیم مینجمنٹ کے حوالے سے تحقیق اور اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔خود بورڈ کے اندر صفائی لازم ہے،جبکہ مستقبل کے لئے ٹیم بنانا اور ایک روزہ میچوں کے لئے نئے کپتان کا انتخاب شامل ہے۔ بورڈ کو اس پر پورا اترنا ہو گا۔

مزید : اداریہ