گورنمنٹ شاہدرہ ہسپتال مسائل کا گڑھ بن گیا، طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر

گورنمنٹ شاہدرہ ہسپتال مسائل کا گڑھ بن گیا، طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر

 لاہور(جاوید اقبال ، تصاویر: ذیشان منیر)گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ کی عمارت محکمہ صحت کے حوالے کرنے سے قبل ہی دراڑوں کا شکار ہو گئی ہے چھتوں میں بھی دراڑیں پڑ گئی ہیں ،حالیہ بارشوں سے چھتوں سے پانی آپریشن تھیٹر اور وارڈوں میں داخل ہو گیا دوسری طرف ہسپتال میں ریڈیالوجی ایکسرے، الٹراساؤنڈ کے ماہر ڈاکٹرزنہ لگائے جانے سے کروڑوں روپے کی مشینری کو زنگ لگ رہا ہے،کروڑوں روپے مالیت سے لگائی جانے والی لفٹیں 3سال بعد بھی نہ چلائی جا سکیں جس کے باعث مریضوں کو مقامی سطح پر سہولیات میسر نہیں آ رہیں،امراض قلب، ای این ٹی، آرتھو پیڈک سرجری سمیت11 اہم شعبہ جات سپیشلسٹ ڈاکٹرز سے محروم ہیں جبکہ جونیئر ڈاکٹرز مریضوں پر تجربات کرتے ہیں زیادہ تر وارڈوں میں نرسیں ہی ڈاکٹروں کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں جو ڈاکٹرز موجود ہیں وہ دوپہر بارہ بجے سے قبل مریضوں کو گیٹ کیپروں اور آیا کے حوالے کرکے رفوچکر ہوجاتے ہیں ہسپتال ملازمین کے دوگروپوں میں تقسیم ہوچکا ہے دونوں گروپ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں یہ انکشافات گزشتہ روز ہسپتال کے سروے کے دوران سامنے آئے جہاں تک کے مذکورہ ہسپتال کو آج تک ریگولر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تک نہیں مل سکا بجٹ اینڈ اکاؤنٹس آفیسر بھی نہیں جبکہ سوشل ویلفیئر آفیسر کی سیٹ موجود ہی نہیں جس کے باعث نام نہاد زکوٰۃ کمیٹی ہسپتال کو چلارہی ہے سروے کے دوران بتایا گیا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ سوا دو ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہوا ابھی تک دو منزلوں میں ہسپتال شروع کیا گیا ہے جو عمارت سی اینڈ ڈبلیو نے تعمیر کی ہے اس کی تعمیر میں گھپلے کئے گئے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہسپتال کے در و دیوار بارش کے دوران ٹپکنا شروع ہوجاتے ہیں حالیہ بارشوں میں بالائی چھتٹپکناشروع ہوگئیں جبکہ عمارت کی دیواروں میں درجنوں مقامات پر دراڑیں پڑچکی ہیں فرشوں پر لگائی گئی ٹائلیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کھڑکیوں پر لگائی گئی جالیاں بھی ٹوٹ گئی ہیں دوسری طرف ہسپتال کے حالات دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ جس مقصد کے لئے ہسپتال بنایا گیا ہے وہ مقصد فوت ہوچکا ہے کروڑوں روپے مالیت کے سی ٹی سکین الٹرا ساؤنڈ ایکسرے کرنے جیسی مشین لگائی گئی ہے جو ریڈ یالوجسٹ نہ ہونے سے بند پڑی ہیں نئی سی ٹی مشین موجود ہے مگر ریڈلوجسٹ نہ ہونے سے رپورٹس تیار نہیں کی جاسکتی جس کی وجہ سے یہ ٹیسٹ ہی نہیں ہوپاتا ایمرجنسی میں حادثات کا شکار ہوکر آنے والے مریضوں کو بھی سی ٹی سکین کی سہولیت میسر نہیں ، نیوروسرجری کا رڈیک سرجی کارڈیالوجی کے شعبہ جات بھی سینئر ڈاکٹروں سے خالی پڑے ہیں گیارہ شعبہ جات میں کنسلٹنٹ کی تقرری عمل میں نہیں آسکی جس کے باعث یہ ہسپتال مریضوں کا پوسٹ آفس بن کر سامنے آیا ہے یہ واحد ہسپتال ہے جہاں 3 سالوں سے ریگولرایم ایس ہی تعینات نہیں جاسکا، سروے کے معلوم ہوا کہ آئی، ای این ٹی ،میڈیسن،گائنی سمیت 12 شعبہ جات سے سینئرز ڈاکٹر دوپہر12 بجے ہی غائب ہوجاتے ہیں جبکہ قائم مقام ایم ایس ڈاکٹر مشتاق بھی موقع پر سے غائب تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1