گندم ایکسپورٹ پالیسی نہیں بلکہ سپورٹس پالیسی ہے:ڈاکٹر بلال صوفی

گندم ایکسپورٹ پالیسی نہیں بلکہ سپورٹس پالیسی ہے:ڈاکٹر بلال صوفی

 لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سینئر رہنما ، سابق چیئرمین ڈاکٹر بلال صوفی نے حکومت کی گندم ایکسپورٹ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’سپورٹس پالیسی‘‘ قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس ’’سپورٹس پالیسی‘‘ میں صرف 11 کھلاڑی کھیلیں گہ جبکہ پورے پاکستان کے باقی کھلاڑی کھیل سے باہر بیٹھ کر تماشائی کے طور پر ’’میچ ‘‘ دیکھیں گے۔ حکومت کی جاری کردہ ایکسپورٹ پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کی 900 فلور ملوں میں سے صرف 11 کھیلیں گی جبکہ باقی کھلاڑیوں کیلئے اسے شجر ممنوعہ بنا دیا گیا ہے اور قواعد و ضوابط کو اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ باقی سب لوگ تماشائی بن جائیں گے اور صرف گیارہ کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔پالیسی کے خدو خال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے ساڑھے تین کروڑ روپیہ جمع کروانے ، کم از کم ایک ہزار ٹن مقدار رکھنے اور رییبیٹ کیلئے بینک گارنٹی جیسی شرائط پر عمل فلور ملز ایسوسی ایشن کے صرف گیارہ کھلاڑی کر سکیں اور باقی پورے ملک کی انڈسٹری کیلئے ان شرائط پر پورا اترنا نا ممکن ہوگا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی ہے کہ اس ’’سپورٹس پالیسی ‘‘کو ختم کر کے زمینی حقائق پر مبنی گندم ایکسورٹس پالیسی بنائی جائے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایکسپورٹ پالیسی ہمیشہ مئی یا جون میں بننی چاہیے اتنی کم مدت میں ایکسورٹ نا ممکن ہو جائے گی۔

مزید : کامرس