متعدد شوگر ملوں نے کاشتکاروں کو ادائیگیاں روک دیں

متعدد شوگر ملوں نے کاشتکاروں کو ادائیگیاں روک دیں

 لاہور(کامرس رپورٹر) پنجاب حکومت کی طرف سے کاشتکاروں کو گنے کی فوری ادائیگیوں کے سخت احکامات کے باوجود صوبہ کی متعدد شوگر ملوں نے کرشنگ سیزن کے دوران ہی کاشتکاروں کو گنے کی ادائیگیاں روک لیں جس کی وجہ سے گنے کے کاشتکار شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں اور انہوں نے شوگر ملوں کو گنے کی سپلائی بھی روک دی ہے جس کے باعث ہزاروں ایکڑ پر کھڑی گنے کی فصل خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ صوبہ کی دیگر شوگر ملز کی طرف سے بھی کاشتکاروں کا استحصال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے کاشتکاروں نے شوگر ملز کو سپلائی بند کر دی ہے جبکہ سپلائی کی بندش کی وجہ سے کاشتکار ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی اپنی فصلوں کے ممکنہ طور پر تباہ ہونے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی ان کو گنے کا معاوضہ کم مل رہا ہے جس کی وجہ سے گنے کی کاشت و پیداوار متاثر ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف شوگر ملوں کی طرف سے گنے کی ادائیگیاں روک لی گئی ہیں ۔ شوگر کین گروورز ایسوسی ایشن کے کنوینئر جاوید ملک‘کسان تنظیموں اور گنے کے کاشتکاروں نے وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ کاشتکاروں کو کرشنگ سیزن کے دوران ادائیگیاں روکنے والی ملوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں فوری ادائیگیوں کا پابند بنایا جائے۔    جنرل مینیجر حسین شوگر ملز چوہدری محمد اشرف نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ کاشتکار وں کو گنے کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہے تا ہم انہیں ادائیگی جلد شروع کر دی جائے گی۔کین کمشنر پنجاب ناصر محمود نے کاشتکاروں کو عدم ادائیگیوں کے حوالے سے’’ اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ شوگر ملوں کی طرف سے ادائیگیاں نہ ہونے کی شکایات آتی رہتی ہیں جن پر متعلقہ شوگرمل کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے اور اگر وہ 14روز کے اندر ادائیگی یقینی نہ بنائے تو اس مل کے خلاف شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں جو شوگر ملز کاشتکاروں کو گنے کا معاوضہ بروقت ادا نہیں کرینگی ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ (lh/

مزید : کامرس