سنی علماء کی بلا وجہ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند کیا جائے،مذہبی رہنما

سنی علماء کی بلا وجہ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند کیا جائے،مذہبی رہنما

لاہور(نمائندہ خصوصی)مذہبی، سیاسی جماعتوں اور علماء ومشائخ کا ایک نمائندہ اجلاس زیر صدارت مولانا حافظ خادم حسین رضوی ہوا۔ جس میں پیر محمد افضل قادری، صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، صاحبزادہ سید مختار رضوی، پیر سید محمد صفدر شاہ گیلانی، پیر سید شاہد حسین گردیزی، مفتی پیر سید مصطفی رضوی، مولانا قاری محمد زوار بہادر، پیر سید وسیم الحسن نقوی، صاحبزادہ پیر سید علی ذوالقرنین نقوی، پیر سید محفوظ مشہدی، پیر سید ادریس شاہ زنجانی، جسٹس میاں نذیر اختر، محمد عارف اعوان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، شاداب رضا قادری، پیر سید معصوم نقوی، بلال سلیم قادری، علامہ احمد علی قصوری، سردار محمد خان لغاری، رشید احمد رضوی، پیر مشتاق احمد شاہ اظہری، قاری محمد افضل، مولانا ضیاء اللہ رضوی، محمد صدیق قادری ، مجاہد عبدالرسول خان اور دیگر نے شرکت کی۔      اس موقع پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سنی علماء کی بلا جواز پکڑ دھکڑ بند کی جائے۔۔   ۔ ۔ قاضی مظفر اقبال رضوی، ارشد تنویر القادری اور دیگر علماء کو رہا کیا جائے۔ مساجد سے سپیکر اتارنا مداخلت فی الدین ہے۔ ایکشن پلان کو صرف دہشت گردی اور دہشت گردوں تک محدود کیا جائے حکومت ایکشن پلان سے ضرب عضب آپریشن کو نقصان پہنچانے کی گہری سازش ہورہی ہے۔ آپریشن کے نام پر ناجائز کریک ڈاؤن غیر ملکی ایجنڈا ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر سنی مجلس عمل تشکیل دی گئی جس کے چیئرمین پیر محمد افضل قادری ہونگے۔۔  ۔ ۔   ۔ جبکہ اہلسنت کی تمام ملک گیر جماعتوں علماء ومشائخ کے نمائندے سنی مجلس عمل میں شامل ہونگے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واجب القتل اور مرتد ہیں۔قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف جو محاذ کھول رکھا ہے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4