پاکستان آرمی ایکٹ(ترمیمی) آرڈیننس 2015ء

پاکستان آرمی ایکٹ(ترمیمی) آرڈیننس 2015ء

صدر پاکستان ممنون حسین نے پاکستان آرمی ایکٹ (ترمیمی) آرڈیننس 2015 ء پردستخط کر دیئے۔اس آرڈیننس کے تحت فوجی عدالتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا،فوجی عدالتوں کے سربراہان ، پراسیکیوٹرز، وکلاء صفائی اور گواہوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ دہشت گردی سے متعلق مقدموں کی سماعت کے لئے فوجی عدالت ان کیمرہ اور خفیہ سماعت کا حکم جاری کر سکتی ہے اوراس کے علاوہ اسے ویڈیو لنک اور اس جیسی دوسری جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔ اہم بات یہ ہے کہ ماضی کے جرائم پربھی اس قانون کا اطلاق ہو سکے گا۔آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری وزیراعظم کی ایڈوائس پر جاری کی گئی۔

ہر پاکستانی کے ذہن پرسولہ دسمبر 2014ء انمٹ نقوش چھوڑ گیا ہے،پشاور میں دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کا خون بہا کر پوری قوم کو جھنجوڑ ڈالا۔ہمارے اہلِ سیاست و عسکری قیادت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے اور وہ کوئی بھی لمحہ ضائع کئے بغیر متحد ہو گئے، ایک میز پر بیٹھ گئے، سب یک آواز ہو گئے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے سب نے مل بیٹھ کر قومی ایکشن پلان مرتب کیا۔یہ ایکشن پلان بیس نکات پر مشتمل ہے، ایکشن پلان بننا تو ایک مرحلہ تھا، لیکن سب سے کٹھن مرحلہ اس کا نفاذ ہے۔ایکشن پلان کے حوالے سے متعدد اقدامات تو کئے جا چکے ہیں، انسداد دہشت گردی فورس بھی دو صوبوں میں بن چکی ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔اِسی ایکشن پلان میں دہشت گردوں کے ’’سپیڈی ٹرائل‘‘ کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا،یہ ایک کڑوا گھونٹ تھا جو سب ملکی مفاد میں پینے کو تیار ہو گئے تھے،ہنگامی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے اکیسویں آئینی ترمیم عمل میں لائی گئی اور اب آرمی ایکٹ میں ترمیم پر بھی دستخط ہو گئے ہیں،اس آرڈیننس کو پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2015 ء کا نام دیا گیا ہے۔فوجی عدالتوں کی میعاد دو سال مقرر کی گئی ہے جو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کریں گی۔

فوجی عدالتیں بنانے کا بنیادی مقصد ’’سپیڈی ٹرائل‘‘ ہے۔اس آرڈیننس کے تحت فوجی عدالتوں میں پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے والے ہر شخص پر کیس چلایا جا سکے گا،تفصیلاً بات کریں تو اس قانون کے تحت ہر اس شخص پر مقدمہ چلایا جائے گا جس کا تعلق کسی دہشت گرد گروہ سے ہو اور وہ دین کے نام پر ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے، پاک فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنائے ، سول و ملٹری تنصیبات پر حملہ کرے ،جس کے پاس بارودی مواد ہو یا وہ اس کی نقل و حمل میں معاون کار ثابت ہو،خود کش جیکٹیں اور ہتھیار رکھنے والاہو، دہشت گردی کے حملے میں معاونت کے لئے گاڑی بنائے یااسے استعمال کرے، غیر قانونی کام کے لئے کسی ملکی و بیرونی ایجنسی سے فنڈنگ لے یا پیسے دے، کسی بھی فرقے یا مذہبی اقلیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے،مذہب یا فرقے کے نام پراغواء برائے تاوان،کسی کو بھی زخمی یا قتل کرے اوریا پھر پاکستان میں خوف یا دہشت پھیلانے کی کوشش کرے۔اس وقت تک ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم ہو چکی ہیں، جن میں سے تین پنجاب میں، تین خیبرپختونخوا، ایک بلوچستان اور دو سند ھ میں بنائی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صدر نے آزاد کشمیر اور فاٹا میں بھی فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف مختلف کونوں سے صدائیں بلند ہوئیں، وکلاء بھی سراپا احتجاج نظر آئے ۔سب کے جذبات اپنی جگہ، لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے ہاں انصاف کی فراہمی میں مشکلات ہیں، سالہا سال کیس چلتے ہیں پھر بھی ان کا فیصلہ نہیں ہو پاتا،ملزم ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں، بعض معاملات میں عدالتیں دباؤ کا شکار بھی ہو جاتی ہیں اورہم اس وقت جن حالات میں گھرے ہیں وہاں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو جلد از جلد سزا دینے کویقینی بنانا از حد ضروری ہے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم ایک اچھا اقدام ہے،فوجی عدلتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے، اس سے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔مقدمے کی سماعت کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال معاون ثابت ہو گا، ویسے بھی پاکستان کے قانون شہادت آرڈر1984ء کے آرٹیکل 164 کے تحت ایسا کوئی بھی ثبوت جو جدید ٹیکنالوجی یا ڈیوائس کے استعمال سے بنا ہووہ عدالت میں قابل قبول ہوتا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ دہشت گردی کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، جن کو کاٹ ڈالنا ہرگز آسان نہیں ہے، معمولی قدامات کر کے غیر معمولی حالات سے نمٹا نہیں جا سکتا۔اس آرڈیننس کے منظور ہونے کے بعد باقی ماندہ انتظامات بھی مکمل کر لینے چاہئیں تاکہ لوگوں کو اس کے نتائج نظر آنا شروع ہو جائیں۔ فوجی عدالتیں مستقل اہتمام نہیں ،یہ صرف دو سال کے لئے بنائی گئی ہیں، اس لئے اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں اپنے عدالتی نظام کو مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے ، ضابطے بنانے چاہئیں تاکہ بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور ہمیں پھر کبھی دل پر پتھر رکھ کرایسے مشکل فیصلے کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

مزید : اداریہ