سکولز این جی اوز کو دینے سے تعلیم پر منفی اثرات ہونگے،عباس صدیقی

سکولز این جی اوز کو دینے سے تعلیم پر منفی اثرات ہونگے،عباس صدیقی

 لاہور (ایجوکیشن رپورٹر ) اسلامی تحریک طلبہ پاکستان کے قائدین غلام عباس صدیقی،شاہد نذیر،ذکی الدین نے پنجاب حکومت کی طرف سے پنجاب کے متعدد ہائر سیکنڈری سکولز غیر سرکاری این جی اوز کو دینے کے خلاف اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ تعلیم دشمنی پر مبنی ہے اس اقدام سے پاکستان کے نظام تعلیم پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے چھ سو ہائر سیکنڈری سکولز میں سے تین سو ہائر سیکنڈری سکولز کو این جی اوز کے حوالے کرنے کا عزم کرلیا ہے جسے عملی جامہ پہنانے کے لئے مشاورت کا عمل جاری ہے      ایک خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کے اس حوالے سے این جی اوز کے ساتھ معاملات چل رہے ہیں اور جیسے ہی اس حوالے سے تمام شرائط طے پا جائیں گی تو لاہور سمیت پنجاب دیگر شہروں کے ہائر سیکنڈری سکولز این جی اوز کے حوالے کر دئیے جائیں گے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا نظام تعلیم قومی زبان،اسلامی اقداروروایات کا امین ہونا چاہیے ۔اپنا نظام تعلیم بچانے ،دنیا میں ترقی حاصل کرنے کے لئے حکومت پاکستان کو قومی زبان میں اسلامی اقداروروایات کا امین نصاب و نظام تعلیم رائج ،غیر ملکی این جی اوز کے حوالے تعلیمی ادارے کرنے کی بجائے اپنے ذاتی وسائل بروئے کار لا کر شرح خواندگی میں اضافے کے لئے اقدام کرنا ہوں گے     سلامی تحریک طلبہ کے قائدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے حالیہ اقدام(تعلیمی ادارے غیر سرکاری این جی اوز کودینا) علم دوستی نہیں بلکہ علم دشمنی پر مبنی ہیں جن کا ادراک حکومت کو لازمی ہونا چاہیے۔اس کے بغیر ہم ایک متوازن ،ترقی یافتہ،علم دوست پاکستان کی تشکیل نہیں کر سکتے اپنی قومی زبان کو ترجیح دی غیروں کی زبان کو اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیا تب ترقی ملی پاکستان کو بھی اسی وقت ترقی نصیب ہوگی جب اپنا نظام تعلیم خود اپنے اسلامی نظریہ تعلیم کے مطابق نہیں ڈھال لیتا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4